آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشیل اوباما کا انکشاف: سابق امریکی خاتون اوّل ’نچلے درجے کے ڈپریشن‘ کا شکار
سابق امریکی خاتون اوّل مشیل اوباما کا کہنا ہے عالمی وبا، نسلی امتیاز اور ٹرمپ انتظامیہ کی منافقت کے باعث وہ 'نچلے درجے کے ڈپریشن' کا شکار ہو گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے ابھرتے ڈوبتے جذبات‘ کے لیے ’خود شناسی‘ کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی چیزوں کا علم جن سے آپ کو خوشی ملتی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ورزش اور نیند کے اوقات کے دوران مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
مشیل اوباما کا کہنا تھا ’میں آدھی رات کو جاگ جاتی ہوں کیونکہ یا تو میں کسی وجہ سے پریشان ہوتی ہوں یا بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک پاڈ کاسٹ کے دوران کیا۔
مشیل اوباما کا کہنا تھا ’یہ وقت روحانی طور پر تسکین بخش نہیں ہے، میں جانتی ہوں میں نچلے درجے کے ڈپریشن کا شکار ہوں۔‘
’یہ صرف قرنطینہ کیے جانے کی وجہ سے نہیں ہے لیکن اس کی وجہ نسلی جھگڑے، ایسی انتظامیہ کو دیکھنا، اس کی منافقت کو دیکھنا ہے، دنوں کو گزرتے دیکھنا دل توڑنے والا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر روز یہ دیکھنے کے لیے جاگنا کہ ایک اور سیاہ فام انسان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہوا، اسے نقصان پہنچایا اسے مارا دیا گیا یا اس پر جھوٹا الزام عائد کیا گیا یہ سب تھکا دینے والا ہے۔ ‘
مشیل اوباما نے بتایا کہ ’اس سب کی وجہ سے مجھ پر ایک بوجھ سا آن پڑا ہے کہ گویا میں نے کچھ عرصے سے اپنی زندگی میں کچھ محسوس ہی نہیں کیا۔‘
تاہم ان کا کہنا تہا کہ چیزوں کو مرتب کرنا بہت اہم ہے اس سے احساسات کو ضابطے میں لایا جا سکتا ہے۔ اور وبا کے دوران اپنی ایک معمول بنانا ان کے لیے اور بھی اہم ہو گیا ہے۔
اپنے پہلے پاڈ کاسٹ کے دوران انھوں نے اپنے شوہر براک اوباما کا انٹرویو کیا جو ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے امریکہ کے صدر تھے۔