کورونا وائرس: تنہائی میں الگ تھلگ رہنے کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے

لوسیا

،تصویر کا ذریعہLucia Buricelli

،تصویر کا کیپشنلوسیا فوٹوگرافر ہیں جو حال ہی میں امریکہ کی ریاست نیویارک سے واپس اٹلی لوٹی تھیں
    • مصنف, کیلی لیہ کوپر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

برسوں دوسروں کے ساتھ رہائش پذیر رہنے کے بعد لوسیا بہت خوش تھیں کہ آخر کار جلد ہی ان کے پاس اپنی ذاتی رہائش ہو گی۔

لوسیا فوٹوگرافر ہیں جو حال ہی میں امریکہ کی ریاست نیویارک سے واپس اٹلی لوٹی تھیں۔

اٹلی میں ان کا وقت بہت شاندار گزر رہا تھا۔ وہ اپنا کیمرہ لے کر لمبی واک پر نکل جاتیں، بے مقصد گھومتی پھرتیں اور اپنے دوستوں کے ہمراہ کھانا کھانے باہر جاتیں۔

لوسیا کے اٹلی کے شہر میلان آنے کے چند ہی ماہ بعد یہ شہر یورپ میں کورونا وائرس کی وبا کا مرکز بن گیا۔

اُن سمیت اٹلی کے لاکھوں شہریوں کو لاک ڈاؤن میں جانے کے احکامات ملے اور انھیں متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں اور باہر صرف اسی وقت نکلیں جب ایسا کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہو۔

لوسیا کے لیے لاک ڈاؤن میں گزرے ابتدائی چند ہفتے بہت ہی مشکل تھے، زندگی کی یک رنگی اور الگ تھلگ اپنے اپارٹمنٹ میں رہنے نے ان پر منفی اثرات مرتب کیے۔

مگر اب ایک ماہ بعد لوسیا اس صورتحال میں ایڈجسٹ کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ اپنی آزادی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے براہ راست رابطوں سے محرومی کو بہت محسوس کرتی ہیں مگر ساتھ ساتھ وہ اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہیں کہ وہ اور ان کے جاننے والے ایسے وقت میں صحت مند ہیں جب اٹلی میں سینکڑوں افراد وبا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بعض اوقات میں مستقبل کے حوالے سے پریشان ہو جاتی ہوں، میں یہ سوچ کر پریشان ہو جاتی ہوں کہ جب یہ (وبا) سب ختم ہو گا تو زندگی کیسی ہو گی۔ میں یہ سوچ کر حیرت میں مبتلا ہوں کہ کیا مستقبل میں ہم گھروں سے باہر حقیقی زندگی گزارنے کے قابل ہوں سکیں گے۔‘

Presentational white space
لوسیا

،تصویر کا ذریعہLucia Buricelli

،تصویر کا کیپشنلوسیا تنہائی میں گزرنے والے لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہی ہیں
Presentational white space

اٹلی سے چار ہزار میل دور نئی دہلی کے نزدیکی علاقے گڑگاؤں کی رہائشی اپرنا گذشتہ کئی روز سے اگر کوئی انسانی چہرہ دیکھ پاتی ہیں تو ان کے اپارٹمنٹ کی عمارت کے سکیورٹی گارڈز کا ہے۔

26 سالہ اپرنا اپنی والدہ کے اپارٹمنٹ میں تنہا رہتی ہیں۔

دن میں دو بار وہ اپنے اپارٹمنٹ کو لاک کر کے اپنے کتوں، جیولز اور یوگی، کو واک کروانے نکلتی ہیں۔

اپنے کتوں کو واک کروانے کے علاوہ اپرنا نے صرف ایک مرتبہ ہی لاک ڈاؤن کے دوران اپنے اپارٹمنٹ سے نکلنے کی جرات کی ہے۔

Presentational white space
اپرنا کے اپارٹمنٹ بلڈنگ کا مرکزی گیٹ

،تصویر کا ذریعہAmemoir/Aparna

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں 24 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان ہوا تھا
Presentational white space
انڈیا

،تصویر کا ذریعہAmemoir/Aparna

،تصویر کا کیپشناپرنا اور ان کا پالتو کتا
Presentational white space

دنیا بھر میں ان جیسی ہزاروں اور کہانیاں بھی ہیں۔

اب جبکہ مختلف ممالک کی حکومتیں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور عوامی زندگی کو محدود کر دیا گیا ہے تو بہت سے ایسے لوگ جو تنہا رہتے ہیں اب اس بات کو قبول کر چکے ہیں کہ شاید مستقبل میں ایک طویل عرصے تک وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ براہ راست وقت نہیں بتا پائیں گے۔

