ڈبل ڈیکر بس میں یورپ کا سفر کرنے والے نوجوانوں کی کہانی

The gang in front of the bus in Pisa

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنFrom Scotland to Istanbul, via Pisa
    • مصنف, فرانسیسکا ولیمز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سن 1968 میں موسم گرما کچھ دوستوں کے ایک گروپ نے مل کر ایک ڈبل ڈیکر بس کو تھوڑا بدل دیا اور اسے مشرقی یورپ کے سفر پر لے گئے۔ اس سفر کو سکاچ وہسکی بنانے والی دو کمپنیوں نے سپانسر کیا اور اس کے دوران ان نوجوانوں کا سامنا سوویت روس کے ٹینکوں، رومانیہ میں بیئر کی قلت اور ایک خطرناک پہاڑی راستے سے ہوا۔

یہ ریڈنگ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک پرانی بس تھی، ماڈل اے ای سی ریجینٹ میک 11۔ اس ماڈل کا اب اپنا وکی پیڈیا پیج اور کئی وفادار مداح بھی ہیں۔ اس وقت یہ بس خاصی پرانی ہو گئی تھی اور سکاٹ لینڈ کے ایک چھوٹے سے شہر سپِٹل فیلڈ میں ایک گیراج کے باہر دوسری کئی پرانی اور بے کار گاڑیوں اور بسوں کے ساتھ کھڑی تھی۔

ایین جیک اور ان کے دوست ڈیو سٹِک لینڈ نے گرمیوں میں ایک ’روڈ ٹرپ‘ کا مبہم سا منصوبہ بنایا تھا۔ مئی 1968 میں ایک دن گیراج کے سامنے سے گزرتے ہوئے بسوں پر نظر پڑی تو ایسے ہی رک کر بس کی قیمت پتا کرنے کا سوچا۔

سنگل ڈیکر بسیں بہت مہنگی تھیں، اور ان کی قیمت 400 پاؤنڈ تک تھی۔ مگر جب وہ گیراج سے جانے لگے تو وہاں کام کرنے والے فورمین نے انھیں بلایا اور کہا کہ وہ انھیں کم طلب والی ایک ڈبل ڈیکر بس آدھی قیمت میں بیچنے کو تیار ہے۔

ایین کہتے ہیں کہ مگر اتنی بڑی بس خریدنا تو نہایت ہی ’احمقانہ خیال‘ تھا، اس لیے انھوں نے معذرت کر لی اور چلے گئے۔ ’لیکن پھر ہم واپس یونیورسٹی پہنچے اور بات ہر طرف پھیل گئی اور اچانک ہر کوئی ہمیں ڈبل ڈیکر خریدنے کے لیے پیسے دینے لگا۔‘

اب تو روڈ ٹرپ ضرور ہو رہی تھی۔ ساؤتھ ہال میں بننے والی اس برطانوی بس کی ملاقات یورپ سے ہونے والی تھی۔

Map of the entire route

،تصویر کا ذریعہGoogle

،تصویر کا کیپشن1968 میں گوگل میپس بھی نہیں ہوا کرتے تھے

بس کی سیٹوں کو نکال کر گدوں کی جگہ بنائی گئی جو ان کی یونیورسٹی نے دیے۔ قالینوں کے ٹکڑے حاصل کیے گئے، اور وینڈی سکاٹ نے، جو اس سفر میں شامل درجن بھر ساتھیوں میں سے ایک تھیں، اوپر کی کھڑکیوں اور لڑکیوں کے سونے کی جگہ کے لیے پردے بنائے۔ اس سفر میں پانچ لڑکیاں شامل تھیں، اور کون کہاں سوئے گا اس میں مقامی میڈیا کو خاصی دلچسپی تھی۔

ایک چھوٹا سا ککر، اور نہانے کے لیے ایک عارضی شاور لگایا گیا جس کے لیے پانی انجن کے کولنگ کے نظام کے ذریعے گرم کیا جاتا تھا۔

