آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانوی حکومت اور فوج پر عراق اور افغانستان میں ہوئے ’جنگی جرائم چھپانے‘ کا الزام
برطانوی حکومت اور فوج پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں ہوئیں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو چھپایا تھا۔
بی بی سی پینوراما اور سنڈے ٹائمز نے اس تحقیق کے سلسلے میں 11 برطانوی تفتیش کاروں سے بات کی جن کا دعویٰ ہے کہ انھیں جنگی جرائم کے مستند ثبوت ملے ہیں۔
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
یہ نئے شواہد ’عراق ہسٹورک ایلیگیشن ٹیم‘ (آئی ایچ اے ٹی) اور ’آپریشن نارتھمور‘ کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایچ اے ٹی نے برطانوی فوج کی جانب سے عراق پر قبضے کے دوران کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کیں جبکہ آپریشن نارتھمور نے افغانستان میں کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم پر تحقیقات کی ہیں۔
حکومت نے آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک وکیل فل شائنر کو ان کے عہدے سے ان الزامات کے بعد سبکدوش کیا گیا کہ انھوں نے عراق میں فکسرز کو پیسے دے کر کلائنٹ ڈھونڈے۔
فل شائنر آئی ایچ اے ٹی کے پاس ایک ہزار سے زائد اس نوعیت کے کیس لے کر گئے تھے۔
لیکن آپریشن نارتھمور اور آئی ایچ اے ٹی کے سابقہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فل شائنر کے افعال کو جنگی جرائم سے متعلق تحقیق کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کی جانب سے کی گئی تفتیش کے نتیجے میں کسی کو سزا نہیں دی گئی۔
آئی ایچ اے ٹی کے ایک تفتیش کار نے پینوراما کو بتایا کہ ’وزارتِ دفاع کا کسی بھی فوجی کو سزا دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ چاہے اسی فوجی کا کوئی بھی عہدہ کیوں نہ ہو، یا اگر یہ ناگزیر ہو جائے اور وہ اس سے بچ نہ سکیں۔‘
ایک اور سابقہ تفتیش کار کے مطابق جنگی جرائم سے متاثرہ افراد کو بری طرح مایوس کیا گیا۔
’میں اس کے لیے قابلِ نفرت کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ اورمجھے ان خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ہے کیونکہ انھیں انصاف نہیں ملا۔ آپ بطور برطانوی شہری اپنا سر اٹھا کر کیسے جی سکتے ہیں؟‘
پینوراما نے ان جنگی جرائم کے متعدد کیسز کے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ آئی ایچ اے ٹی کی جانب سے تحقیق کیے جانے والا ایک کیس سنہ 2003 میں بصرہ کا ہے جہاں گشت کرتے ایک برطانوی فوجی نے ایک عراقی پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔
عراقی سپاہی رائد الموسوی کو ایک گلی میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنے گھر سے نکل رہے تھے۔۔ اس حادثے کی تحقیق اس وقت کے برطانوی فوجی کمانڈر میجر کرسٹوفر سس فرینکسن نے کی تھی۔
24 گھنٹوں کے اندر ہی میجر سس فرینکسن اس نتیجے پر پہنچ گئے کے یہ فائرنگ قانوی تھی کیونکہ عراقی پولیس افسر نے پہلے گولی چلائی اور برطانوی فوجی نے اپنے بچاؤ کے لیے فائرنگ کی۔
ان کی رپورٹ کے مطابق برطانوی سپاہی نے فائرنگ دیکھی تھی اور تصدیق کی تھی کہ عراقی نے پہلے فائرنگ کی۔
آئی ایچ اے ٹی کے تفتیش کاروں نے اس کیس کی دو سال تک تفتیش کی اور 80 برطانوی فوجیوں کا انٹرویو کیا جس میں وہ برطانوی فوجی بھی شامل تھا جس نے مبینہ طور پر فائرنگ دیکھی تھی۔
آئی ایچ اے ٹی کو اپنے بیان میں اس فوجی نے میجر سس فرینکسن کی رپورٹ سے براہِ راست متضاد بیان دیا اور وہ یہ تھا کہ 'یہ رپورٹ غلط ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے میں عینی شاہد تھا۔ یہ درست نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے صرف ایک گولی چلنے کی آواز سنی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار نے بالکل بھی فائرنگ نہیں کی تھی۔ اس کی تصدیق آئی ایچ اے ٹی کی جانب سے انٹرویو کیے گئے دوسرے گواہوں نے بھی کی۔
تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے کہ جس فوجی نے راعد کو گولی ماری، انھیں عراقی پولیس افسر کے قتل اور میجر سس فرینکسن پر پورے واقعے پر پردہ ڈالنے کے لیے مقدمہ چلانا چاہیے۔ مگر فوجی استغاثہ اب تک کسی کو عدالت نہیں لے کر گیا ہے۔
میجر سس فرینکسن کے وکیل نے کہا کہ ’میرے کلائنٹ نے آئی ایچ اے ٹی کا مواد نہیں دیکھا ہے اور آئی ایچ اے ٹی کے تفتیش کاروں کے جمع کردہ ثبوتوں کے معیار، ان کی سند، اور یہ کیوں کسی فوجی پر برطانوی قانون کے تحت مقدمہ کے لیے ناکافی ہے، کے حوالے سے تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘
حکومت نے آپریشن نارتھمور سنہ 2014 میں قائم کیا تھا جس نے 52 مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں کا جائزہ لیا۔
اور اس سے پہلے کے رائل ملٹری پولیس کے تفتیش کاروں کو اہم افغان گواہوں کا انٹرویو کرنے کا موقع ملتا، حکومت نے اس کمیشن کو ختم کر دیا۔
نارتھمور کے ایک تفتیش کار کا کہنا تھا کہ ’میں تب تک اس حوالے سے نتیجے پر نہیں پہنچوں گا جب تک کہ میں دونوں فریقوں سے بات نہ کر لوں۔ اگر آپ نتیجے پر پہنچ رہے ہیں اور آپ کے پاس صرف برطانوی مؤقف ہے، تو پھر یہ کیسی تفتیش ہے؟ میرا نظریہ یہ ہے ان میں سے ہر ایک ہلاکت کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور قانونی تقاضوں کو پورا ہونا چاہیے۔‘
وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن قانون کے تحت ہوتے ہیں اور الزامات پر وسیع تر تحقیقات ہوئی ہیں۔
وزارت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تفتیش اور کسی پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ جائز طور پر وزارتِ دفاع سے آزاد ہوتا ہے اور اس میں بیرونی نگرانی اور قانونی مشورہ شامل رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خودمختار حیثیت رکھنے والی سروس پراسیکیوٹنگ اتھارٹی نے اپنے پاس بھیجے گئے کیسز کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ بی بی سی کے دعوؤں کو سروس پولیس اور سروس پراسیکیوٹنگ اتھارٹی تک پہنچا دیا گیا ہے جو الزامات پر غور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘
پینوراما وار کرائمز سکینڈل ایکسپوزڈ بی بی سی ون پر پیر 18 نومبر کو بین الاقوامی وقت کے مطابق رات 9 بجے دکھایا جائے گا۔