میں یہ سب اس لیے جانتی ہوں کیونکہ میں ایسے لوگوں میں سے ایک ہوں۔

لندن میں لاک ڈاؤن کے دوران میری عام سی زندگی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے مگر اب یہ کافی مختلف نظر آتی اور محسوس ہوتی ہے۔

آفس آنا جانا بہت ہی کم ہو چکا ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرے پاس کمپنی کے لیے ایک بلی ہے اور مجھ میں اتنی صلاحیت ہے کہ میں دوسروں بہت سے لوگوں کے برعکس باہر واک کے لیے جا سکتی ہوں۔

مگر بہت مشکل ہو جاتا ہے جب آپ کو یہ معلوم نہ ہو پائے کہ آپ اپنے قرابت داروں اور خاندان کے ایسے افراد سے دوبارہ کب مل پائیں گے جو آپ سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں۔

وہ سکرینیں جو اب ہمارے آفس کے کام کا بوجھ سہار رہی ہیں اب وہ ہماری سماجی زندگی کا بوجھ بھی برداشت کر رہی ہیں۔ بعض اوقات کسی جاننے والے کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو یا کچرہ کنڈی کے قریب کسی ہمسائے سے اتفاقی ملاقات کے علاوہ اب میرے تمام رابطے آن لائن ہی ہیں۔

Presentational white space
ڈرائنگ

،تصویر کا ذریعہ@Ramblerow

،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں سکرین کے سامنے وقت گزارنے کے اوقات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس معاملے میں آپ اکیلے نہیں ہیں
Presentational white space

دنیا بھر کے بہت سے افراد اس تلخ تجربے کے دوران اب اپنی اپنی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ میں ایسے ماہرین اور عام افراد ان کی ماہرانہ رائے لیتی ہوں جو اکیلے خود ساختہ تنہائی میں رہتے ہیں۔

اور اسی کھوج کے دوران میری بات چیت لوسیا، اپرنا اور اینجی سے ہے۔ یہ تینوں خواتین الگ الگ براعظموں پر رہتی ہیں مگر ان کو ایک سی صورتحال کا سامنا ہے۔

Short presentational grey line

اینجی امریکی ریاست ’مین‘ میں گذشتہ چار برسوں سے اکیلی رہ رہی ہیں۔ تنہا اپارٹمنٹ میں رہنے کی ضرورت انھیں اس لیے بھی تھی کیونکہ وہ اپنے شوہر سے طلاق کے بعد کچھ وقت اپنے آپ کو دینا چاہتی تھیں۔

مگر جب امریکہ میں کورونا کی وبا پہنچی اور وہاں کی حکومت نے عوامی سطح پر پابندیاں عائد کیں تو اینجی کی زندگی میں بھی زوال کی سی کیفیت واضح ہونا شروع ہوئی۔

لاک ڈاؤن کے دوران ہی چند ہفتے قبل اینجی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا اور اب اسے اس مشکل وقت سے اکیلے ہی نمٹنا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’عام حالات میں اگر آپ اپنی نوکری کھو دیتے ہیں تو کم از کم آپ کے خاندان کے افراد آپ کو گلے لگانے کے لیے موجود ہوتے ہیں یا دوست احباب جو آپ کو خوش کرنے کے لیے اپنے گھر دعوت دیتے ہیں۔‘

اس حوالے سے کافی تحقیق موجود ہے کہ ہمارے سماجی تعلقات ہماری ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ ہماری جسمانی صحت کے لیے کتنے اہم ہو سکتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ طویل تنہائی شرح اموات کو بڑھا سکتی ہے اور صحت سے متعلق دیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔

یو سی ایل اے سے وابستہ سماجی سائیکالوجسٹ ناؤمی آئزنبرگر کو ان کی مشہور زمانہ تحقیق لے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کا موضوع یہ تھا کہ اگر آپ کو سماجی سطح پر قطع تعلق اور مسترد کیے جانے کا سامنا ہو تو اس کا آپ کے دماغ پر کیا اثر ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہماری موجودہ صورتحال، جس میں اربوں افراد کو عام زندگی سے قطع تعلق کا سامنا ہے، بہت بےنظیر ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایسے تمام افراد جو اپنے گھروں میں تنہا رہتے ہیں وہ ایسے افراد سے ضرور رابطے میں رہیں جنھیں ان کی فکر یا خیال ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک بات جو عموماً مجھے سننے کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ اب بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ وہ کس (شخصیت) سے زیادہ قریب ہیں، کیونکہ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ آپ کے قریب کون رہ رہا ہے یا ایسا کون سے شخص ہے جو ملاقات کے لیے باآسانی دستیاب ہو جاتا ہے۔‘