ظاہر ہے بیت الخلا نہیں تھا، صرف کافی سارا ٹائیلیٹ رول۔ سب جانتے تھے کہ بیت الخلا والا کام کھلے آسمان کے نیچے ہی کرنا پڑے گا۔

آیا صوفیہ کے باہر بس پارک

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشناستنبول کو توقع نہیں تھی کہ برطانیہ سے کوئی ڈبل ڈیکر وہاں آ سکتی ہے

"وینڈی، جو اب نیو کاسل میں رہتی ہیں، کہتی ہیں "ہم نے کوشش کی کہ اس بس کو آرام دہ بنائیں، ایسا بنائیں کہ اس میں رہا جا سکے، کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہمیں دس ہفتوں کے لیے اسی میں سونا ہوگا، ہوٹل وغیرہ کا تو سوال ہی نہیں تھا۔"

کبھی کبھی اگر موسم اجازت دیتا تو وہ باہر بھی سو جاتے۔ وینڈی کہتی ہیں، "صبح آپ کی آنکھ کھلتی، پہاڑی سڑک پر، آپ چوٹی تک چل کر جاتے اور نیچے دیکھتے جہاں ایین پائیپس بجا رہا ہوتا تھا۔ بیگ پایپس۔ بہترین! زندگی سے آپ کو اور کیا چاہیے؟"

Doing the Eightsome Reel on board the ferry from Dover to Dunkirk

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنجب بس کو جہاز پر لا کر انگلش چینل سے گذرا جا رہا تھا جو نوجوانوں نے فیری پر ڈانس کیا

اس بات کا صحیح اندازہ لگا پانا کہ اس سفر میں کتنے نوجوان شامل تھے اتنا آسان نہیں۔ لیکن وینڈی کو یہ ضرور یاد ہے کہ ڈوور سے ڈنکرک تک فیری پر روایتی ناچ کے لیے درکار کم سے آٹھ لوگ تو ضرور تھے۔ وینڈی کو تیرہ لوگ یاد ہیں، ایین کے مطابق شاید پندرہ۔

لیکن یہ بات اتنی اہم نہیں کیونکہ ویسے بھی وہ جہاں جاتے وہاں سے لوگ ان کے ساتھ شامل ہو جاتے، تو کل تعداد بدلتی رہتی۔

میونخ میں چھٹیوں پر آیا ایک امریکی فوجی بس دیکھ کر اتنا حیران ہوا کہ اس نے اپنی سائیکل اس پر چڑھا دی، اور پھر بس ہی میں رہ گیا۔ ویانا میں دو آسٹریائی شہری ان کے ساتھ ہو لیے اور پھر مہینہ بھر ان کے ساتھ ہی رہے۔ ان میں سے ایک جن کا نام کلیم تھا، شیف نکلے، اور بس کے پیچھے بنے "کچن" میں طرح طرح کے پکوان بنانے لگے۔

وینڈی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، "ہم نے مسلز کھائے، مرغی، اوہ، اتنا مزہ دار کھانا۔"

مسلز وہ خود سمندر سے نکالتے اور زندہ مرغیاں بازار سے لاتے جو پھر بس میں ادھم مچاتیں۔

روم پہنچنے سے دو دن پہلے کلیم نے اپنی امی کے لیے تحفے کے طور پر کچھ سنیلز خرید کر ایک بڑی بالٹی میں ڈال دیے۔ اگلے دن وہ بس کے ایک ایک کونے تک پہنچ چکے تھے۔

Wendy Scott lying on a mattress on the beach by the Black Sea

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنوینڈی نے اپنی ڈائری میں اس تصویر کو کھلے آسمان کے نیچے سونے کی’عیاشی‘ کا نام دیا ہے

