ویتنام: ٹرمپ، کم جوہری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم

کم ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتوقع کی جا رہی تھی کہ دونوں رہنما جوہری ہتھیاروں کے مسئلے پر کسی معاہدے کا اعلان کریں گے

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ ویتنام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان جوہری ہتھیار کے خاتمے پر مذاکرات کا دوسرا دور بغیر کسی نتیجے پر پہنچے اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان سارہ سینڈرز کے مطابق ’اس بار کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن دونوں طرف کی متعلقہ ٹیمیں مستقبل میں ملاقات کی منتظر ہیں۔‘

توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں رہنما جوہری ہتھیاروں کے پرانے مسئلے پر کسی معاہدہ کا اعلان کریں گے۔

شمالی کوریا کے رہمنا کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی موجودگی ’ڈی نیوکلئیرآئزیشن‘ کے لیے ان کی آمادگی کا ثبوت دیتی ہے۔

پچھلے سال دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے تاریخی سربراہی اجلاس کے بعد ’ڈی نیوکلئیرآئزیشن‘ پر بہت کم پیش رفت ہوئی تھی۔ سب نظریں اس بات پر تھیں کہ اس بار شاید کچھ ٹھوس اقدامات پر اتفاق کر لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ ہم صحیح ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

شمالی کوریا کے رہنما نے بھی کہا تھا کہ انہیں لگ رہا ہے کہ ’اچھے نتائج‘ حاصل کر لیے جائیں گے۔

امید کی جارہی تھی کہ شمالی کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے ایک روڈ میپ پر بحث کی جائے گی اور کورئین جنگ یا رابطہ دفاتر کے خاتمے کے باقاعدہ کسی معاہدے کا اعلان بھی کیا جائے گا.

کم جانگ ان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اہیمت کے حامل پہلے مذاکرات گذشتہ سال جون میں سنگاپور میں ہوئے تھے

شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے منگل کو ویتنام پہنچے تھے۔

کم جانگ ان جب ڈینگ ڈانگ بارڈر کے اسٹیشن پہنچے تو رسمی گارڈز اور جھنڈے لہراتے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔

وہ ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کے لیے بذریعہ گاڑی اسٹیشن سے روانہ ہوئے جہاں سکیورٹی دستے اور عوام کی بڑی تعداد ان کی منتظر تھی۔

روایتی کالے سوٹ میں ملبوس کم جانگ ان کے گارڈز بھی سٹیشن پر ان کا انتظار کر رہے تھے اور ان کی گاڑی روانہ ہونے پر کچھ فاصلے تک ان کے ہمراہ بھاگتے رہے۔

کم کے دادا اور شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم ال سنگ نے بھی ویتنام اور مشرقی یورپ کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا جس کی وجہ سے کم کا یہ سفر ایک علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

دورہ ویتنام میں کم کی بہن کم یو جونگ اور سابق جرنل کم یونگ چول بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ یہ دونوں شخصیات سنگاپور میں ہونے والے گذشتہ مذاکرات میں بھی کم جانگ ان کے ساتھ تھیں۔

کم جانگ ان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکم جانگ ان ٹرین سٹیشن سے بذریعہ گاڑی ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کے لیے روانہ ہوئے تھے

شمالی کوریا کے رہنما کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ بذریعہ ہوائی جہاز ہنوئی پہنچے۔ امریکی صدر کا طیارہ میری لینڈ کی ائیر بیس سے روانہ ہوا اور منگل کی رات ہنوئی پہنچا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے تو وہ دنیا کی 'عظیم معاشی طاقت' بن سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ترقی کرنے کے امکانات دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ جبکہ صدر ٹرمپ کی ٹویٹ سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا تھا کہ شمالی کوریا ابھی بھی ایک جوہری خطرہ ہے۔

کم جانگ ان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا جوہری ہتھیار ترک کر دے تو وہ دنیا کی 'عظیم معاشی طاقت' بن سکتا ہے

اتوار کو امریکی گورنروں کی ایک تقریب میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ ’کسی کو جلدی میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں بس (جوہری ہتھیاروں کا) تجربہ نہیں چاہتا۔ جب تک کوئی تجربہ نہیں ہو رہا ہم خوش ہیں۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اہیمت کے حامل پہلے مذاکرات گذشتہ سال جون میں سنگاپور کے شہر میں ہوئے تھے۔ اس سے پہلے دونوں رہنما ایک دوسرے کے خلاف صرف بیان بازی ہی کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دفعہ دونوں رہنماؤں کو اس حقیقت کا اندازہ ہے کہ ان مذاکرات سے بہت توقعات وابسطہ ہیں اس لیے انھیں ٹھوس پیشرفت ظاہر کرنا ہو گی یا کم از کم مستقبل کا لائحہ عمل ضرور پیش کرنا ہوگا۔