لاہور کے موچی باغ میں پی ٹی ایم کے جلسے کا آغاز، مرکزی لیڈرشپ سٹیج پر موجود

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کا آغاز ہو گیا ہے جہاں تنظیم کی مرکزی لیڈرشپ پہنچ گئی ہے اور مقررین نے تقاریر شروع کر دی ہیں۔

لاہور کے معروف موچی دروازے سے ملحق موچی باغ میں جاری اس جلسے میں موجود بی بی سی پشتو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حنا جیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’تمام گمشدہ افراد کو سامنے لایا جائے۔‘

نامہ نگار کے مطابق موچی باغ تقریباً بھر چکا ہے اور بڑی تعداد میں سول سوسائٹی کے افراد بشمول خواتین اس وقت جلسے میں شامل ہیں۔

گمشدہ افراد کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی امینہ جنجوعہ نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس جلسے میں گمشدہ افراد کی حمایت میں شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے اپنے شوہر کی واپسی کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے منتظمین نے الزام عائد کیا تھا کہ جلسے کے مقام پر لاہور انتظامیہ کی جانب سے گندا پانی گرا دیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی نولکھا ارشاد حیات کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے موقع پر سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تین تہوں کے سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ارشاد حیات کانجو کے مطابق جلسے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 600 پولیس اہلکاروں کےعلاوہ چھ ڈی ایس پیز اور آٹھ ایس ایچ اوز کو تعینات کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی آٹھ چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور ہر چیک پوسٹ میں ایک ایس ایچ او اور 15 پولیس اہلکاروں تعینات ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے لیے این او سی دیے جانے کے حوالے سے ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ ’ہم اعلیٰ سطح پر ہونے والے کسی بھی مذاکرات سے لاعلم ہیں تاہم ہمیں جلسہ گاہ کو سکیورٹی فراہم کرنے اور احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والوں کو نہ روکنے کا کہا گیا ہے۔‘

ارشاد حیات کانجو نے ماحول کو پر امن رکھنے کے لیے مظاہرین سے استدعا کی کہ وہ ایسے الفاظ کہنے سے گریز کریں جن سے ان کے مقصد کو نقصان پہنچننے کا احتمال ہو۔

نامہ نگار کے مطابق لاہور اور ملک کے دیگر حصوں سے ریلیوں کی شکل میں افراد جلسے میں شرکت کے لیے آئے ہیں جبکہ گراؤنڈ تک پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب پشتون تحفظ موومنٹ کے گرفتار رہنماؤں کو رات گئے چند گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ رہائی پانے کے بعد خاتون رہنما عصمت شاہ جہاں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کیا۔

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق سنیچر کو رات گئے فیس بک پر لائیو ویڈیو میں رہا ہونے والے رہنماؤں نے بتایا کہ 'ہمیں لاہور کی انتظامیہ نے حراست میں لیا تھا اور انھوں نے تمام حربے استعمال کیے لیکن ہم کسی بھی چیز پر راضی نہیں ہوئے اور ہم نے کہا کہ ہم اسی پوائنٹ پر اپنا جلسہ کریں گے۔۔۔'اس موقع پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتوار کا جلسہ پرامن ہو گا اور ہم پنجابی بھائیوں کے شکرگزار ہیں جنھوں نے ہمارا ساتھ دیا۔

وہیں موجود رہنما عصمت شاہ جہان نے بتایا کہ ہمیں لگتا تھا کہ کسی وقت بھی کچھ ہو جائے گا۔

’یہ یہاں پر آئے اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ آئے۔ یہ کمرے میں گھسے اور انھوں نے علی وزیر کے سر پر پستول تانی اور کہا کہ چلیں۔۔ ہماری کوشش تھی کہ یہ اکیلے نہ جائیں کیونکہ یہاں ایسا ہوتا ہے اور جس کے خلاف ہم خود نکلے ہوئے ہیں۔۔۔ ان کا رویہ انتہائی تشدد آمیز تھا۔ انھیں گھسیٹ کر لے گئے۔ مجھے بندوق کے بٹ مارے، مجھے سیڑھیوں پر نیچے پھینکا، تھانے میں ہمارے ساتھ جو ہوا وہاں ایک ہی بات جاری تھی کہ ہم دہشت گرد ہیں۔ ایجنٹ ہیں۔ اپ پشتون تو یہی ہیں۔ پٹھان نے پورے ملک میں دہشت گردی پھیلائی ہے۔ انھوں نے ہمارے اعصاب توڑنے کی کوشش کی ۔۔ ہم سب کو اکیلے بلایا۔۔۔ وہاں انسداد دہشت گردی کا فل محکمہ اعلیٰ حکام موجود تھے، اور فوج بھی موجود تھی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جب ہمیں گاڑی میں ڈالا گیا تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم کہیں گے کہ آپ قانونی کارروائی کریں۔

عصمت شاہ جہان کے مطابق سینٹرل پولیس سٹیشن سے ایک دوسرے پولیس سٹیشن بھی لے جایا گیا اور پی ٹی ایم کے رہنماؤوں کے سیل فون لے لیے گئے اور ایک رہنما کے فون کا ڈیٹا بھی لے لیا گیا۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے فیس بک پر اپنی ویڈیو میں لاہور میں پی ٹی ایم کے کارکنان کو پنجاب پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی تھی۔

فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں منظور پشتین نے دعویٰ کیا کہ ’آپ لوگوں کو علم ہوگا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان کی لاہور میں پکڑ دھکڑ جاری ہے اور کارکنان علی وزیر، بلال مندو خیل، عصمت شاہ جہاں، مزمل اور دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔'

پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں مزید پڑھیے

پی ٹی ایم کے سربراہ نے مزید دعویٰ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی سے بھی پی ٹی ایم کے چند کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ علی وزیر کو اس وقت بھی گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے والد اور بھائی کی لاشیں اس کے گھر کے صحن میں پڑی ہوئی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف لاہور ہی میں گرفتاریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ پہلے بھی گرفتاریاں کر چکے ہیں۔

انھوں نے درخواست کی کہ آئین کی پاسداری کی خاطر پشتونخوا کے ہر علاقے میں لوگ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ تاہم انھوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ ’پر امن رہیں اور اگر کوئی آپ کو پکڑتا ہے تو اس نے پوری زندگی یہی کیا ہے لیکن آپ پرامن رہیں۔‘

اس سے قبل لاہور کی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کیونکہ انتظامیہ نے جلسے کی اجازت نہیں دی تھی تو یہ ممکن ہے کہ پولیس نے کارروائی کی ہو۔

منظور پشتین کے اس دعوے کے بعد پشاور یونیورسٹی کے طلبہ نے پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے تھے۔

پشاور یونیورسٹی کے طلبہ نے پنجاب پولیس کے خلاف نعرے لگائے اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں کی گرفتاری پر تنقید کی۔

دوسری جانب بی بی سی نے جب اس حوالے سے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا تو انھوں نے ان گرفتاریوں کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ سنیچر کے روز ہی لاہور کی مال روڈ پر تحفظ پاکستان موومنٹ کے نام سے ایک ریلی نکالی گئی تھی۔