شمالی رومانیہ میں کلج کے مقام پر انہیں ایک برطانوی مسافر نے روکا۔ پتا چلا کہ وہ بیئر حاصل کرنے میں ماہر تھا۔ ان دنوں رومانیہ میں قومی سطح پر بئیر کی قلت تھی۔

یہی مشکل بخارسٹ میں بھی پیش آئی تو وہ اس کے لیے تیار تھے۔ ایین کہتے ہیں، "تب تک ہم سمجھ گئے تھے کہ بئیر خریدنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کہ آپ بئیر بنانے والی فیکٹری کے باہر تب تک انتظار کریں جب تک بئیر سے لدا ٹرک باہر نہین آ جاتا۔ پھر اس کا دکان تک پیچھا کریں، اور دکان پر کڑک نوٹ دکھا کر خرید لیں۔"

Hanging out of the windows (l-r): Sarah Lowe, Wendy Scott, Rosemary Stanning. Just visible in the bus: Carol Cave and Margaret Hardisty (Hills). Outside: Roland Lisker, Klemens Hedenig, Dick Moore, Bryan Powell, Ian Jack, Dave Stickland, Mike Hughes, Nigel Hungerford, Sandy Scott

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

نوجوانوں کے اس گروپ نے سکاچ وہسکی بنانے والی کمپنی ٹیچرز کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ انہیں بس پر ان کی وہسکی کے اشتہار کے بدلے میں 79 پاونڈ دے دے، جو آج کل کے حساب سے تقریبا 1,400 پاونڈ بنتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کمپنی سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ انگریزی، فرینچ اور جرمن میں لکھے اشتہاری پیمفلیٹ بھی تقسیم کریں گے۔ ایک دوسری وہسکی بنانے والی کمپنی، اینسلی، جو اب ختم ہو چکی ہے، نے بھی انہیں دس پاونڈ دیے۔

وینڈی کہتی ہیں، "مجھے یاد ہے جب ہم جرمنی میں موٹروے پر تھے، اور ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ہم نے پیمفلیٹ تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ لوگوں کو لگا ہم پاگل ہیں۔"

The bus in Vienna by the parliament building on the Dr Karl Renner Ring

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنWhisky export trade agreement, 1960s-style
The bus parked up and leaning in Pisa, Italy

،تصویر کا ذریعہIan Jack

،تصویر کا کیپشنلیننگ ٹاور کے قریب بس کو بھی اسی انداز میں پارک کیا گیا جیسے ٹاور جھکا ہوا ہے

ٹریفک میں پھنسنے کے کچھ واقعات تو خیر خود اپنی غلطی کی وجہ سے بھی پیش آئے۔

سپلٹ میں ایک پاوور کیبل سے ٹکرا گئے، جس وجہ سے مقامی ٹرانسپورٹ کا نظام ہی ٹھپ ہو گیا۔ ایین کہتے ہیں، "بجلی سی چمکی، اور زور سے آواز آئی اور ساتھ ہی سڑک پر چلنے والی تمام ٹرالی بسیں رک گئیں۔ مجھے لگا شاید ہمارا اس وقت وہاں سے نکل ہی جانا بہتر تھا۔"

استنبول میں بس کو چلانا کسی "برے خواب" جیسا تھا۔ تنگ گلیاں، بہت سارے لوگ، ٹانگے، ٹرالیاں اور عمارتوں سے لٹکتی بالکونیاں۔ ایک سڑک تنگ سے تنگ تر ہوتی گئی جب تک کہ آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں رہا۔ ایین کو یاد ہے کہ کس طرح چڑھائی پر بس الٹی چلا کر انہیں اس سڑک سے نکلنا پڑا اور اس وجہ سے ٹریفک کس قدر متاثر ہوا۔