ان کا ریسرچ گروپ اس بات کی تحقیق بھی کر رہا ہے کہ آن لائن بات چیت براہ راست رابطے میں رہنے کی ضرورت کو کس حد تک پورا کر رہی ہے۔

Presentational white space
ڈرائنگ

،تصویر کا ذریعہ@Ramblerow

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر آئزنبرگر کہتے ہیں کہ ایسا پالتو جانور جیسے آپ چھو سکیں اور پیار کر سکیں وہ آپ کے ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے
Presentational white space

یونیورسٹی آف شکاگو سے منسلک انسانی طرز عمل کی نیوروسائنس اور سائیکیٹری کی ماہر پروفیسر سٹیفنی کاکیپو کے پاس بھی تنہا رہنے والے افراد کے لیے بہت سے مفید اور عملی مشورے ہیں۔

پروفیسر سٹیفنی اور ان کے مرحوم شوہر کو ان کی ابتدائی تحقیق کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو تنہا ہونے اور تنہا محسوس کرنے کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اپنی توقعات اور ذہن کو ایڈجسٹ کرنا اکیلے پن کو محسوس کرنے سے بچنے کا ایک اہم گُر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیش آنے والے واقعات کو یہ سوچ کر قبول کرنا کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہیں اور یہ سوچ کہ اپنے پیاروں سے دور ہونا مستقل نہیں صرف عارضی ہے۔

’اس وقت آپ اکیلے رہ رہے ہیں۔ اور اس وقت اس کے علاوہ آپ کے پاس اور کوئی چوائس بھی نہیں ہے۔ تو یا تو آپ پورے دن چیختے چلاتے اور اکیلا پن محسوس کرتے گزار دیں یا اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔‘

اینجی کے لیے اس کا مطلب آرٹ کے اپنے لگاؤ سے واپس جڑنا ہے۔ اس فیچر میں نظر آنے والے تمام خاکے اینجی ہی کے تخلیق کردہ ہیں۔ اس طرح وبا کے اس دور میں وہ تنہا رہنے کے حوالے سے اپنے جذبات اور نقطہ نظر کو شیئر کر پائی ہیں۔

Presentational white space
ڈرائنگ

،تصویر کا ذریعہ@Ramblerow

،تصویر کا کیپشناینجی کہتی ہیں کہ ان کا آرٹ ورک انھیں اس مشکل وقت میں زندہ رکھے ہوئے ہے
Presentational white space

ان کے خاکوں میں نظر آنے والی بے نام اور بغیر چہرے والی کردار کو ذاتی لمحات کو خاموشی سے جیتے دیکھایا گیا ہے۔

’جب مجھے اکیلا پن محسوس ہونا شروع ہوتا ہے تو میں اپنے جیسے دیگر افراد کے بارے میں تصور کرتی ہوں، دنیا بھر میں اُس مخصوص وقت میں ایک ہی جیسے احساس سے گزرنے والے افراد۔ ایسا کرنا مجھے پرسکون اور رابطے میں ہونے کا احساس دلاتا ہے۔‘

پروفیسر سٹیفنی کاکیپو کہتی ہیں کہ پُرسکون رہنے میں مددگار ایک اور عملی کام یہ ہو سکتا ہے کہ تنہائی کے دوران آپ چیزوں کو ڈائری میں لکھنا شروع کریں۔ ان چیزوں اور کاموں کو ضبطِ تحریر میں لائیں جنھیں کرنے سے آپ نے خوشی محسوس کی یا ایسا کام جسے آپ نے اُس روز مکمل کیا ہو۔

مزید پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ ’تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اپنے آپ سے پیار کرنا اور دوسروں کا شکرگزار ہونا آپ کے خوش رہنے کے پیمانے اور آپ کی بھلائی کو بڑھاتا ہے۔‘

وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رحمدلی پر مبنی یہ اقدامات نہ تو جیب پر بھاری پڑتے ہیں اور نہ ہی انھیں کرنے میں وقت صرف ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اپنا خیال رکھنے کے لیے ہر کسی کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔‘

Presentational white space
ڈرائنگ

،تصویر کا ذریعہ@Ramblerow

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر سٹیفنی کا سب کو مشورہ یہ ہے کہ وہ یہ بات سیکھیں کہ اپنا خود کا بہترین دوست کیسے بنا جا سکتا ہے
Presentational white space

جن دو ماہرین سے میں نے بات کی ان دونوں نے الگ تھلگ رہتے ہوئے اپنے روزانہ کے معمولات کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ باقاعدگی سے سماجی رابطہ ہماری نیند اور کھانے کے اوقات میں نظم و ضبط پیدا کرتا ہے۔

