تھائی لینڈ: مردہ ہاتھیوں کو آبشار سے نکالنے کی کوشش جاری

آبشار میں مردہ ہاتھی

،تصویر کا ذریعہThailand DNP

،تصویر کا کیپشنتھائی حکام کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں نے ایک چھوٹے کو بچاتے ہوئے جان دی

تھائی لینڈ میں حکام ان چھ ہاتھیوں کی لاشیں آبشار سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے اونچائی سے گر گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی لاشوں سے پانی کے آلودہ ہونے کا خطرہ ہے۔

کھاؤ یائی نیشنل پارک کے اہلکاروں نے پانی کے بہاؤ کی طرف ایک جال لگا دیا ہے تاکہ مردہ ہاتھیوں کے جسم بہہ کر ڈیم کی طرف نہ چلے جائیں۔

یہ ہاتھی اس طرح کے حادثات کے لیے مشہور آبشار ہیئو ناروک میں گرنے کے بعد ہلاک ہوئے تھے۔ اس آبشار کے تھائی نام کا مطلب ’دوزخ سے گرنے والی آبشار‘ ہے۔

سنیچر کو دیگر دو ہاتھیوں کو بچا بھی لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

،ویڈیو کیپشنڈوبتے ہوئے ننھے ہاتھی کو ماں نے بچا لیا

تھائی لینڈ کے ڈیپارٹمنٹ آف نیشنل پارکس، وائلڈ لائف اینڈ پلانٹ کنزرویشن نے بتایا ہے کہ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق تین بجے اس کے افسران کو اس لیے بلایا گیا کیوں کہ آبشار کے نزدیک ایک سڑک کو ہاتھیوں نے بلاک کیا ہوا تھا۔

تین گھنٹے کے بعد نیچے آبشار کے پانی میں ایک تین سالہ ہاتھی کو مردہ پایا گیا اور پانچ مردہ ہاتھی بھی قریب ہی پائے گئے۔

بچ جانے والے دو ہاتھی ایک پتھر پر بڑی مشکل میں دیکھے گئے۔ ایک پارک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بچ جانے والے ہاتھیوں کے راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور وہ محفوظ ہیں لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کا زیادہ عرصے تک زندہ رہنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ہاتھی تحفظ اور خوراک کے لیے اپنے غول پر انحصار کرتے ہیں۔

اگلا مشن یہ ہے کہ ان لاشوں کو دریا سے کیسے نکالا جائے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ’چھ ابھی بھی دریا میں ہیں اور دریا بہت تیز ہے۔‘

،ویڈیو کیپشنہاتھی اپنے بچے کو بچانے کی کوشش میں

’ہم نے دریا کی دونوں طرف رسے لگائے ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ لاشوں کو نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔‘

وائلڈ لائف فرینڈز فاؤنڈیشن تھائی لینڈ کے بانی ایڈون ویئک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امید کرتے ہیں کہ وہ لاشوں کو کسی ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں وہ انھیں ایک ڈِگر (کھودنے والے آلے) کی مدد سے اٹھائیں گے اور دفن کر دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ گلتے سڑتے جسم بہت زیادہ بدبو دار ہوسکتے ہیں اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں کے متعلق بھی انھیں تشویش ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ہیئو ناروک میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہو۔ 1992 میں آٹھ ہاتھیوں کا غول وہاں گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔

حکام اب کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا واقعہ پھر کبھی دوبارہ نہ پیش آئے۔

بینکاک پوسٹ کے مطابق قدرتی وسائل اور ماحولیات کی وزیر وراوت شلپا آرچا نے آبشار کے نزدیک ایک پشتہ تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ جانوروں کو اس میں گرنے سے روکا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ پارک میں خوراک کی مخصوص جگہیں بھی ہونی چاہییں تاکہ جانوروں کو اس کی کمیابی کا مسئلہ درپیش نہ آئے اور وہ خوراک حاصل کرنے کے لیے خطرناک مقامات پر نہ جائیں۔

،ویڈیو کیپشنسری لنکن بحریہ نے سمندر میں پھنسے ہاتھی کو بچایا