جیسنڈا آرڈرن: ’حملہ آور شناخت چاہتا تھا، لیکن اس کا نام تک نہیں لیں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے عہد کیا ہے کہ وہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں حملہ کرنے والے حملہ آور کا نام کبھی نہیں لیں گی۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کہا: 'اسے (حملہ آور کو) اس دہشت گردانہ عمل سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں جن میں سے ایک شہرت (بدنامی) بھی تھی، اسی لیے آپ کبھی مجھے اس کا نام لیتے نہیں سنیں گے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'وہ دہشت گرد ہے۔ وہ مجرم ہے۔ وہ انتہا پسند ہے۔ لیکن میں جب بھی اس بارے میں بات کروں گی وہ بے نام رہے گا۔'
ادھر آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے فیس بک اور دوسرے پلیٹ فارم کو اس حملے کی لائیو سٹریمنگ کو بروقت نہ روکنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر قدغن لگانے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکاٹ موریسن نے جی 20 تنظیم کے سربراہ اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کو ایک خط میں لکھا ہے کہ اس مسئلے کو تنظیم کے آنے والے اجلاس میں اٹھایا جائے۔
گذشتہ جمعے کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر ہونے والے حملے میں 50 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
اور اس واقعے میں 28 سالہ آسٹریلین شہری برینٹن ٹیرنٹ کو قتل کا مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ خود کو سفید فام کی برتری کا قائل کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وزیر اعظم آرڈرن نے کرائسٹ چرچ حملے کے چار دنوں کے بعد ویلنگٹن میں کہا: 'میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ ان کا نام لیں جنھوں نے اس واقعے میں جان گنوائی ہے نہ کہ اس کا جس نے اسے انجام دیا۔'
منگل کو پارلیمان کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم آرڈرن نے 'اسلام علیکم' سے خطاب کا ابتدا کیا۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپیل کہ کرائسٹ چرچ کے بندوق بردار کی ویڈیو یعنی لائیو سٹریمنگ کو شیئر نہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا: 'ہم چپ چاپ بیٹھ کر یہ قبول نہیں کریں گے اس قسم کے پلیٹ فارم اپنا وجود رکھتے ہیں اور ان پر جو کچھ کہا جاتا ہے وہ ان کی ذمہ داری نہیں جہاں وہ شائع ہوتا ہے‘۔
'وہ اسے شائع کرنے والے ہیں، محض پیغام رساں نہیں ہیں۔ وہ بغیر کسی ذمہ داری کے صرف تمام قسم کے منافع کے حقدار نہیں ہو سکتے۔'
اصل ویڈیو کو جلد ہی ہٹا لیا گیا تھا لیکن اسے بہت تیزی کے ساتھ نقل کرکے دوسرے پلیٹ فارم جن میں یوٹیوب اور ٹوئٹر شامل ہیں پر وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ٹوئٹر پر گردش کرنے والے ایک خط میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے بھی دہشت گردانہ حملے میں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے بے لگام کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ 'انٹرنیٹ کو بے قابو جگہ کے طور پر لیا جانا ناقابل قبول ہے۔'
دوسری جانب وزیر اعظم آرڈرن نے اراکین پارلیمان کو یقین دلایا کہ حملہ آور کو نیوزی لینڈ کے قانون کی پوری قوت کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ نیوزی لینڈ کے تمام باشندوں سے کہا کہ اس جمعے کو مسلمانوں کو پہنچنے والے صدمے کا اعتراف کریں جو کہ مسلمانوں کی عبادت کا اہم دن بھی ہے اور حملے کے بعد کا پہلا ہفتہ بھی۔
شناخت اور فورانزک جانچ کی سست رفتاری کے سبب ابھی تک حملے میں مرنے والے کسی بھی شخص کی تدفین نہیں ہو سکی ہے۔
اسلامی طریقہ یہ کہتا ہے کہ میت کی جتنی جلد ممکن ہو تجہیز و تدفین کر دینی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل تک بعض میتوں کو غسل دے کر جنازے کے لیے تیار کیا جا چکا ہے جس کے لیے رضاکار بیرون ملک سے مدد کو بھی پہنچے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی امیگریشن سروس حادثے کے شکار افراد کے لواحقین کے ویزوں پر کام کر رہی ہے جو اپنے عزیزوں کے جنازے میں شرکت کے شدید متمنی ہیں۔
جمعے کو جو 50 مسلمان مارے گئے ہیں ان میں تارکین وطن، پناہ گزین اور پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا، ترکی، کویت، صومالیہ اور دوسرے ممالک کے شہری شامل ہیں۔
پیر کو وزیر اعظم آرڈرن نے ملک کے بندوق حاصل کرنے کے قانون میں جلد اصلاح کی بات بھی کہی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فوجی طرز کا اسلحہ استعمال کیا جس میں بعض تبدیلیاں کرکے اسے مزید مہلک بنایا گیا اور موجودہ قانون کے اعتبار سے یہ عمل غیر قانونی نہیں ہے۔