پروفیسر سٹیفنی لوگوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ آج کل وہ مختصر المیعاد پلاننگ کریں، فقط آنے والے ایک یا دو روز کی۔

’ہم سب نے اپنی حقیقت کا کنٹرول کھو دیا ہے۔ ہمارے پلانز تھے اور ہم نے کچھ سرگرمیاں پلان کر رکھی تھیں۔ پہلے ہم آئندہ ایک ہفتے کا اپنا شیڈول دیکھتے تھے اور ہمیں پتا چل جاتا تھا کہ اگلے ہفتے ہم کیا کر رہے ہوں گے۔ مگر اب ایسا کرنا تھوڑا مشکل ہے۔‘

ان کا مشورہ ہے کہ روزانہ اپنے لیے صرف تین اہداف معین کیجیے اور انھیں مکمل کرنا آپ کو کامیابی کا احساس دلانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ ’ایسا کرنے کے بعد آپ رات کو سکون سے بستر پر لیٹ سکیں گے کیونکہ آپ جانتے ہوں گے کہ اگلے روز آپ کے پاس کرنے کو کچھ ہے، آنے والے دن کے لیے کوئی مقصد۔‘

30 مارچ کو مصنفہ اولیویا گیٹ وڈ نے انسٹا گرام پر اپنی ایک تصویر اس عنوان کے ساتھ شیئر کی ’قرنطینہ میں موجود عورت کی (بنائی ہوئی) اپنی تصویر۔‘

جلد ہی ہزاروں خواتین نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر انھیں بھیجنا شروع کر دیں۔

Presentational white space
تصاویر

،تصویر کا ذریعہSupplied

،تصویر کا کیپشناولیویا کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر نے دنیا بھر کی بہت سی خواتین کو متاثر کیا جنھوں نے اپنی اپنی تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں
Presentational white space

گیٹ وڈ نے اب منصوبہ بنایا ہے کہ وہ ایک علیحدہ سے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنائیں گی جہاں بھیجی جانے والی تصاویر پیش کی جائیں گی اور اس انسٹا اکاؤنٹ کا نام ’گرلز آف آئسولیشن‘ ہو گا۔ اس کی مدد سے وہ دنیا بھر کی ایسی خواتین کو آپ میں جوڑ پائیں گی جو آج کل درپیش عجیب حقیقت سے گزر رہی ہیں۔

اپرنا بھی ان خواتین میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنا خود کا بنایا ہوا پورٹریٹ اولیویا گیٹ وڈ کو بھیجا تھا۔

انڈیا میں لاک ڈاؤن نے انھیں مجبور کر دیا کہ وہ پھر سے اپنا کیمرہ اٹھائیں، جسے انھوں نے گذشتہ ایک سال سے ہاتھ نہیں لگایا تھا، اور اب وہ وبا کے اس دور میں اپنی زندگی کو دستاویزی فلم کی شکل دے رہی ہیں۔

اپرنا سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو کیا مشورہ دیں گی۔ ان کا پیغام سادہ سا ہے: ’اپنے آپ کو سنیے اور اپنے آپ پر رحم کیجیے، آپ جرم یا سمجھوتے کے احساس کے بغیر سب کچھ کرنے، کچھ نہ کچھ کرنے یا کچھ نہ کرنے کے لیے آخرکار وقت نکال سکتے ہیں۔‘

Presentational white space
اپرنا کی تصویر

،تصویر کا ذریعہAmemoir/Aparna

،تصویر کا کیپشناپرنا کہتی ہیں کہ ’یہ یقینی طور پر ایک عجیب اور مشکل وقت ہے جب حقیقی دنیا کسی فلمی سکرپٹ کی طرح محسوس ہو رہی ہے‘
Presentational white space

پروفیسر سٹیفنی کہتی ہیں کہ اس وبا کے نتیجے میں ایک مثبت بات یہ سامنے آئی ہے کہ بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم ہم پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہونے کے احساس کو محسوس کر سکتے ہیں۔

اپرنا بھی اس خیال سے متفق ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صورتحال ہمیں دیا دلاتی ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں۔ اور سب سے اہم بات مجموعی طور پر ہم سب۔‘

’دنیا کے دیگر انسانوں سے وابستگی کا احساس ہونا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اور یہ احساس ضروری بھی ہے اور خوبصورت بھی، یہاں تک کہ آج کل کے مشکل ترین دور میں بھی۔‘

اس مضمون میں شامل تمام تصاویر اور آرٹ ورک کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