کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد ٹرمپ ہسپتال منتقل

امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے ایک ماہ قبل امریکی صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کووڈ 19 سے متاثر ہو گئے ہیں اور انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی اہلیہ میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر لے جانے کا فیصلہ انتہائی احتیاط کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ میں کورونا وائرس کی ہلکی علامات ظاہر ہوئی تھی اس کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ تنہائی میں چلے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے تاہم وہ حوصلے میں ہیں۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث دو لاکھ سے زیادہ امریکی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، اس جان لیوا بیماری پر صدر ٹرمپ کا رد عمل آنے والے صدارتی انتخابات میں ایک اہم نکتہ بن گیا ہے۔

انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس وقت انھوں نے سوٹ پہن رکھا تھا اور چہرے پر ماسک پہنا ہوا تھا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انھوں نے لوگوں کی نیک تمناؤں پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے میں ٹھیک ہوں لیکن ہم اس لیے جا رہے ہیں کہ چیزیں کنٹرول میں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ بھی ٹھیک ہیں۔

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق ہسپتال پہنچنے کے بعد صدر کو ایمرجنسی روم نہیں لے جایا گیا۔ بلکہ صدر کے لیے موجود مخصوص کمرے میں لے جایا گیا۔

صدر ٹرمپ کی صحت یابی کے لیے سوشل میڈیا پر مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگ نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔ سابق خاتون اول ہیلری کلنٹن نے بھی اپنے پیغام میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔

ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اپنے والد کو پیغام لکھا آپ جنگجو ہیں اور آپ اسے شکست دے دیں گے۔

سابق امریکی صدر نے بھی ٹرمپ کی صحت یابی کے لیے دعائیہ کلمات لکھے۔

کورونا سے ٹرمپ کس قدر خطرے میں؟

بی بی سی کے نامہ نگار برائے ہیلتھ اینڈ سائنس جیمز گیلیگرز کہتے ہیں کہ ایسے واضح عوامل ہیں جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ کورونا کے باعث خطرے میں ہیں۔ اس میں ان کی عمر، وزن شامل ہے۔

ٹرمپ کی عمر 74 برس ہے اور ان کا باڈی ماس انڈیکس، بی ایم آئی 30 سے اوپر ہے جس سے موٹاپا کہا جاتا ہے۔

لیکن یہ خطرنا ک ہے کہ ہم اس پر بات کریں کہ کسی بھی شخص پر یہ وائرس کس قدر اثرانداز ہو گا۔

دنیا بھر کے ممالک کے مقابلے میں امریکہ میں اس وبائی مرض سے سب سے زیادہ اموات کے باعث صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انھوں نے وباء پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں اس بارے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔

امریکی صدارتی انتخاب کی مہم کے آخری مراحل میں اب جب کہ صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا بھی اس بیماری کی لپیٹ میں آ گئے ہیں کورونا وائرس اور اس سے ہونے والے جانی اور معاشی نقصانات پر اور زیادہ شدت سے بات ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

اموات کی شرح ہمارے ملک میں سب سے کم ہے: ٹرمپ

دوسرے ملکوں کا حوالے دیتے ہوئے صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ امریکہ میں کورونا کے باعث شرح اموات قابل قدر حد تک کم ہے۔ دوسرے ممالک سے شرح اموات کا موازانہ اتنا آسان نہیں تھا کیوں کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کا ڈیٹا مختلف طریقہ سے اکھٹا کیا جا رہا تھا۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والے شہریوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھی اور مجموعی طور پر اس مرض سے اموات کی تعداد بھی دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ تھی۔

اگر آپ کسی ملک کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے اموات کی شرح دیکھیں تو امریکہ سر فہرست نہیں تھا گو کہ اس کا شمار کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں ہوتا ہے۔

کووڈ 19 سے مجموعی آبادی کے اعتبار سے اموات کی شرح کن ملکوں میں سب سے زیادہ تھی؟

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یورپ میں مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کے مریضوں کی تعداد ہمارے ملک میں مریضوں کی تعداد سے کہیں بدترین سطح پر ہے۔‘

یہ درست ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن یہ ہی کچھ امریکہ کی چند ریاستوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو کووڈ 19 کے ٹیسٹ کم کرنے کا کہا تھا: جو بائیڈن

