آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عراق میں مظاہرے اور ہلاکتیں: پارلیمان نے وزیر اعظم عبدالمہدی کا استعفی منظور کر لیا
عراق میں گذشتہ چند ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں لگ بھگ 400 شہریوں کی ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمان نے ملک کے وزیرِ اعظم عبدالمہدی کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
اگرچہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ملک کے نئے وزیر اعظم کون ہوں گے تاہم پارلیمان کے سپیکر نے سابق وزیر اعظم المہدی کے استعفے کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے صدر برہام صالح کو نئے وزیر اعظم کا نام تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل سابق وزیر اعظم عبدالمہدی نے پرتشدد مظاہروں کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ جلد ہی پارلیمان میں اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔
اکتوبر کے اوائل میں بغداد سمیت عراق کے دیگر شہروں میں شروع ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں اب تک 400 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں شہری زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم کے استعفی پر غور کے لیے اتوار کے روز عراقی پارلیمان کا ہنگامی سیشن بلایا گیا تھا۔
مظاہرین حکومت سے نوکریوں، کرپشن کے خاتمے اور بہتر شہری سہولیات دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ عراق میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علما نے مظاہرین کے خلاف سرکاری فورسز کے استعمال کی مذمت کی ہے اور نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ان خبروں پر انھیں بہت تشویش ہے جن میں بتایا گیا کہ مظاہرین کے خلاف مسلسل آتشیں اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
عبدالمہدی کیوں مستعفی ہوئے؟
جمعہ کے روز وزیراعظم عبدالمہدی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے تاکہ ممبران نئی حکومت کو چن سکیں۔
وزیراعظم کا یہ فیصلہ مفتی آیت اللہ علی سیستانی کی جانب سے نئی حکومت کے قیام کے مطالبے کے بعد سامنے آیا تھا۔
اس مطالبے کے جواب میں وزیراعظم عبدالمہدی کی دستخط شدہ تحریر میں لکھا گیا تھا کہ وہ پارلیمان سے کہیں گے کہ وہ ان کا استعفیٰ قبول کریں۔
عراق میں مظاہرے وزیرِ اعظم عبدالمہدی کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر آن لائن دی گئی کال کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ بھی عراق کے وزیراعظم عبدالمہدی نے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد دارالحکومت بغداد میں کرفیو کا اعلان کیا جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔
ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دی گئی
29 نومبر کو مظاہرین کے ایک گروہ نے نجف شہر کے جنوبی علاقے میں واقع ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دی ہے۔ مظاہرین ’ایران عراق سے نکلو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم قونصل خانے کا عملہ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
ایرانی قونصل خانے پر یہ ایک ماہ میں دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل کربلا میں ایرانی قونصل خانے پر تین ہفتے پہلے حملہ ہوا تھا۔
عراق نے گذشتہ چند ہفتوں سے جاری مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی سے نمٹنے کے لیے ہنگانی سیل قائم کر دیے ہیں۔
جمعرات کو ناصریہ میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مظاہرین کی جانب سے ایران پر عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
ایران نے مغربی ممالک پر الزام لگایا تھا کہ وہ عراق میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔
ایک عینی شاہد کے مطابق بصرہ میں مظاہرین نے سرکاری ملازمین کو کام کرنے کے لیے عمارتوں میں جانے سے روکا۔ انھوں نے ملازمین کو روکنے کے لیے ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والے اپنے پیاروں کی یاد میں کنکریٹ کے ٹکڑوں کو پینٹ کر کے علامتی تابوت بنا رکھے تھے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں عراق کا 12واں نمبر ہے۔