شمالی کوریا کا مزید دو میزائلوں کا تجربہ، جنوبی کوریا کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے دو نامعلوم قسم کے میزائل داغے ہیں جو کہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں کیا گیا چوتھا میزائل تجربہ ہے۔
ایک بیان کے مطابق ان میزائلوں کو جنوبی صوبہ ہانگ ہائے سے مشرق کی جانب سمندر میں داغا گیا ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور جنوبی کوریا اور جاپان سے مشاورت کر رہا ہے۔
شمالی کوریا نے پیر کے روز امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان شروع ہونے والی فوجی مشقوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کوریا کے مطابق یہ مشقیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں دونوں اتحادیوں پر فوجی مشقوں کا جواز پیش کرنے کے لیے ’ہر طرح کی تدبیریں چلانے‘ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی ’جارحانہ فطرت‘ پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ماضی میں کیے گئے میزائل تجربے
جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق گزشتہ جمعے شمالی کوریا نے کم فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے نئی قسم کے میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے حکام کے مطابق یہ دو میزائل بحیرہ جاپان میں جا کر گرے۔
جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے مطابق ان میزائلوں نے انتہائی سست روی سے تقریباً 220 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق میزائل بظاہر غیر معمولی طور پر تیز رفتار تھے۔
جنوبی کوریا کے مطابق بدھ کے روز شمالی کوریا نے دو میزائلوں کا تجربہ کیا جنھوں نے 250 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا اور جاپان کے سمندر میں جا گرے۔
25 جولائی کو بھی شمالی کوریا نے دو میزائلوں کا تجربہ کیا جن میں سے ایک نے چھ سو نوے کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔
واضح رہے کہ یہ تجربہ جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کے درمیان کوریا کے غیر فوجی علاقے میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔ اس ملاقات میں فریقین نے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔











