عراق: حکومت مخالف مظاہروں کے بعد بغداد میں کرفیو نافذ، سوشل میڈیا پر پابندی

عراق میں بدعنوانی، شہریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور بے روزگاری کے خلاف کیے گئے مظاہروں میں کم از کم سات شہری ہلاک جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

عراق کے وزیراعظم عبدالمہدی نے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد دارلحکومت بغداد میں کرفیو کا اعلان کیا ہے جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔

نجی ویب سائٹ الغاد پریس نے عراق میں نظام مواصلات کے معیار کی پیمائش کرنے والے ادارے کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز کی گردش کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

کردش شفق نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک جبکہ 650 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عراق کے وزیراعظم عبدالمہدی نے ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

یہ احتجاج عبدالمہدی کی حکومت کے سال مکمل ہونے کے موقع پر آن لائن دی گئی کال کے جواب میں کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں پولیس نے اس وقت ہوائی فائرنگ شروع کر دی جب مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ گرین زون وہ علاقہ ہے جہاں پر دوسرے ممالک کے سفارتخانے اور سرکاری اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔

عراق کے دارلحکومت بغداد اور ملک کے دوسرے شہروں میں ہونے والے اس احتجاج میں مظاہرین نے بدعنوانی اور حکومت مخالف نعرے بھی لگائے۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان میں شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ احتجاج کی آڑ میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں نے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں تاہم 40 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 200 افراد زخمی ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں عراق کا 12وں نمبر ہے۔