شیخہ لطیفہ کی سہیلی: ’دبئی کی شہزادی نے کہا مجھے گولی مار دیں گھر واپس نہیں جاؤں گی‘

دبئی کے حکمران کی بیٹی شیخہ لطیفہ کو، جو کہ مبینہ طور پر دبئی سے فرار ہونے کے بعد پکڑی گئی تھی، گذشتہ 18 ماہ سے دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔

اب ایک ’فری لطیفہ‘ مہم میں اقوامِ متحدہ سے کہا جا رہا ہے وہ متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈالے کہ وہ شیخہ لطیفہ کو پیش کرے۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جب انھیں پکڑا گیا تو وہ ایک سابق فرانسیسی جاسوس ایروے جوبیر اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی اپنی دوست اور مارشل آرٹس کی استاد ٹینا جوہینن کی مدد سے ملک سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ٹینا جوہینن نے بی بی سی کو بتایا کہ جب شیخہ لطیفہ کو پکڑا گیا تو ان کے آخری الفاظ تھے کہ انھیں گولی مار دیں کیونکہ واپس جانے پر موت کو ترجیح دیں گی۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے گذشتہ سال دسمبر میں اس کی مکمل تردید کی تھی اور کہا تھا کہ شہزادی گھر پر اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس واقعے نے بین الاقوامی ہیومن رائٹس تنظیموں میں کافی تشویش پیدا کر دی تھی اور انھوں نے اماراتی حکومت سے کہا تھا کہ وہ شہزادی کے محفوظ ہونے کو ثابت کریں۔

انسانی حقوق کے وکیل ڈیوڈ ہے اس وقت اقوامِ متحدہ سے آئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہزادی کی بہبود اور رہائی کے لیے دبئی پر دباؤ ڈالا جائے۔

دسمبر میں ہی متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کو ایک بیان بھیجا تھا جس میں انھوں نے شہزادی کے بارے میں ’جھوٹے الزامات کی تردید‘ کی۔

اس بیان کے ساتھ جو تصاویر شائع کی گئی تھیں ان میں شہزادی کو آئرلینڈ کی سابق صدر اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق کمشنر میری رابنسن کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تصاویر 15 دسمبر کو لی گئی تھیں۔

اماراتی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ تصاویر اس دوپہر کو لی گئیں جو دونوں نے اکھٹے گزاری اور ان کی مرضی سے لی گئی تھیں۔

حکام کے مطابق ان کے دبئی کے دورے پر میری رابنسن کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ شیخہ لطیفہ ٹھیک ٹھاک ہیں اور انھیں تمام امدادی سہولیات فراہم ہیں۔

شیخہ لطیفہ دبئی کے امیر محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے آزادی کی زندگی جینے کے لیے ملک سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق وہ جس پرتعیش کشتی میں بھاگ رہی تھیں سکیورٹی اہلکار اسے روک کر واپس دبئی لے آئے تھے۔ حالیہ تصاویر سے قبل اور اس واقعے کے بعد سے کسی نے انھیں دیکھا یا سنا نہیں تھا۔

شیخہ لطیفہ کا پیغام

شیخہ لطیفہ کے گمشدہ ہونے کے بعد ان کے دوستوں نے حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جو ان کے مطابق شیخہ نے اس واقعے سے پہلے ریکارڈ کروایا تھا اور کچھ ہونے کی صورت میں اسے منظر عام پر لانے کو کہا تھا۔

اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں 'میں یہ ویڈیو بنا رہی ہوں کیوںکہ شاید یہ وہ آخری ویڈیو ہو جو میں بنا رہی ہوں۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو یہ اچھا نہیں ہے ۔۔۔ کیوں کہ یا تو میں مر چکی ہوں یا پھر کسی بہت ہی مشکل صورتحال میں ہوں۔'

اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ 'میرے والد کو صرف اپنی ساکھ کی فکر ہے۔'

