سینیئر چینی اہلکار انٹرپول کے سربراہ منتخب

ایک سینیئر چینی اہلکار کو عالمی سطح پر پولیس کے درمیان تعاون کرنے والے ادارے انٹرپول کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

چین کی وزارت امن عامہ کے نائب وزیر مینگ ہونگوی اس عہدے پر تعینات ہونے والے پہلے چینی شہری ہیں۔ وہ اس عہدے پر چار سال تک فرائض سرانجام دیں گے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس فیصلے سے چین کو ملک چھوڑ کر جانے والے سیاسی مخالفین کا پیچھا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم مینگ ہونگوی کا کہنا ہے کہ وہ کچھ بھی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں 'جس سے دنیا میں پولیس کا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔'

انٹرپول کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مینگ ہونگوی کا کہنا تھا کہ 'ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عالمی سطح پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کے عوامی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔'

ان کا عہدہ انٹرپول کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے صدر کا ہے جو اس ادارے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

دوسری جانب ایمیسٹی انٹرنیشنل کے نکولس بیکوئلن کا کہنا ہے کہ 'یہ (تعیناتی) غیرمعمولی طور پر پریشان کن ہے کیونکہ چین بیرون ملک سے باغیوں اور پناہ گزینوں کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کا استعمال کرتا رہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس شخص کی تعیناتی ادارے کے عالمی انسانی حقوق کے جذبے کے تحت کام کرنے مینڈینٹ کے ساتھ متصادم ہے۔

تاہم انٹرپول کے پاس کسی ملک میں کسی کی گرفتاری کے لیے اہکار بھیجنے یا گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ ریڈ نوٹس یا کسی مطلوب شخص کے لیے بین الاقوامی الرٹ جاری کر سکتی ہے۔

ماضی میں چین نے لوگوں کو واپس لانے کے لیے انٹرپول کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ سنہ 2014 میں انٹرپول نے 100 کے قریب مشتبہ بدعنوان افراد کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیے تھے جو بیرون ملک فرار ہو چکے تھے۔

نکولس بیکوئلن نے بی بی سی کو بتایا: 'انٹرپول کے پاس طاقتور آپریشنل اختیار نہیں ہے، لیکن دنیا کی سب سے بڑی پولیس کے ادارے کے طور پر اس کو کسی حد تک اثرورسوخ ہوتا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں چینی شہریوں کے حوالے سے انٹرپول کی جانب سے اس قسم کے نوٹس کو سخت جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔'

خیال رہے کہ چین سنہ 2017 میں انٹرپول کی 86 ویں جنرل اسمبلی کی میزبانی کرے گا۔