آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انٹرپول کے سابق چینی سربراہ کو 13 برس قید
چین کی ایک عدالت نے انٹرپول کے سابق سربراہ مینگ ہونگ وائی کو بدعنوانی کے الزام میں 13 برس قید کی سزا سنائی ہے۔
مینگ ہونگ وائی پہلے چینی شہری تھے جو انٹرپول کے سربراہ بنے۔ ان کے عہدے کی مدت 2020 میں ختم ہو رہی تھی۔
مینگ ہونگ وائی جب 2018 میں چین گئے تو وہاں ’لاپتہ‘ ہو گئے۔ پیرس میں انٹرپول کے دفاتر کی جانب سے جب اپنے سربراہ کے لاپتہ ہونے کے بارے میں آواز اٹھائی گئی تو چین نے تسلیم کیا کہ انھیں چین میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
چین میں گرفتاری کے بعد مینگ ہونگ وائی انٹرپول سے مستعفیٰ ہو گئے تھے۔
چون سالہ مینگ ہونگ نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے بدعنوانی کے ذریعے دو ملین ڈالر کی رقم کمائی ہے۔ چین کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے مینگ پر بیس لاکھ یوان جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مینگ ہونگ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
کیمونسٹ پارٹی نے کہا ہے کہ مینگ نے سرکاری حیثیت کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا اور خاندان کے شاہانہ لائف سٹائل کو برقرار رکھنے کے لیے سرکاری ذرائع کا استعمال کیا۔
ان کی پارٹی رکنیت کو ختم کر دیا گیا ہے اور تمام سرکاری عہدے ان سے واپس لے لیے گئے ہیں۔
مینگ کی بیوی کا، جو فرانس میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں، کہنا ہے کہ ان کے شوہر کے خلاف کارروائی کے سیاسی محرکات ہیں۔
چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کے دور میں ملک میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف ایک مہم چلائی گئی اور اس دوران 10 لاکھ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
صدر شی جن پنگ کے بعض مخالفین الزام عائد کرتے ہیں کہ صدر نے بدعنوانی کے خلاف مہم کو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا ہے۔