آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ کا آغاز؟
- مصنف, ایوا اونٹیوروس
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں امریکہ اور چین ایک دوسرے کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو ایک قدم آگے لے گئے ہیں اور اب اس بات پر بھی محاذ آرائی ہو رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا پر اب کون راج کرے گا۔
کچھ ہفتوں پہلے تک چین کی کمپنی ہواوے دنیا میں ٹیلی کام نیٹ ورک کے لیے آلات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی تھی اور اس کے پاس دنیا کے مختلف ممالک کو G5 (فائیو جی) ٹیکنالوجی مہیا کرنے کے معاہدے تھے۔
لیکن واشنگٹن کی جانب سے چین پر ان الزامات کے بعد کہ اس نے ایران پر لگی پابندیوں کی خلاف ورزی اور مغربی حکومتوں کے سسٹمز ہیک کیے ہیں، ہواوے کمپنی پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کی مارکیٹوں میں پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خدشہ ہے کہ برطانیہ اور کینیڈا بھی جلد ہی ایسا کرنے والے ہیں۔
تجاری جنگ کے بارے میں یہ بھی پڑھیے
ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے بڑا ملک بننے کے چینی مقاصد کو اس سے دھچکہ لگا ہے لیکن بیجینگ اس محاذ پر لڑائی لڑنے کے موڈ میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان واقعات پر برہم چینی صارفین چاہتے ہیں کہ امریکی مصنوعات پر بھی پابندی لگائی جائے اور اس کا آغاز ایپل کے فونز اور ٹیبلیٹس سے کیا جائے۔
اور میڈیا میں اس پر بات ہو رہی ہے کہ کیا ’امریکہ نے ایک غیر اعلانیہ خفیہ جنگ چھیڑ دی ہے؟‘
چین بمقابلہ امریکہ - یہ ہے سرد جنگ 2.0
معاملات اس وقت مزید بگڑ گئے جب کینیڈا میں ہواوے کی چیف فائنینشئل افسر اور کمپنی کے بانی کی بیٹی مینگ وانژاؤ کو اچانک گرفتار کر لیا تھا۔
امریکہ چاہتا ہے کہ انھیں اس کے حوالے کر دیا جائے اور وہ الزام عائد کرتا ہے کہ ان کی کمپنی کے چینی حکام سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ایران کو ٹیلی کام کی مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ اگر ان پر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انھیں 30 برس قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کی گرفتاری کسی بھی وجوہات پر عمل میں لائی گئی ہو لیکن چین میں اس بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
ہارورڈ کینیڈی سکول کے بیلفر سینٹر فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر گراہم الیسن کا کہنا ہے کہ حال ہی میں پیش آنے والے واقعات چینی حکام کے لیے اس بات کی تصدیق ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے عالمی سطح پر محاذ آرائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایشیا، یورپ اور امریکہ میں بھی ٹیکنالوجی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی سرد جنگ ہے جس میں چین اور امریکہ کے درمیان اس بات پر جنگ ہو رہی ہے کہ اگلی دہائی میں ٹیکنالوجی کی دنیا پر کون راج کرے گا۔
مینگ وانژاؤ تمام الزامات سے انکار کرتی ہیں لیکن ان کی حراست اس بات کی نشاندہی ہے کہ واشنگٹن اور بیجینگ کے درمیان جاری تجارتی جنگ بڑھتی جا رہی ہیں۔
الیسن کا کہنا ہے کہ چین کا ’ہر شعبے میں‘ مقابلہ کیا جائے گا اور خاص کر کہ ’اہم ٹیکنالوجیز‘ کے معاملے میں۔
الیسن کے مطابق ’امریکی حکومت ان سب ممالک جن کے امریکہ سے سکیورٹی روابط ہیں، اس بات پر مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنے ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کے نیٹ ورکس کے لیے ہواوے کی مصنوعات یا آلات نہ خریدیں‘۔
یہ بھی پڑھیے
ہواوے کے کاروبار کو بڑا نقصان پہنچے گا
چین پر ہیکنگ اور ایران کو ٹیلی کام مصنوعات فروخت کر کے پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات سے ہواوے کے کاروبار کو بہت بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے۔
کیوں کہ کوئی بھی ملک اپنے ٹیلی کام کے نظام کو ایک ایسی کمپنی کے ہاتھ میں کیوں دے گا جس پر یہ الزام ہو کہ وہ بیجینگ کو ان کے نیٹ ورک تک غیر قانونی طور پر رسائی فراہم کر رہی ہے؟
ہواوے سنہ 2015 سے ٹیلی کام کی مصنوعات اور آلات بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے اور اس نے اپنی حریف کمپنیوں ایرکسن، نوکیا، زیڈ ٹی ای اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ہواوے کا کہنا ہے کہ اس نے فائیو جی کے 25 کمرشل معاہدے حاصل کر رکھے ہیں اور 10 ہزار سے زیادہ فائیو جی بیس سٹیشنز وہ مختلف ممالک کو بھجوا چکا ہے جس سے اندازوں کے مطابق 2018 میں اس کی کمائی کا تخمینہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔
ہواوے نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’کسی بھی بڑے حملے کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘ لیکن اس کے باوجود کمپنی کی ساکھ اور کاروبار متاثر ہونا شروع ہوگیا ہے۔