Istanbul 1952

،تصویر کا ذریعہRoger Viollet/Getty Images

،تصویر کا کیپشناستنبول میں ڈبل ڈیکر بس کو چلانا ایک ڈورونے خواب سے کم نہیں تھا

اب تک بس کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی۔ یورپ کے لیے اس وقت تک ڈبل ڈیکر جتنی اونچی بسیں نہیں ہوا کرتی تھیں، چنانچہ نیچے جھولتی شاخوں اور سرنگوں سے بس نے کافی مار کھائی۔

ایئن بتاتے ہیں کہ جرمنی میں نورمبرگ جاتے ہوئے بس ایک پُل کے نیچے پھنس گئی اور ایسی، کہ دوسری جانب صرف ایک سینٹی میٹر ہی باہر نکل پائی۔ چنانچہ انھوں نے ٹائروں میں سے ہوا نکالی، بس کو پیچھے اور آگے کیا۔ ایئن اب اپنے آبائی شہر کیمبرج میں ایک پھرتیلی سی گاڑی چلاتے ہیں۔

The bus on the very edge of the road on the Cakor Pass, Yugoslavia (Montenegro)

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنمونٹینگروں (یوگوسلاویہ ) کے کیوکر درہ کی اونچائی ریڈنگ سے 18000 فٹ بلند ہے

پھر سفر کے دوران اگست میں ایک ایسا دن بھی آیا جب ایین اور بس دونوں ہی ایک پہاڑ سے گرتے گرتے بچے۔ سڑک بہت تنگ تھی۔ ایک طرف سے چٹان سے پتھر نکل رہے تھے، جن کی وجہ سے بس کو کھائی کی طرف جانا پڑ رہا تھا۔

ایین کی دوست مارگریٹ ہلز کہتی ہیں، "مقامی لوگ بس کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور ہماری منتیں کرنے لگے کہ آگے نہ جاؤ۔ سڑک کیا تھی، پتھر اور کنکر، بہت ہی تنگ، ایک طرف چٹان سے نکلتے ہوئے پتھر اور دوسری طرف گہری کھائی۔"

لیکن جہاں تک ایین کو یاد ہے سب اتنا بھی ڈرامائی نہیں تھا، اور انہیں اس وقت لگا تھا کہ آگے بڑھنا محفوظ ہوگا۔ ہاں کچھ لوگ ہاتھ ضرور ہلا رہے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ، "ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا اس لیے ہم نے اس بارے میں زیادہ نہیں سوچا۔"

وینڈی بس سے اتر گئیں اور باہر سے دیکھتی رہیں۔ وہ کہتی ہیں، "میں بہت ڈر گئی تھی۔ بہت زیادہ۔ ہمیں ڈر تھا کہ بس کھائی میں نہ گر جائے۔"

Wendy Scott standing by the side of the E27 north of Pec (Peja), now in Kosovo.

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنوینڈی سے بس سے اتر گئیں تھیں۔ انھیں لگا کہ بس کھائی میں گر جائے گی۔

اس وقت کے یوگوسلاویا کے کاکور پاس سے واقف تمام لوگ اس ڈر کی وجہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہ کوسووو سے گزرنے والی ایک خطرناک اور دشوار گزار سڑک ہے۔ لیکن اس کا نام ای 27 ہے جس کی وجہ سے ایین کو لگا تھا کہ یہ ایک بڑی سڑک ہوگی۔

سڑک دیکھتے ہی دیکھتے پتھر کنکر کا ٹریک بن گئی، خطرناک موڑ اور کھائی۔ ایین کہتے ہیں کہ، "اس دن ہمارے کچھ لادین ساتھیوں نے بھی دعائیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ اگر مجھے پہلے پتا ہوتا کہ وہ سڑک کتنی خطرناک ہے تو میں وہاں کبھی نہ جاتا۔"

Left to right, Dick Moore, Mike Hughes, Nigel Hungerford

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشناس تصویر کے پیچھے چھپی ہوئی ایک کہانی ہے۔ ایئن کہتے ہیں کہ ڈک عام حالات میں پھولوں کے بارے میں کتاب کا مطالعہ والے نہیں تھے

