امریکہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں مونچھ کا تنازع

جنوبی کوریا میں امریکی سفیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی سفیر ہیری ہیرس پر الزام ہے کہ مونچھیں رکھ کر وہ جنوبی کوریا کے لوگوں کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں

ایک جانب تو امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات تنزلی کا شکار ہیں تو دوسری جانب سیول میں موجود امریکی سفیر کی مونچھیں وہاں کے شہریوں کے غیض و غضب کو للکار رہی ہیں۔

ہیری ہیرِس کی، جو امریکی بحریہ کے سابق ایڈمرل اور 2018 سے جنوبی کوریا میں امریکی سفیر ہیں، گھنی مونچھیں بعض کورین شہریوں کو 1910 سے 1945 تک ان کے ملک پر جاپانی تسلط کی ناخوشگوار یاد دلاتی ہیں۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہیری کی مونچھیں انھیں اس دور کے جاپانی گورنر جنرل کی یاد دلاتی ہیں جب جنوبی کوریا جاپان کی نوآبادی تھا۔

ہیری ہیرس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہیری ہیرس 2018 میں جنوبی کوریا کے لیے امریکی سفیر مقرر ہوئے

ہیری کے والد امریکی بحریہ میں افسر تھے اور ان کی والدہ کا تعلق جاپان سے تھا۔ اس سے قبل انھوں نے یہ کہہ کر تنازع کھڑا کر دیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی ملک میں تعیناتی جنوبی کوریا کو زیادہ رقم ادا کرنی چاہیے۔

جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں بتایا کہ ان کے خیال میں اصل اعتراض ان کے ورثے پر ہے، 'میری مونچھوں میں تو کسی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے لیے ایک کشش ہے۔ مجھے پر یہاں کے میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، پر تنقید میرے نسلی پس منظر کی وجہ سے کی جاتی ہے جو جاپانی امریکی ہے۔'

نزاع کا باعث مونچھ کیوں؟

ہیری، جن کی عمر 63 برس ہے، ایسے وقت میں سفیر تعینات ہوئے جب جنوبی کوریا اور جاپان کے مابین کشیدگی عروج پر تھی۔

جنگ عظیم دوم کے دوران جاپان کے وزیراعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے وزیراعظم رہنے والے ہدیکی توجو بھی مونچھ بردار تھے

اس کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب نومبر 2018 میں جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے جاپانی کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ جنگ عظیم دوم کے دوران وہاں کے شہریوں سے لی گئی جبری مشقت کا معاوضہ ادا کریں۔

اسی طرح اگست 2019 میں جاپان نے جنوبی کوریا کی تجارت کے لیے خصوصی حیثیت ختم کر دی۔

جنوبی کوریا کے شہریوں کا غصہ امریکی سفیر کی مونچھ پر گرا۔ اور حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیمان نے ان کی مونچھوں کا موازنہ نوآبادیاتی دور کے ایک جاپانی گورنر جنرل سے کر ڈالا۔

اس کے بعد دوسرے ذرائع ابلاغ نے بھی ان کی مونچھوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا جانے لگا کہ وہ خود کو سفیر نہیں بلکہ گورنر جنرل سمجھتے ہیں۔

ہیری 40 سال کی اپنی نیوی کی ملازمت کے دوران کلین شیو رہے ہیں۔ مگر کوریا ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بطور ایک سفارتکار نئی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے مونچھیں رکھنے کا فیصلہ کیا۔

جشن آزادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2019 میں جنوبی کوریا کے شہری جاپانی تسلط کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے

ان کے بقول وہ اس وقت تک اپنی مونچھ صاف نہیں کروائیں گے جب تک کوئی انھیں اس پر قائل نہ کر لے کہ ان سے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

اس وقت جنوبی کوریا میں 28,500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ انتظام امریکی اور جنوبی کوریا کے مابین اس معاہدے کا حصہ ہے جو شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین پر رکھنے کے لیے جنوبی کوریا 900 میلن ڈالر کی بجائے پانچ بلین ڈالر ادائیگی کرے۔