ہواوے کے چیف ایگزیکٹو افسر کین ہُو کا کہنا ہے کہ ’بعض مارکیٹوں میں ہواوے کے خلاف خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں اور اس کے کاروبار میں اضافے کو روکنے کے لیے سیاسی حربوں کے باوجود ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے کسٹمرز ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔‘
لیکن جہاں کمپنی تمام اہم معیشتوں کو آلات فراہم کر رہی تھی اب وہ امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں پابندی کا شکار ہو چکی ہے۔
برطانوی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر بیجینگ پر ہیکنگ کے الزامات لگائے ہیں اور اس کے خفیہ ادارے ایم آئی سِکس کے چیف نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ٹیلی کام کے نیٹ ورک میں ہواوے کے عمل دخل پر ’ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے‘۔
یہ چار ممالک اس ’فائیو آئیز‘ گروپ میں شامل ہیں جو آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور اس گروپ کا پانچواں رکن کینیڈا ہے جہاں کمپنی کے بانی کی بیٹی مینگ اس وقت زیر حراست ہیں۔
گرفتاریاں، جوابی گرفتاریاں اور الزامات
دنیا کی دو طاقتور معیشتوں کے درمیان یہ سرد جنگ ٹھنڈی پڑنے کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
20 دسمبر کو امریکہ اور برطانیہ نے چین پر الزام لگایا تھا کہ اس نے بڑے پیمانے پر ایک سائبر مہم شروع کی ہے جس کا مقصد چوری، سسٹمز کی ہیکنگ اور 45 اداروں کے سسٹم تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہے جس میں کمرشل، دفاعی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں، امریکہ سرکاری ایجنسیاں اور امریکی بحریہ شامل ہے۔
امریکہ نے دو چینیوں پر ان الزامات میں فرد جرم عائد کی ہے کہ انھوں نے یورپ، ایشیا اور امریکہ میں ہیکنگ کی مہم میں حصہ لیا جس سے چین کی جانب سے دو طرفہ اور عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے۔
چین کی وزارت داخلہ نے ان الزامات کو ’ہتک آمیز‘ قرار دے کر رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان الزامات کو واپس لیا جائے۔
کینیڈا میں مینگ کی گرفتاری کے بعد بیجینگ نے کینیڈا کے دو شہریوں کو گرفتار کر لیا تھا اور یہ وجہ پیش کی تھی کہ ان پر چین کی ’قومی سلامتی کو خطرے‘ میں ڈالنے کا شبہ ہے۔
ہواوے: چین کی مستقبل کی امید
ہواوے کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ ہواوے پر پابندی لگانے والے ممالک اپنے آپ کو ایک ایسے وقت میں نقصان پہنچا رہے ہیں جب دنیا فائیو جی کی طرف بڑھ رہی ہے جو کہ موبائل انٹرنیٹ کا مستقبل ہے۔
ہواوے کے معاملے پر سرکاری ردعمل تو آیا ہے لیکن آخر عام چینی شہری کو اس معاملے پر اتنا غصہ کیوں ہے؟
اگر چینی میڈیا اور انٹرنیٹ پر ٹیکنالوجی کے فورمز پر نظر ڈالیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غصہ اس لیے ہے کیوں کہ ہواوے کو چین کے مستقبل کی امید سمجھا جاتا ہے۔
جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک تبصرے کے مطابق ’ہواوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین مضبوط اور طاقتور ہے اور یہ صرف ٹرمپ کا ایک طریقہ ہے بس تاکہ چین کو سزا دی جائے‘۔
ٹیکنالوی کے تجزیہ کار وینگ ژیڈونگ کہتے ہیں کہ چین کو نیچے کھینچا جا رہا ہے کیوں کہ اس نے امریکہ کو اس کے اپنے کھیل میں ہرا دیا ہے۔ ’فری مارکیٹ اکانومی کے جو قوانین امریکہ نے بنائے تھے ان کے تحت اب ہواوے اب سرفہرست ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا ’امریکہ شکست برداشت نہیں کر سکتا اس لیے اس نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور جاپان جیسے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ہواوے کے آلات استعمال نہ کریں اور جہاں پہلے سے استعمال میں ہیں انھیں ترک کر دیں۔‘
جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہواوے، زیڈ ٹی ای اور دیگار چینی کمپنیوں سے آلات کی خریداری کا از سر نو جائزہ لے گا۔
زیڈ ٹی ای کا بھوت
اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کی ہواوے کے سامنے ایک بہت بڑی مثال ہے کیوں کہ اس نے دیکھا ہے کہ رواں سال کے شروع میں زیڈ ٹی ای کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
زیڈ ٹی ای بھی چینی ٹیلی کام میں ایک بڑا نام تھا لیکن امریکہ کے کامرس ڈپارٹمنٹ کو معلوم ہوا کہ اس نے ایران اور شمالی کوریا پر تجارتی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس برس کی صرف سہہ ماہی میں زیڈ ٹی ای کے شیئر ایسے گرے کہ اسے ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
زیڈ ٹی ای اپنے آلات کے لیے امریکی ڈیزائن چِپس پر انحصار کرتی تھی لیکن اب کسی بھی امریکی کمپنی کو اجازت نہیں کہ وہ زیڈ ٹی ای کے ساتھ کاروبار کرے۔
برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے خبردار کیا تھا کہ قومی سلامتی کو خطرات کی وجہ سے زیڈ ٹی ای کے آلات کا استعمال نہ کیا جائے۔
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان جاری یہ تجارتی جنگ اس لیے اہمیت کا باعث ہے کیوں کہ اگر ہواوے کے خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ چین کا ٹیکنالوجی کی دنیا پر راج کرنے کے خواب کو چکنا چور کر سکتا ہے۔