خیر وہ بچ گئے۔ دن بھر ڈرائیو کر کے جہاں بھی شام ہوئی، وہاں بس کو پارک کیا، بھلے ہی وہ ساحل سمندر ہو یا سڑک کا کنارا۔ ایک دفعہ میونخ کے باہر ایک جنگل میں بس لگا دی، جو بعد میں فوج کی فائرنگ رینج نکلی۔

انہوں نے اتنی نئی جگہیں دیکھیں کہ وینڈی کو سب یاد بھی نہیں۔ ان کی ڈائری میں ویانا کے مشہور سینٹ سٹیون کتھیڈرل میں ایک کنسرٹ پر جانے کا واضح ذکر ہے لیکن انہیں یہ یاد بالکل نہیں۔

The map Ian Jack used to navigate round Eastern Europe, with route marked

،تصویر کا ذریعہJohn Bartholomew & Son

یہ سفر دراصل ایین کا آئیڈیا تھا۔ وہ اس سے ایک سال قبل اس راستے کے کچھ حصوں کا سفر کر چکے تھے۔

مارگریٹ جو اب بارکشائر میں رہتی ہیں، کہتی ہیں کہ ایین کو تمام بہترین جگہیں پتا تھیں۔ "ہم بس میں گرمی کی وجہ سے جھلس رہے ہوتے تھے اور اچانک وہ ایک خوبصورت جھیل کے قریب بس روک دیتے تھے جس کے ٹھنڈے پانی میں ہم کود جاتے تھے۔ نہ جانے انہیں یہ سب کیسے پتا تھا۔ تب تو نہ گوگل تھا اور نہ ہی وائی فائی۔"

ایین اپنی اتنی تعریف بجا نہیں سمجھتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ اچھے نقشے تھے۔

Ian Jack playing bagpipes

،تصویر کا ذریعہ1968 CRD253 Group

،تصویر کا کیپشنیہ طالبعلم جہاں بھی گزرتے لوگ ان کی طرف متوجہ ہو جاتے

انہیں پیسوں کے بارے میں ذرا محتاط رہنے کی ضرورت تھی کیونکہ ساٹھ کی دہائی میں معیشت کو مستحکم رکھنے کی کوششوں کا مطلب یہ تھا کہ برطانوی مسافر صرف پچاس پاونڈ ہی ملک سے باہر لے جا سکتے تھے۔

لیکن انہیں جلد اندازہ ہو گیا کہ مغربی طرز کے جینز اور بال پوائنٹ پین نقدی کا کام کر سکتے تھے۔ ساتھ ہی انہیں یونان میں ایک ہسپتال ملا جو خون کے عطیے کے بدلے پیسے دیتا تھا۔ ایک پائینٹ کے لیے پانچ پاونڈ سے زیادہ۔

وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ضرورت سے زیادہ پیسے خرچیں اس لیے یوگوسلاویا میں مسافروں پر لگنے والے ٹیکس سے بچنے لے لیے انہوں نے ایک طریقہ نکالا۔ یونان کے سرحدی پوسٹ کو پار کرکے وہ بس سے اتر جاتے اور یہ ظاہر کرتے کہ وہ پیدل ہی چل رہے ہیں اور لفٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، اور پھر یوگوسلاویا پوسٹ عبور کرنے کے بعد دوبارہ بس میں بیٹھتے۔

ایین کہتے ہیں، "ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ دونوں پوسٹس کے درمیان کئی کلومیٹر کا فاصلہ تھا، تو پیدل چلنے والوں کے لیے آسان نہیں تھا۔ وہ بس تک واپس پہنچے تو پسینے میں تربتر اور کافی غصے میں تھے۔"

Fans of the bus in Romania

،تصویر کا ذریعہWendy Scott

،تصویر کا کیپشنمارگریٹ کو یاد ہے کہ جب ایک بار وہ کھلے آسمان کے نیچے سو کی اٹھیں تو رومانیہ کی کچھ لڑکیوں ان کے قریب کھڑی تھیں
Newspaper clipping

