عراق: امریکی افواج کے خلاف بغداد میں ملین مارچ، تصاویر میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہزاروں افراد نے امریکی افواج کے عراق سے انخلا کے حق میں سڑکوں کا رخ کر لیا ہے۔
جمعے کے صبح مظاہرین نے بغداد کے وسط میں جمع ہونا شروع کر دیا تھا تاہم کچھ گھنٹوں کے بعد یہ علاقہ لوگوں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا
یاد رہے کہ عراق کے بااثر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے جمعہ کو امریکی سفارت خانے کے قریب لوگوں کو 'ملین مارچ' میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہر میں احتجاج کرنے والوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا بھی ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے تین جنوری کو ایران کے اہم ملٹری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ملک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے سربراہ ابو مہدی المہندس بھی شامل تھے۔
ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردِ عمل میں عراق میں دو امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی جانب سے بعد میں کہا گیا کہ آٹھ جنوری کو کیے گئے حملے میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔
بغداد میں اس وقت کیا ہو رہا ہے؟
جمعے کے صبح مظاہرین نے بغداد کے وسط میں جمع ہونا شروع کر دیا تھا تاہم کچھ گھنٹوں کے بعد یہ علاقہ لوگوں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین نے عراقی قومی پرچم اور پلےکارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کے خلاف نعرے درج تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے نوجوانوں کی اکثریت کی جانب سے کیے گئے ان مظاہروں کی اہمیت میں کمی لائیں گے جو پچھلے کئی مہینوں سے عراقی حکومت میں مکمل تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اس ماہ کے اوائل میں عراقی اراکین پارلیمان کی جانب سے غیر ملکی افواج کے ملک سے انخلا کے حوالے سے ایک قرار داد منظور کرائی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
23 جنوری کو عراقی اور امریکی صدور کی سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک فورم میں ملاقات ہوئی تھی جس میں عراق میں امریکی افواج کی تعداد کم کرنے پر بات چیت ہوئی تھی۔
اس ملاقات کے باعث عراق کے شیعہ گروپ ناراض ہو گئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عراق کے صدر صالح کو عراقی خود مختاری کی تعظیم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس موقع پر 20 جنوری کو عراق میں ایک حکومت مخالف مظاہرے کی کوریج کے دوران ہلاک ہونے والے صحافی یوسف ستار کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔
قریباً پانچ ہزار امریکی فوجی اس وقت عراق میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔
ایران کی جانب سے جن فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا وہ بغداد کے مشرق میں واقع اربیل اور الاسد کے علاقوں میں موجود تھے۔
۔












