منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج: حراست میں لیے جانے والے نوفل سلیمی، عمار رشید اور محسن ابدالی کون ہیں؟

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کے گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار ہونے والے 23 افراد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

گرفتار افراد پر ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو جمعرات کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے 15 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دے کر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔

28 جنوری کو اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے والے درجنوں افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان میں قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد کارکن، عوامی ورکرز پارٹی کے کارکن اور چند طلبا شامل تھے جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کے روز ضمانتوں کی درخواست پر عدالتی کارروائی کے بعد اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد اُنھیں اس بارے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ ملزمان کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کا بھی اضافہ ہونا چاہیے تھا۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے وکیل نثار شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ایڈشنل سیشن جج کی رائے کی روشنی میں مشاورت کی جائے گی اور اعلی حکام کو اس ضمن میں آگاہ کیا جائے گا۔

عوامی ورکرز پارٹی کی رکن طوبیٰ سید نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاجی مظاہرے سے 29 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان میں سے چھ کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ساتھیوں نے 29 جنوری کی رات مختلف پولیس تھانوں میں گزاری اور اب انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر 15 دن کے لیے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے ساتھیوں کے خلاف کیس فائل ہونے کے باوجود بھی ان کو ضمانت نہیں دی گئی۔ عدالت مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ میرے دائرہ کار میں نہیں ہے اس لیے میں ان کی ضمانت نہیں دے سکتا۔`

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے پیٹیشن دائر کی ہے جس میں ہم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی اس بات کو چیلنج کیا ہے کہ ضمانت دینا ان کے اختیار میں نہیں۔‘

زیر حراست چند کارکن کون ہیں؟

محمد نوفل سلیمی

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے گریجویشن کرنے والے نوفل سلیمی اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔

ان کی بہن سندس سلیمی نے اپنے بھائی کی گرفتاری کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا ’میرے بھائی نے گریجویشن کی تو اس کا نام ’ڈینز لسٹ‘ میں آیا۔ اس کے بعد اسے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں بہت اچھی نوکری ملی لیکن وہ اسے چھوڑ کر پاکستان واپس آیا اور اس نے سیکھنے کا سفر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر شروع کیا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے نوفل کو برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت دیگر اور یونیورسٹیوں میں داخلہ ملا۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’میرے بھائی کے لیے آرام دہ زندگی کرئیر اور انفرادی کامیابی کافی نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے ظلم وستم سہنے والے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا تھا اور ان کے لیے آواز اٹھانا چاہتا تھا۔ اس کے یہی خیالات اس کی سیاست بن گئے۔‘

ان کی بہن نے اپنے بھائی کے سماجی کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’نوفل اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو جبری بے دخل کرنے کے خلاف کھڑا ہوا۔ اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک سکول بنایا اور اسے چلایا۔ اس نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور بچوں کی بات کی۔‘

انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ’ہم نے کم عمری میں ہی اپنے والد کھو دیا تھا۔ تب سے ہی نوفل نے ایک اچھا بھائی اور بیٹا بن کر دکھایا ہے۔ میں اپنے بھائی کے لیے خوفزدہ ہوں لیکن مجھے اس کے ساتھ ساتھ فخر ہے نوفل میرا بھائی ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ میرا بھائی اور اس کے تمام دوست جلد گھر واپس آ جائیں۔‘

نوفل کی گرفتاری پر ان کی والدہ راشدہ سلیمی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ’مجھے نوفل کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر اس انقلابی شخص کے لیے برا محسوس ہو رہا ہے جس کی اپنی سوچ ہے اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ریاست کے مفاہمتی بیانیے کے بجائے حق کی بات کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد نے کوئی غلط اقدام نہیں اٹھایا۔ وہ صرف پرامن احتجاج کر رہے تھے جو ان کو آئین پاکستان دیتا ہے۔‘

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے راشدہ سلیمی نے کہا ’ریاست صرف نوجوانوں پر اپنا کنٹرول چاہتی ہے کیونکہ وہ انقلاب کی بات کرتے ہیں، وہ تبدیلی کی بات کرتے ہیں، وہ اس بوسیدہ نظام اور معاشرے کو ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں اور یہی ان کا جرم ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ان نوجوانوں کی آواز سنی جائے گی جو تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتے ہیں۔