،تصویر کا ذریعہScottish Daily Express

،تصویر کا کیپشنطالبعلوں کے اس یورپی دورے میں پریس نے خاصی دلچسپی لی

سرحدیں عبور کرنا بھی ہمیشہ آسان نہیں تھا۔ انہیں اکثر روک کر ان سے سوال پوچھے جاتے، ان کی تلاشی لی جاتی۔ بلغاریہ میں اہلکاروں کو شک ہوا کہ وہ سمگلنگ کر رہے ہیں اور ان کی بس کی تفصیلی تلاشی لی گئی۔

اس وقت کے آہنی پردے کو عبور کرکے ہنگری میں داخل ہونا بھی آسان نہیں تھا۔ لیکن اس کی وجوہات مختلف تھیں، جن کا اندازہ انہیں بعد میں ہوا۔ وینڈی کہتی ہیں کہ وہاں بہت بڑی تعداد میں روسی ساخت کے ٹینک دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، لیکن انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ کیا ہونے والے ہے اور وہ وہاں زیادہ دیر نہیں رکے۔

کچھ ہی ہفتے بعد 20-21 اگست کی رات کو ہنگری نے وارسا پیکٹ کے چار دیگر ممالک، پولینڈ، بلغاریہ ، مشرقی جرمنی اور سوویت یونین کے ساتھ مل کر چیکوسلاواکیہ پر حملہ کر دیا تھا۔

بس پر سفر کرنے والے یہ نوجوان آپریشن ڈانیوب سے بچ گئے۔ یہ دراصل پراگ سپرنگ کے نام سے مشہور چیکوسلاواکیہ کی طرف سے اپنے ملک کا کنٹرول کچھ حد تک سوویت روس سے واپس لینے کی چار ماہ طویل کوشش کے خلاف ایک سخت روسی فوجی آپریشن تھا۔

The Red Army and the troops of four other member countries of the Warsaw Pact (Hungary, Poland, Bulgaria and East Germany) invade Czechoslovakia, 21 August 1968

،تصویر کا ذریعہKeystone-France/Getty Images

،تصویر کا کیپشنہنگری کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹینکوں نے نوجوانوں کے اس گروہ کو پریشان کیا

لیکن تب تک ایین اور ان کے ساتھی تقریبا گھر پہنچ چکے تھے۔

وینڈی کے لیے یہ ساری زندگی رہنے والا سفر کے شوق کا آغاز تھا۔

Wendy Scott

،تصویر کا ذریعہWendy Scott

،تصویر کا کیپشنوینڈی سکاٹ کو یورپ کے اس دورے نے اتنا متاثر کیا کہ وہ ساری زندگی سیر کرتی رہی ہیں

ایین کا اس بس سے رشتہ کچھ دیر اور چلا۔ ستمبر 1968 انہوں نے اسے ایک آخری بار بیلجیئم کے شہر آلسٹ تک ڈرائیو کیا جہاں ایک شخص نے اسے خرید لیا۔ اگلے سال اسی بس نے آلسٹ کارنیوال میں پہلا مقام حاصل کیا۔

اور اگر آپ کلف رچرڑ کے مداح ہیں اور اس کہانی سے آپ کو ان کی 1963 میں بننے والی فلم "سمر ہالی ڈے" یاد آ رہی ہے، جس میں ایسے ہی ایک بس، کچھ دوست، گانا بجانا، اور خطرناک پہاڑی راستے، سب ہیں، تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ایین نے وہ فلم اب تک نہیں دیکھی۔

The bus in 1981 in Meer, near the town of Aalst in Belgium

،تصویر کا ذریعہIan Charlton

،تصویر کا کیپشناس بس کو 1981 میں برسلز میں ایک جگہ کھڑا دیکھا گیا