منشیات کی غیر قانونی تجارت: فلپائن کے پانیوں میں بہتی کوکین کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

،تصویر کا ذریعہMaubam Police
پچھلے کچھ ماہ میں فلپائن کے مشرقی ساحلی صوبوں میں لاکھوں ڈالر مالیت کے کوکین کے پیکٹ سمندر سے بہہ کر آئے ہیں۔
تازہ ترین واقعے میں کوکین کے سات پیکٹ کوئزون صوبے کے ساحل کے قریب سے ملے اور اس سال مئی میں کم و بیش چالیس لاکھ ڈالر کی مالیت کے 39 پیکٹ مچھیروں کو ملے۔
پولیس کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ یہ منشیات آسٹریلیا بھیجی جا رہی ہوں جہاں کوکین کی بہت مانگ ہے۔
لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا کہ یہ منشیات کے پیکٹ ساحل پر کیسے پہنچ رہے ہیں۔
ساحلوں سے ملنے والی کوکین کی مقدار کتنی ہے؟
اتوار کو کوئزن میں ایک خاندان ساحل پر تفریح کی غرض سے گیا تو انھیں سات پیکٹ تیرتے نظر آئے۔
انھوں نے ان پیکٹوں کو اکھٹا کیا اور جب انھیں اندازہ ہوا کے ان میں کیا ہو سکتا ہے تو مچھلی فروش روئل پیریز نے فوراً پولیس کو کال کر دی۔
کوئزون پولیس کے ڈائریکٹر کرنل رامل مونٹیلا نے منیلا بولیٹن کو بتایا کے ان پیکٹوں میں کوئی سفید رنگ کی چیز موجود تھی۔ ان کے مطابق ان پیکٹوں کے ارد گرد ٹیپ لگائی گئی تھی اور ان پر ایک انرجی ڈرنک کا لوگو چسپاں تھا۔
ان پیکٹوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں لیکن کرنل مونٹلا نے کہا ہے کہ اگر یہ واقعی کوکین ہے تو اس کی مالیت 3 کڑور پچاس لاکھ پیسوز (یعنی چھ لاکھ 82 ہزار ڈالر یا پانچ لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ) ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ فروری میں ملنے والی کوکین کی نسبت کم ہے جب ایک ہفتے میں تقریباً چار کروڑ 72 لاکھ پیسوز کی ہیروئن ملی تھی۔
جس کے بعد کاراگا خطے میں پولیس نے مقامی رہائشیوں کو کوکین کے بدلے ایک بوری چاول دینے کا فیصلہ کیا۔ فلپائن کے ادارہ شماریات کے مطابق، ایک کلو چاول کی قیمت اعشاریہ چھ آٹھ ڈالر (یعنی اعشاریہ پانچ چار پاؤنڈ ہے)۔
پھر مئی میں مچھیروں کو سورسوگن صوبے کے پانیوں میں مچھلیاں پکڑتے وقت کوکین کے 39 پیکٹ ملے تھے۔

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
امریکہ کے انسٹیٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز نامی تھنک ٹینک میں ڈرگ پالیسی پروجیکٹ میں کام کرنے والے سانھو ٹری کے مطابق اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کبھی کبھار اگر حکام تیز رفتار کشتیوں کا تعاقب کر رہے ہوں تو کشتیوں میں سوار لوگ ثبوت مٹانے کی غرض سے کارگو سمندر میں پھینک دیتے ہیں، ممکن ہے کہ پانی کا بہاؤ انھیں فلپائن کی جانب لے آیا ہو۔‘
ٹری کے مطابق یہ پیکٹ کسی ایسی کھیپ کا حصہ ہو سکتے ہیں جو منزل پر نہ پہنچ سکی ہو۔
بعض اوقات یہ لوگ ان پیکٹوں کو ایک جال میں ڈال کر سمندر کے پانی میں محفوظ کر دیتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ پیکٹ کبھی کبھار اس جال میں سے نکل بھی جاتے ہیں۔
لیکن فلپائن کے انسدادِ منشیات کے محکمے یعنی پی ڈی ای اے کا خیال ہے کہ منشیات فروش گروہوں نے ’بہتی کوکین‘ کے ذریعے ان کا دھیان ہٹانے کی کوشش کی ہے۔
فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیوٹرٹے کی ’مشیات کے خلاف خوفناک جنگ‘ جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں مبینہ منشیات فروشوں اور منشیات استعمال کرنے والوں کو پولیس اور دوسرے گروہوں نے ہلاک کر دیا ہے۔
اکوینو کے مطابق ’فلپائن میں کوکین کی زیادہ طلب نہیں ہے۔ منشیات فروش کوکین کی قربانی دے کر شبو(کرسٹل) سمگل کرتے ہیں۔‘
فلپائن کی پولیس کے سربراہ آسکر ایلبیالڈ کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ منشیات فروش اتنا مہنگا طریقہ اپنائیں گے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی فلپائن نیوز ایجنسی (پی این اے) کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کوکین کے پیکٹوں کو مشکل وقت میں سمندر میں پھینکا گیا تھا۔ یہ بات ٹری کے خیال سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا سے اس کا کیا تعلق ہے؟
گذشتہ سال ستمبر میں پولیس نے جزیرہ سولومن سے تقریباً 30 کڑور ڈالر مالیت کی 500 کلو کوکین برآمد کی تھی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سلسلے میں جو تازہ ترین پیکٹ ملے ہیں ان کی منزل آسٹریلیا تھی لیکن منشیات فروشوں نے انھیں پولیس سے بچنے کی غرض سے سمندر میں گرا دیا ہو۔
ایلبایالڈ نے سی این این فلپائن کو بتایا کہ ’انھوں نے یہ منشیات اس لیے چھپائی ہوں گی کیونکہ پاپویا نیو گنی کی بحریہ ان کا تعاقب کر رہی تھی۔‘
پی این اے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ ان پیکٹوں کو آسٹریلیا بھیجا جا رہا ہو گا کیونکہ وہاں پر کوکین کی مانگ زیادہ ہے۔‘












