تعمیراتی کام سکھا کر یو ٹیوب پر لاکھوں مداح بنانے والی خاتون

پلوما سانتوس

،تصویر کا ذریعہArquivo Pessoal

    • مصنف, مائرا سارتوراتو
    • عہدہ, بی بی سی برازیل

چار سال پہلے پلوما سانتوس کا خواب تھا کہ وہ لوگوں کو فیشن یا سفر کرنے پر مشورے دے کر سوشل میڈیا پر مشہوری حاصل کریں گی۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انھوں نے کبھی سیتے لاگواس کے شہر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا، 237،000 باشندوں کا جنوب مشرقی برازیل میں ایک ایسا شہر جہاں وہ آج بھی رہتی ہیں اور میک اپ لگانا تو ان کو آتا ہی نہیں تھا۔

لیکن اب ان کے یو ٹیوب چینل (پلوما سپریانو) کے 625،000 سبسکرائبرز ہیں۔ ساحلوں اور لپ سٹکوں کے بجائے، یہ 25 سال کی نوجوان خاتون تعمیراتی کام پر بات کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ برازیل کی واحد خاتون ہیں جن کا اس مخصوص موضوع پر چینل ہے۔

ان کے ابتدائی منصوبے میں بدلاؤ ان کی والدہ ایوون کی وجہ سے آیا۔

پلوما

،تصویر کا ذریعہYouTube/Paloma Cipriano

ماں بیٹی کی ٹیم

پلوما نے بی بی سی برازیل کو بتایا کہ ’انھوں نے کہا کہ مجھے فرشی ٹائلز لگانے کی ویڈیو بنانی چاہیے۔ مجھے پہلے تو یہ مشورہ کچھ خاص پسند نہیں آیا لیکن میں نے پھر بھی کر لیا۔‘

ان کی اب تک کی 75 لاکھ بار دیکھی جانے والی سب سے مشہور ویڈیو میں وہ دیوار کو پلستر کرنا سکھاتی ہیں۔

ان کے یو ٹیوب پر دیگر تعمیرات کے چینلز سے زیادہ مداح ہیں اور انسٹا گرام پر 45،000 سے زیادہ فالوؤرز بھی۔

پلوما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کی دیگرویڈیوز میں وہ گھر پر خود کرنے والے کام سکھاتی ہیں جیسے کہ فرش پر ٹائلز لگانا، نلکہ لگانا یا دیوار بنانا۔

پلوما کی ویڈیوز میں یہ سب کرنے کے آسان طریقے بتائے جاتے ہیں۔

’میں لوگوں کو دکھاتی ہوں کہ اگر میں کر سکتی ہوں تو سب کر سکتے ہیں۔‘

ضرورت ایجاد کی ماں ہے

پلوما نے تعمیراتی کام مجبوری سے سیکھا جب ایوون اور ان کو مل کر اپنے دو کمرے کے گھر میں کام کروانا تھا لیکن ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔

ان کی والدہ کے دوستوں نے اس 25 سالہ لڑکی کو بنیادی ہنر سکھایا اور جلد ہی پلوما کو اس کام سے پیار ہو گیا۔

تعمیراتی کام کی وجہ سے انھوں نے سنہ 2013 میں سول انجنیئرنگ کے لیے یونیورسٹی جانے کا ارادہ کیا لیکن پہلے ہی سیمسٹر میں یو ٹیوب چینل کو زیادہ توجہ دینے کے لیے پڑھائی چھوڑ دی۔

پلوما کا ماننا ہے کہ گھر کا کام خود کرنے سے انھوں نے کم از کم 7،000 ڈالر بچائے ہیں۔

’میں اتنا خرچہ ویسے کبھی بھی خود نہیں اٹھا پاتی۔‘

ایک ایسے شعبے میں کام کرنے کے لیے جہاں مرد حاوی ہیں، پلوما کے لیے سب سے بڑی مثال ایوون ہی تھیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق برازیل کے تعمیراتی سیکٹر میں خواتین کی شرکت صرف 3.2 فیصد ہے۔

پلوما کہتی ہیں ’میری ماں سب کچھ کرتی ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو وہ صبح پانچ بجے اٹھ کر پیسے کمانے کے لیے زمینوں پر کام کرتی تھیں۔‘

’ان کے عزم سے مجھے جذبہ ملتا ہے۔‘

تاہم پلوما کے بہن بھائی نے مختلف انداز اپنائے ہیں۔ ان کی دو بہنیں تعمیراتی کام سے دور رہتی ہیں جبکہ ان کا 13 سالہ بھائی پاؤلو ان کی ویڈیوز بنانے میں مدد کرتا ہے۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اس نے ابھی تک خود کام کرنا نہیں سیکھا لیکن میں اس کو سکھا رہی ہوں۔‘

