اسرائیل اور عرب ریاستیں: مسئلہ فلسطین سے کویت کا تاریخی تعلق کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, امنیہ النجار
- عہدہ, ماہر مصری امور
اسرائیل کی طرف عرب خلیجی ملکوں کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ کے باوجود کویت مسئلہ فلسطین کے منصفانہ طریقے سے حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اپنے دیرینہ موقف پر سختی سے ڈٹا ہوا ہے۔
گزشتہ دو برس سے خطے میں پس پردہ اور کھلے عام اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے سرکاری سطح پر سرگرمیاں جاری تھیں جس کا نتیجہ 13 اگست کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔
مزید پڑھیے:
یہ معاہدہ جو امریکی کوششوں کی وجہ سے ہوا اس کی بحرین اور عمان نے خوب پذیرائی کی جبکہ سعودی عرب اور قطر نے اس بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔
کویت جس نے اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کی مخالفت کی تھی وہ مستقل قریب میں اپنا موقف تبدیل کرتا نظر نہیں آتا اور لگتا ہے کہ خلیج میں فلسطینیوں کی حمایت کا وہ آخری گڑھ رہے جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خلیج میں اس چھوٹی سی ریاست کی اسرائیل کے بارے میں غیر متزلزل پالیسی اسے خلیجی رابط کونسل کے ملکوں سے ممتاز کر دے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مستقل شدید مخالفت
کویت ہمیشہ سے ہی اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کی خفیہ کوششوں کا بھی سخت مخالف رہا ہے۔
اس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کے بعد بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کیا۔ اس معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والا پہلا عرب خلیجی ملک بن گیا تھا۔
کویت میں خبروں کی ایک ویب سائٹ نے 15 اگست کو سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے بارے میں کویت اپنے موقف پر سختی سے کار بند ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس خبر کی سرخی یہ لگائی گئی تھی کہ کویت اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والا آخری ملک ہو گا۔
اس نجی اخبار میں کہا گیا کہ کویت کا موقف اس کی دہائیوں سے جاری فلسطینی نصب العین کی حمایت پر مبنی خارجہ پالیسی پر قائم ہے کیونکہ یہ عربوں کا اولین مسئلہ ہے اور کویت کے لیے اس مسئلہ کا وہی حل قابل قبول ہو گا جسے فلسطینی قبول کریں گے۔
اسی اخبار میں ایک اور مضمون شائع کیا گیا جس کا عنوان تھا کہ کویت اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے سامنے کھڑا ہے، تعلقات بحال نہیں کریں گے۔
اگست کی13تاریخ کو کویت میں غیر سرکاری تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی سختی سے مذمت کی گئی۔
فلسطینی ویب سائٹ سند نیوز نے اس بیان کا حوالے دیتے ہو کہا کہ 'اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنا فلسطینیوں اور عربوں کے علاوہ مسئلہ فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
کویت کی پارلیمان میں فوراً ہی اس معاہدے پر تنقید کی گئی اور ایسے قوانین پر عملدر آمد کی بات کی گئی جو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
مڈل ایسٹ مانیٹر ویب سائٹ نے اگست کی 21 تاریخ کو اطلاع دی کہ کویت کی پارلیمان کے سپیکر مرزوق الغنم اور 18 ارکان پارلیمان نے اس مسودہ قانون پر رائے شماری کرانے پر زور دیا جو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے پر پابندی عائد کرنے اور اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں تھا۔
اگست کی 31 تاریخ کو القبس نے سرکاری ذرائع سے اطلاع دی کہ کویت اسرائیل سے متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
کویت نے یہ اعلان سعودی عرب اور بحرین کی طرف سے فضائی حدود کھولنے کی متحدہ عرب امارات کی درخواست کو قبول کرنے کے بعد کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب اور بحرین سے درخواست کی تھی کہ وہ ان ملکوں کی تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیں جن کی منزل یا تو متحدہ عرب امارات ہو یا وہ متحدہ عرب امارات سے شروع ہوں۔
فلسطینی تعلق
کویت کے اسرائیل مخالف اس غیر متزلزل موقف کی ایک بڑی وجہ مسئلہ فلسطین سے اس کا تاریخی تعلق بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1930 میں برطانوی حکمرانی کے دوران بڑھتے ہوئے عرب اسرائیل تنازعے کی وجہ سے آنے والے فلسطینی مہاجرین کو خوش آمدید کہنا والا کویت پہلا ملک تھا۔
شیخ احمد الجبرالصبا جو سنہ 1936 میں کویت کے فرما روا تھے ان کی دعوت پر فلسطینی مہاجرین پہلی مرتبہ کویت آئے تھے۔ اس کے بعد سنہ 1948 میں جب ’النکبہ‘ کے دوران اسرائیل فوج کی طرف سے فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیئے گئے تو مزید فلسطینی مہاجرین کویت پہنچے۔
