آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نائجیریا میں دو ہولناک حملوں پر اقوام متحدہ صدمے میں
نائجیریا میں شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے دو حملوں میں درجنوں فوجی اور عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے برونو نامی ریاست میں ہوئے۔
حملے آوروں نے منگونو نامی قصبے کو نشانے بنایا جہاں اقوامی متحدہ کے اور امدادی کارکن مقیم ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں پر حیرت زدہ ہیں۔ یہ حملے گوبیو نامی گاؤں پر حملے میں 81 افراد کی ہلاکت کے چند دن بعد کیے گئے ہیں۔
اسی بارے میں
بوکو حرام کی ذیلی تنظیم جو خود کو اسلام سٹیٹ ان ویسٹ افریقہ کہتے ہے نے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہ ہیں۔
اس گروہ نے چار سال پہلے اپنے وفا داری دولت اسلامیہ کے ساتھ ظاہر کی تھی۔
حملوں میں کیا ہوا؟
ان تازہ دو حملوں میں کم از کم 20 فوجی اہلکار اور 40 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملے کا نشانے بننے والے دیہاتوں کے مقامی افراد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے 38 افراد کو گولی ماری جبکہ مسافروں سے بھر ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ کم از کم 15 افراد اور نو فوجی اہلکار وہاں سے 60 کلو میٹر دور منگونو نامی دیہات میں مارے گئے۔
شدت پسند بھاری اسلحوں اور راکٹ لانچر سے لیس منگونو گاؤں میں آئے۔ یہاں پر قومی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے دفاتر ہیں۔
اقوام متحدہ نے ایک بیان میں اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد شہری جن میں چار سال کی ایک بچی بھی شامل ہے اس حملے میں ہلاک ہو گئے جبکہ 37 افراد زخمی ہیں۔
کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ قریب ہی میزائل بھی ملا جو پھٹ نہیں سکا۔
شدت پسندوں نے مقامی افراد میں خطوط تقیسم کیے جن میں ان دھمکایا گیا تھا کہ وہ کسی فوجی یا بین الاقوامی امدادی تنظیم میں کام نہ کریں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیم عام طور پر ایسے شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی جو امدمدی تنظیموں کے ساتھ کام نہ کرتے ہوں یا ان پر فوج کو معلومات پہنچانے کا شبہ نہ ہو۔