مشیل اوباما کا انکشاف: سابق امریکی خاتون اوّل ’نچلے درجے کے ڈپریشن‘ کا شکار

Michelle Obama is pictured at the 2019 Beating the Odds Summit

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق امریکی خاتون اوّل مشیل اوباما کا کہنا ہے عالمی وبا، نسلی امتیاز اور ٹرمپ انتظامیہ کی منافقت کے باعث وہ 'نچلے درجے کے ڈپریشن' کا شکار ہو گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے ابھرتے ڈوبتے جذبات‘ کے لیے ’خود شناسی‘ کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی چیزوں کا علم جن سے آپ کو خوشی ملتی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ورزش اور نیند کے اوقات کے دوران مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

مشیل اوباما کا کہنا تھا ’میں آدھی رات کو جاگ جاتی ہوں کیونکہ یا تو میں کسی وجہ سے پریشان ہوتی ہوں یا بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک پاڈ کاسٹ کے دوران کیا۔

Michelle Obama

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمشیل اوبامہ کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے حالات کی وجہ سے پریشان ہیں

مشیل اوباما کا کہنا تھا ’یہ وقت روحانی طور پر تسکین بخش نہیں ہے، میں جانتی ہوں میں نچلے درجے کے ڈپریشن کا شکار ہوں۔‘

’یہ صرف قرنطینہ کیے جانے کی وجہ سے نہیں ہے لیکن اس کی وجہ نسلی جھگڑے، ایسی انتظامیہ کو دیکھنا، اس کی منافقت کو دیکھنا ہے، دنوں کو گزرتے دیکھنا دل توڑنے والا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر روز یہ دیکھنے کے لیے جاگنا کہ ایک اور سیاہ فام انسان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہوا، اسے نقصان پہنچایا اسے مارا دیا گیا یا اس پر جھوٹا الزام عائد کیا گیا یہ سب تھکا دینے والا ہے۔ ‘

مشیل اوباما نے بتایا کہ ’اس سب کی وجہ سے مجھ پر ایک بوجھ سا آن پڑا ہے کہ گویا میں نے کچھ عرصے سے اپنی زندگی میں کچھ محسوس ہی نہیں کیا۔‘

تاہم ان کا کہنا تہا کہ چیزوں کو مرتب کرنا بہت اہم ہے اس سے احساسات کو ضابطے میں لایا جا سکتا ہے۔ اور وبا کے دوران اپنی ایک معمول بنانا ان کے لیے اور بھی اہم ہو گیا ہے۔

اپنے پہلے پاڈ کاسٹ کے دوران انھوں نے اپنے شوہر براک اوباما کا انٹرویو کیا جو ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے امریکہ کے صدر تھے۔