#coronavirus: جاپانی ڈاکٹر کے مطابق ’بحری جہاز سے نکلنے والے افراد میں کورونا وائرس ہو سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
جاپان میں ایک ڈاکٹر کو ڈر ہے کہ ڈائمنڈ پرنسز نامی جس تفریحی بحری جہاز میں کم از کم 540 مسافر اور عملے کے اہلکار کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے، اس میں قرنطینہ کے لیے مناسب انتظامات نہیں تھے۔
بدھ کو ایسے 100 سے زیادہ لوگوں کو جہاز سے روانہ کر دیا گیا تھا جن میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔
پروفیسر کنتارو ایواتا کوب یونیورسٹی ہسپتال میں سانس لینے سے متعلق بیماریوں کے ماہر ہیں۔ انھوں نے اس بحری جہاز کا دورہ بھی کیا تھا۔
بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے کہ قرنطینہ کا طریقہ کار اور جاپانی حکومت کی طرف سے کی گئی جانچ پڑتال اس بات کی صمانت نہیں دے سکتی کہ مسافر وائرس سے محفوظ رہے ہوں گے۔
انھوں نے ویڈیو کال پر بتایا کہ ’مجھے ’ڈرٹی زون‘ کے مجموعے کو دیکھ کر تشویش ہوئی۔ اسے ہم ریڈ زون، گرین زون اور کلین زون کہتے ہیں۔‘
’آپ کو ان جگہوں کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے جہاں وائرس نہیں ہے اور ممکنہ طور پر یہ کہاں موجود ہو سکتا ہے۔ یہ وہ پہلی چیز ہے جو ہم انفیکشن کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں کرتے ہیں۔‘
’میں حیران تھا اور میں اب بھی ڈرا ہوا ہوں کہ آئندہ دنوں میں یہ مرض پھیل سکتا ہے۔‘
’ایبولا میں زیادہ محفوظ تھے‘

پروفیسر کنتارو نے کہا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس شدت اختیار کر سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کے دوران کام کیا تو وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب میں افریقہ میں تھا تو میں زیادہ محفوظ محسوس کرتا تھا کیونکہ آپ کو علم ہے کہ وائرس کہاں موجود نہیں ہے اور مریض کہاں ہیں۔ ریڈ زون اور گرین زون میں واضح فرق موجود ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایبولا سے لڑنے کے لیے آپ کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس سے لڑ رہے ہیں اور کہاں چھپنا ہے۔ لیکن ڈائمنڈ پرنسز کے اندر آپ کو یہ معلوم نہیں کہ وائرس کہاں موجود ہے۔‘
اس بحری جہاز پر سوار کم از کم 621 افراد (مسافر اور عملے) میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ چین کے باہر وائرس سے متاثر لوگوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ جہاز پر کل 3700 افراد سوار تھے۔
جاپان پر تنقید
جاپانی حکام نے یقین دلایا ہے کہ انھوں نے جہاز پر اپنے رد عمل میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
امریکی حکومت نے ان 300 سے زیادہ امریکی شہریوں کو وطن واپس بلا لیا ہے جو اس جہازکے مسافر تھے۔ انھیں 14 دنوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا جس دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ان میں انفیکشن کی علامات موجود ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد انھیں عام لوگوں میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔
آسٹریلیا بھی اپنے شہریوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور انھیں واپس بلانا چاہتا ہے۔ جنوبی کوریا، کینیڈا، اسرائیل اور ہانک کانگ نے بھی اپنے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی نے کہا ہے کہ ’یہ ممکن ہے کہ جہاز پر موجود افراد میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جاپان کی کوششیں ناکافی ہیں۔‘
صرف وہ مسافر جن میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی اور ان میں کورونا وائرس کی علامات نظر نہیں آئیں انھیں جہاز چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لیکن پروفیسر کنتارو نے کہا ہے کہ وہ اس لیے فکر مند ہیں کیونکہ مسافروں کو یہ ’بالکل معلوم نہیں‘ کہ آیا چند دن قبل وہ انفیکشن کا شکار ہوئے تھے۔
’اگر آپ کل وائرس کا شکار ہوئے تھے تو یہ ضروری ہے کہ آپ کو آنے والے 14 دنوں تک تنہا رکھا جائے۔ اور ان میں، میں بھی شامل ہوں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسافروں میں وائرس کی تشخیص کرنے کے لیے جاپان جین کے ٹیسٹ کا ’غلط استعمال کر رہا ہے۔‘
’(اس کے لیے) جین کا ٹیسٹ صحیح نہیں، خاص کر کے جب آپ علامات نہیں دیکھ سکتے اور مریض میں کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ اس وقت وائرس کم پھیلا ہوتا ہے اور ٹیسٹ غلطی سے منفی آسکتا ہے۔‘
’بعد میں گھر پر وائرس انفیکشن اور علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ان لوگوں کے ٹیسٹ لینا جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں ایک اچھا خیال نہیں ہے۔ یہ سائنسی بنیادوں پر غلط ہے اور اس کی کوئی منطق نہیں۔‘