ان کی دوست ٹینا جوہینن کہتی ہیں 'وہ آزادی چاہتی تھی۔ انھوں نے 2002 میں بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں جیل میں ڈال دیا گیا جہاں انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سال گزارے تھے۔'

فرار ہونے کا منصوبہ کیسے بنا؟

گذشتہ برس شیخہ لطیفہ نے فرانس کی انٹیلیجنس کے ایک سابق افسر ایروے جوبیر سے رابطہ کیا تھا۔ اس شخص کا دعویٰ ہے کہ کئی برس پہلے وہ خود ایک برقعے میں دبئی سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انھیں ایسا اس لیے کرنا پڑا تھا کیوںکہ ان کے مطابق 'ایک کاروباری معاہدے میں کچھ تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں اور ان پر خرد برد کے الزامات لگائے گئے تھے۔'

وہ بتاتے ہیں کہ شیخہ لطیفہ بھی اسی طرح سے بھاگنے کا ارادہ رکھتی تھیں جیسے وہ بھاگے تھے۔ 'ایک ٹورپیڈو (آبدوز کشتی) اور سانس لینے والے آلے کی مدد سے اور میں نے انھیں کہا کہ مجھے آپ کو اس کی تربیت دینی ہوگی۔'

ان کے مطابق شیخہ نے 20 سے 30 ہزار ڈالر میں یہ سانس لینے والے آلات خرید بھی لیے تھے۔

لیکن پھر شیخہ نے ٹورپیڈو کا منصوبہ ترک کر دیا اور وہ اپنی دوست ٹینا کے ساتھ گاڑی کے ذریعے ہمسایہ ملک عمان میں داخل ہوئیں۔ وہاں سے ان کے مطابق انھیں ایک ڈنگی کے ذریعے بین الاقوامی حدود میں کھڑی ایک کشتی تک پہنچایا گیا۔ اس کشتی پر سابق فرانسیسی جاسوس موجود تھے۔

اور وہاں سے وہ انڈیا کی جانب روانہ ہوگئے۔

متحدہ عرب امارات کی درخواست پر انٹرپول کی جانب سے مارچ میں جاری کیے گئے ایک ریڈ وارنٹ سے ان کی کہانی کی کچھ حد تک تصدیق ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وارنٹ میں الزام ہے کہ شیخہ بھاگی نہیں بلکہ انھیں اغوا کیا گیا تھا۔

پھر اس دن کشتی پر ہوا کیا؟

جاسوس کا کہنا ہے کہ انھوں نے غور کیا کہ کئی کشتیاں کئی دنوں تک ان کا پیچھا کرتی رہیں۔

اور آخر کار چار مارچ کو جب وہ انڈیا کے شہر گوا کے قریب تھے تو ایروے کشتی میں وہ اوپر اور شیخہ اپنی دوست کے ساتھ نیچے کیبن میں تھیں جب ان کی دوست کے مطابق انھیں اوپر سے گولیوں کی آوازیں آئیں۔

ایروے کے مطابق جب انھوں نے ایک کشتی کو اپنی جانب آتے دیکھا تو انھیں لگا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس میں کمانڈو تھے جنھوں نے ان کی جانب بندوقیں تان رکھی تھیں۔

ان کی دوست بتاتی ہیں کہ 'ہم نے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور لطیفہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی انھیں لینے آ پہنچا ہے۔ ہم باتھ روم سے باہر آئیں تو کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے زمین پر دھکا دے کر میرے ہاتھ باندھ دیے گئے۔ '

جاسوس بتاتے ہیں کہ انھوں نے لطیفہ کو چیختے چلاتے سنا۔

'وہ کہہ رہی تھی کہ میں نہیں جانا چاہتی، مجھے کشتی پر چھوڑ دو، میں واپس جانے پر مرنے کو ترجیح دوں گی۔'

'پانچ منٹ بعد میں نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی اور وہ اسے لے گئے۔‘