اسلام آباد ہائی کورٹ: پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لیے گئے کارکنان ضمانت پر رہا

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ پیر کو پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عمار راشد اور دیگر زیر حراست افراد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔

گذشتہ سماعت پر عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور ڈپٹی کمشنر کو وضاحت دینے طلب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کی سماعت میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف درج مقدمے پر اسلام آباد کے آئی جی اور ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

مقدمے کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ پیر کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ سمیت 29 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر غداری اور بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

محسن داوڑ اور تین خواتین سمیت چھ ملزمان کو چند گھنٹوں بعد رات گئے رہا کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔

اس سے قبل سیشن جج نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

منظور پشتین کی حراست کے خلاف لندن میں احتجاج

پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس مظاہرے میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں سمیت دیگر جماعتوں کے سے تعلق رکھنے والے افراد اور افغان شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور منظور پشتین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کے مطالبات انسانی بنیادوں پر ہیں اور ان کی گرفتاری بے بنیاد وجوہات پر عمل میں لائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ منظور پشتین کو پولیس نے 26 جنوری کی شب صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تہکال کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والے یوسف علی خان جو برطانیہ میں پی ٹی ایم کے آرگنائزر ہیں، بھی اس مظاہرے میں شریک تھے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ منظور پشتین کو بغیر کسی قصور کے گرفتار کیا گیا ہے اور اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ویک ڈیز میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کے سامنے آ کر مظاہرہ کریں گے۔

’ہم کامن ویلتھ کے سامنے بھی جائیں گے لیکن پھر بھی منظور پشتین کو رہا نہ کیا گیا تو ہم برطانیہ کے پارلیمنٹ کے سامنے جائیں گے، ہم اقوام متحدہ کے سامنے جائیں گے، ہم منظور پشتین کی رہائی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں، ہمارے نوجوان چاہتے ہیں کہ یہاں دھرنا دیا جائے۔‘

برطانیہ میں پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے آرگنائزر فلک نیاز خان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے منظور پشتین کی گرفتاری دنیا کے کسی بھی قانون میں ناجائز ہے۔

’ہمارا مطالبہ ہے کہ منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جو مطالبات ہیں ان کو فوری پورا کیا جائے۔‘

پاکستان سے تعلق رکھنے والی عائشہ صدیقہ نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے آئی ہیں۔

’منظور پشتین سمیت گرفتار ہونے والے کئی افراد کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے آئی ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ہم سب کا حصہ ہے اور کوئی ہمیں ہمارے حق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے نہیں روک سکتا۔‘

واضح رہے کہ 28 جنوری کو اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے والے درجنوں افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

ان میں قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد کارکن، عوامی ورکرز پارٹی کے کارکن اور چند طلبا شامل تھے جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