سنہ 1990 تک کویت میں چار سے ساڑھے چار لاکھ کے قریب فلسطینی کویت میں مقیم تھے جہاں اردن کے بعد فلسطینی سب سے بڑی تعداد میں موجود تھے۔
مشرق وسطیٰ میںٰ شائع ہونے والے ایک سہ ماہی جریدے 'مڈل ایسٹ کواٹرلی' میں سٹیون روزن نے لکھا کہ فلسطینی مہاجرین کی اکثریت کو کویت کی شہریت حاصل نہیں تھی لیکن وہ کویت کی معیشت، ثقافت اور معاشرے میں رچ بس گئے تھے۔
کویت میں مقیم دوسری قومیتوں کے افراد کے مقابلے میں فلسطینیوں سے زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا تھا لیکن سنہ 1990 میں صدام حسین کے کویت پر حملے کی فلسطینی تنظیم پی ایل او کی طرف سے حمایت کرنے پر اس رویے میں تبدیلی آ گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے رد عمل میں مارچ اور ستمبر سنہ 1991 کے دوران کویت نے دو لاکھ فلسطینیوں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ بعد میں اس نے ان دو لاکھ فلسطینیوں کو بھی ملک میں داخل ہونے سے روک دیا جو عراقی حملے کے دوران ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس وجہ سے کویت میں مقیم فلسطینیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی اور ان سخت اقدامات کی وجہ سے یہ تعداد گھٹ کر ستمبر سنہ 1991 میں صرف 20 ہزار ہی رہ گئی۔
گلف نیوز ویب سائٹ نے ستمبر سنہ 2012 میں لکھا تھا کہ ان تعلقات میں اس وقت بہتری آ گئی جب فلسطین کے صدر محمود عباس نے دسمبر سنہ 2004 میں کویت سے عراقی حملے کی حمایت کرنے پر سرکاری طور پر معافی مانگ لی اور یوں فلسطینیوں کے لیے کویت کی مالی اور سفارتی حمایت کا راستہ دوبارہ کھل گیا۔
یہ تعلقات سنہ 2013 میں اور زیادہ بہتر ہو گئے جب 23 سال تک تعطل کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کویت کا دورہ کیا اور وہاں اپنے سفارت خانے کا افتتاح کیا۔
عوامی حمایت
اسرائیل کے خلاف کویت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم عنصر اس کی عرب اقدار سے وابسگتی اور ان کی پاسداری اور اسلامی یکجہتی بھی ہے۔
ان کی عکاسی نہ صرف کویت کے امیر شیخ صبا الاحمد الصبا کے بیانات اور تقریروں بلکہ ملک کی سیاسی قوتوں کے بیانات میں بھی ہوتی ہے۔
ان میں سب سے سرکردہ اسلامی اور عرب قوم پرست قوتیں ہیں جو اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود مسئلہ فلسطین کی سختی سے حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کی توثیق کویت کی پارلیمان کے ارکان کی اکثریت نے کی اور اسی وجہ سے کویت کی پارلیمان مسلسل مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی امن منصوبے کی مخالفت کرتی رہی ہے جس کو امریکہ 'ڈیل آف سنچری' یا صدی کا معاہدہ قرار دیتا ہے۔
گزشتہ برس جون میں کویت کی پارلیمان نے ایک ہنگامی بیان جاری کیا جس میں حکومت سے بحرین میں ہونے والے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا کہا گیا جس میں فلسطینیوں کے بارے میں امریکی امن منصوبے کے کچھ حصوں کا اعلان کیا گیا تھا۔
کویت کی پارلیمان کے سپیکر نے اس سال فروری میں عمان میں ہونے والے عرب پارلیمانی اتحاد کے اجلاس میں امریکی امن منصوبے کو رد کرتے ہوئے علامتی طور پر اس منصوبے کی ایک کاپی کو کوڑے دان میں ڈالا۔
انہوں نے ایسا کرتے ہوئے کہا کہ 'عرب عوام کے نام پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈیل آف سنچری کی سب سے بہتریں جگہ تاریخ کا کوڑے دان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ مردہ پیدا ہوا ہے اور ہزاروں امریکی انتظامیہ بھی اس میں جان نہیں ڈال سکتے۔
دباؤ کے سامنے سر جھکانے سے انکار
کویت کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت کا ایک عنصر خطے میں امریکہ کا اہم اتحادی ہونے کے باوجود امریکی دباؤ میں نہ آنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خلیجی ملکوں کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے ایرانی خطرے کو بڑھا چڑھا پیش کیا گیا لیکن کویت نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔
خطے میں ایران کا خطرہ سنہ 2019 میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا جب آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز پر حملہ کیا گیا اور امریکہ کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا گیا جس کے بعد واشنگٹن اور تہران میں کشیدگی بڑھنے لگی تھی۔
ان واقعات کے بعد سے کئی خلیجی ملکوں نے اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا اور امریکہ سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوششیں شروع کئیں تاکہ ایرانی رد عمل کی صورت میں وہ امریکہ کا سہارا لے سکیں۔
فلسطینی ویب سائٹ القدس نیوز نیٹ ورک نے 18 اگست کو امریکی صدر کے داماد اور مشیر جارڈ کشنر کا ایک بیان شائع کیا جس میں انہوں نے کویت کی پالیسی سے مشرق وسطی امن منصوبے کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا اعتراف کیا تھا اور اس صورت حال کو غیر صحت مندانہ قرار دیا تھا۔