جون میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حاضرین سے کہا تھا کہ ’میں نے اپنے آدمیوں سے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرنے کی رفتار کم کریں۔‘ لیکن اس کے بعد سے وہ اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے وبائی امراض کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر اینتھونی فاوچی نے کہا تھا کہ ان کے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک کو بھی یہ احکامات نہیں دیے گئے ہیں کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کم کیے جائیں۔

تاہم صدر نے ٹیسٹ کرنے کو ایک دو دھاری تلوار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ زیادہ ٹیسٹ کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میں ہائیڈروکسیکلوروکوئن لے رہا ہوں اور میں زندہ ہوں آپ کو کیا نقصان ہو گا': ٹرمپ

اس سال مئی میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروکسیکلوروکوئن کووڈ سے بچنے کے لیے لے رہے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ یہ دوا وائرس کے خلاف موثر ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ہی مشیر کے مشورے کے برخلاف اس دوا کے استعمال کا مسلسل پرچار کرتے رہے۔ ڈاکٹر فوچی کا جب کہ اس بارے میں کہنا تھا کہ ہر مصدقہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا اس وائرس کے خلاف موثر نہیں ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ہدایت جاری کی تھیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو یہ دوا نہیں دی جانی چاہیے اور یہ دوا بعض مریضوں میں دل کی دھڑکن بے ربط ہونے صحت کے دیگر مسائل سامنے آنے کے بعد دی گئی تھی۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (عالمی ادارۂ صحت) کہتا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دوا کووڈ 19 کا شکار ہونے والے مریضوں کے لیے علاج میں یہ کار گر ہو۔

صدر ٹرمپ نے سی ڈی سی کی فنڈنگ بند کرنے کی کوشش کی : بائیڈن

بیماریوں کے انسداد اور ان پر قابو پانے کے مراکز (سی ڈی سی) امریکہ میں وہ ادارے ہیں جو صحت عامہ کے ذمہ دار ہیں۔ ان مراکز اور صدر ٹرمپ کے درمیان کورونا وائرس کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی ہدایات اور دیگر اقدامات پر اختلاف رہا۔

جو بائیڈن جو حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار ہیں انھوں نے یہ تبصرہ جولائی میں ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا تھا لیکن اس بارے میں انھوں نے کوئی سیاق و سباق یا ثبوت فراہم نہیں کیے تھے۔

اس وقت امریکی قانون ساز کورونا وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک امدادی پیکج پر بحث کر رہے تھے اور امریکہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ صدر ٹرمپ سی ڈی سی کی فنڈنگ کم کرنے کے لیے قانون سازوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن وائٹ ہاؤس نے اس خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ جو بائیڈن کی ٹیم جھوٹ بول رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے مزید کہا گیا تھا کہ تازہ ترین بجٹ میں سی ڈی سی کے لیے مختص کی گئی رقم میں آٹھ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ درست ہے کہ سی ڈی سی کو وباء کے دوران زیادہ رقم ملی ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی اکتوبر 2020 سے شروع ہونے والے 2021 کے مالی سال کی بجٹ تجاویز میں ابتدائی طور پر کچھ کٹوتیاں کی گئی تھیں لیکن اب اس میں اضافہ متوقع ہے جس میں وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے رقم شامل ہے۔

امریکہ ریاستیں جہاں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں

یہ درست ہے کہ وبا کے ابتدائی دنوں میں ان ریاستوں میں جہاں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہے جیسا کہ نیو یارک اور نیو جرسی وہ وبا سے بری طرح متاثر ہوئی تھیں اور وہاں اموات کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

لیکن جوں جوں یہ وبا پھیلتی گئی رپیلکن اکثریت والی ریاستیں بھی اس سے متاثر ہونا شروع ہو گئیں اور وہاں بھی اموات میں اضافہ ہونے لگا۔

اموات کی شرح میں رپبلکن اور ڈیموکریٹ ریاستوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 15 ستمبر تک سرخ ریاستوں یعنی رپیبلکن جماعت کے زیر انتظام ریاستوں میں کووڈ کے مریضوں میں اموات کی شرح 47 فیصد تھی اور نیلی ریاستوں میں 53 فیصد۔