تاہم ان کے بہت سے فالوؤرز نے اس بات پر ’حیرانگی‘ ظاہر کی ہے کہ پلوما یہ کام کر رہیں ہیں نہ کہ پاٰؤلو۔

صنفی تعصب

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’پہلے مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا جب لوگ کہتے تھے کہ یہ کام میں خود نہیں کر رہی اور ضرور اس کے پیچھے کوئی مرد ہو گا۔‘

جلد ہی ان کو صنفی تعصب پر مبنی کلامات سننے کو ملے، خصوصاً تعمیراتی صنعت میں کام کرنے والے مردوں سے۔

’مثلاً جب میں کہتی تھی کہ کوئی چیز ایک طرح سے ہونی چاہیے تو کوئی نہ کوئی مرد مجھ سے اختلاف کر کے کہتا تھا کہ میں غلط ہوں۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

’لیکن آخر کار میں صحیح کہہ رہی تھی۔ کچھ لوگوں کو وہاں غلطیاں نکالنے کا شوق ہوتا تھا جہاں کوئی نہیں ہوتیں۔‘

پلوما اب ایسے کمنٹس کو نظر انداز یا ڈیلیٹ کر دیتی ہیں لیکن ان کو اب بھی ایسے لوگوں پر غصہ آتا ہے جو ’مجھے صنفی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘

ان کے مداح میں 60 فیصد مرد ہیں لیکن وہ کہتی ہیں ان میں خواتین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان خواتین مداح کے تبصرے بھی حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔

ایک نے لکھا ’اپنے کام پر بہت مبارک ہوں۔ آپ کی ویڈیوز کی وجہ سے میں گھر پر مزدور کے بغیر کام ختم کر چکی ہوں۔‘

ایک اور خاتون نے لکھا ’میں اپنے شوہر کا انتظار کرتے کرتے تنگ آ گئی تو میں نے خود کام کرنے کی کوشش کی۔‘

پلوما

،تصویر کا ذریعہArquivo pessoal

اپنا کام خود کریں

پلوما کے پاس اپنا کاروبار بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔ وہ مزید خواتین کو خود اپنا کام کرنے کے قابل بنانا چاہتی ہیں۔

وہ پوچھتی ہیں ’اگر میں سیمنٹ کا ستون کسی انجنئیرنگ کی ڈگری کے بغیر بنا سکتی ہوں تو آپ شاور کیوں نہیں لگا سکتے؟‘

پلوما کا ماننا ہے کہ خواتین یہ کام تب بھی سیکھ سکتی ہیں اگر انھوں نے خود کرنا بھی نہ ہو۔

’سوال یہ نہیں کہ وہ خود کر پائیں گی یا نہیں، بلکہ یہ کہ ان کے پاس اتنی معلومات ہو کہ کوئی ان کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔‘

پلوما نے ایک اور یقین کا اظہار بھی کیا۔

’ہمیں مردوں کو یہ دکھانا ہے کہ ہمیں ان کی اتنی ضرورت نہیں جتنی انھیں لگتا ہے۔‘

پلوما کا گھر

،تصویر کا ذریعہFacebook/Paloma Cipriano

پیشہ ور یو ٹیوبر

پلوما اس سے پہلے سیلز اور ٹائیپنگ کا کام کر چکی ہیں اور پیسے کمانے کے لیے سڑک پر اشتہار بانٹ چکی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ ’خود ان ویڈیوز کو ریکارڈ، ایڈٹ اور پروڈیوس کرتی ہیں۔‘

تمام ویڈیوز ایک ہی کیمرے سے بنائی جاتی ہیں اور تقریباً ایک سے دو دن میں مکمل ہوتی ہیں۔

ان کے موضوعات ایسی ضروریات پر مبنی ہوتے ہیں جن کا پلوما کو گھر پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پلوما

،تصویر کا ذریعہArquivo pessoal

وہ کہتی ہیں ’گھر کے سارے کام میں خود کرتی ہوں۔ میں نے دیواروں کو رنگ کیا ہے، الماریاں بنائیں ہیں، یہاں تک کہ سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا ہے۔‘

وہ خاتون جو کبھی سفر کرنے کے بارے میں لکھنا چاہتی تھی آج سفر کر کے لوگوں کو تعمیرات پر ٹریننگ بھی دیتی ہیں۔

اس پیسے سے وہ اشتہارات پر ڈگری کر رہی ہیں اور رشتہ داروں کی مدد کر رہی ہیں۔

’میں جانتی ہوں کہ سب خواتین کی زندگیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں، لیکن میرے خیال سے سب کو ہر وقت اپنے اوپر شک کرنے اور اتنا سوچنے کے بجائے ایسی چیزوں پر کام شروع کر دینا چاہیے جو وہ چاہتی ہیں۔‘

’جب وہ ہو جائے تو پھر آپ اس پر تجزیہ کر کے اس سے سیکھتے ہیں۔‘