عمار رشید

عمار رشید کو بھی ایک روز قبل اسلام آباد میں منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

عمار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی کی رکن طوبیٰ سید کا کہنا تھا کہ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک اکیڈمک ہیں اور بیشتر حکومتی اور پرائیویٹ اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ عمار اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) میں بھی پڑھا چکے ہیں۔ ان کی وابستگی عوامی ورکرز پارٹی سے رہی ہے اور فی الحال وہ عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صوبائی یونٹ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمار نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے اکنامکس میں بی ایس سی ڈگری حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انھوں نے برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی سے ڈویلپمنٹ اسٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ عمار کو موسیقی کا بھی شوق ہے اور وہ باقاعدہ طور پر سیاسی تقریبات میں انقلابی گیت اور شاعری پیش کرتے ہیں۔

طوبیٰ سید نے ان کے سماجی کاموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عمار نے سستی رہائش کے حق کے لیے آواز اٹھائی اور حکومت کی جانب سے غیر قانونی کچی بستیوں کی بے دخلی کے خلاف سیاسی اور قانونی مزاحمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمار نے زیادہ تر کام تعلیم اور صحت کی اصلاحات، عوامی پالیسی، معیشت، ذیلی قومی حکمرانی، ملکی ترقی اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق موضوعات پر تحقیق و تدریسی کام کیا ہے۔

محسن ابدالی

لاہور سے تعلق رکھنے والے محسن ابدالی ایم فل ایگریکلچر کے طالب علم ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

محسن کے ساتھ پڑھنے والے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تعلیمی میدان میں محسن کا شمار ذہین طالب علموں میں کیا جاتا ہے۔

پڑھائی کے ساتھ ساتھ محسن سماجی کارکن کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ محسن ماحولیاتی تبدیلی مارچ اور سٹوڈنٹ مارچ کے منتظم بھی رہ چکے ہیں جبکہ محسن نے ایگرکلچر اور ماحولیات پر کام کرنے کے لیے سوسائیٹیز بھی قائم پر رکھی ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کی طوبیٰ سید کے مطابق محسن کو ان کے گھر سے ’اغوا کیا گیا‘ تاہم بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔

محسن کے بھائی عمر خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا ’میرے بھائی کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ انھوں نے لاہور کے لبرٹی چوک میں منظور پشتین کے گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی جبکہ ان کا نام کسی ایف آئی آر میں نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے رات ساڑھے تین بجے ہمارے گھر پر دستک دی اور والد کے پوچھنے پر سوال کیا کہ کیا محسن ابدالی آپ کا بیٹا ہے؟ میرے والد کی جانب سے جواب پر پولیس نے محسن ابدالی کو باہر بلانے کا کہا اور جیسے ہی میرا بھائی گھر کے دروازے پر آیا تو پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔‘

انھوں نے پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے محسن ابدالی کی گرفتاری کے بعد ہمارے گھر میں بنا سرچ وارنٹ کے زبردستی گھس کر تلاشی لی، گھر میں خواتین کی موجودگی کا بتانے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے ہماری بات نہ سنی اور محسن کا موبائل اور لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔‘

محسن کے بھائی عمر خان کا کہنا ہے ’ میرے والد کے پوچھنے پر کہ آپ میرے بیٹے کو کہاں لے جا رہے ہیں، پولیس اہلکاروں نے انھیں دھکے دیے اور ان کا بھی موبائل چھین لیا۔‘

عمر کا کہنا ہے کہ محسن کو حراست میں لے جانے والے کچھ افراد پولیس کی وردی میں تھے جبکہ باقی سادہ لباس میں تھے اور ایک شخص کے علاوہ تمام نے چہروں پر نقاب کیا ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میرا بھائی کسی کیس میں نامزد تھا بھی تو اس کا اصل نام محسن خان ہے جبکہ وہ محسن ابدالی کا لقب بطور سماجی کارکن استعمال کرتے ہیں اوران کو لے جانے والوں نے آ کر محسن ابدالی کا پوچھا محسن خان کا نہیں۔‘