آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اہرام مصر پر برہنہ تصاویر اصلی ہیں یا ایڈیٹنگ کا کمال؟
مصر میں حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک ڈینش جوڑے کی اہرام مصر پر بنائی جانے والی ویڈیو اصلی ہے یا نہیں۔
اس مبینہ واقعے نے قدامت پسند مسلم ملک مصر کے لوگوں میں اشتعال پیدا کیا ہے۔
خبر رساں ادارے الحرم کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوٹر یہ پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ اصلی ویڈیو ہے یا نہیں اور اگر اصلی ہے تو یہ جوڑا 460 فٹ اونچے اہرام پر کیسے چڑھا۔
حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کہا گیا ہے کہ شاید یہ فوٹیج جعلی ہو۔
غیزہ میں موجود یہ عظیم اہرام جو کوفو اور چیوپس کے نام سے معروف ہے۔ یہ دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ہے۔
فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی دوست کے ساتھ اہرام پر چڑھنے سے پہلے بہت گھنٹے وہاں گزارے۔ .
مصر میں آثار قدیمہ کے وزیر نے اتوار کو کہا تھا کہ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا واقعی ڈینش جوڑے نے غیزہ میں برہنہ ویڈیو بنائی ہے۔
خالد العنانی نے الحرم کو بتایا کہ تفتیش کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ پتہ لگائیں کہ حقیقت کیا ہے اور اس میں جس بھی افسر نے کوتاہی برتی اس پر مقدمہ چلائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے جوڑے کی برہنہ تصاویر کو عوام سطح پر موجود اخلاقیات کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ویڈیو میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ تین منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو ہے جسے ڈینش فوٹوگرافر اندریس ہویڈ نے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا تھا۔
اس میں ایک عورت کو رات کے وقت غیزہ میں موجود اس اہرام پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس میں اس جوڑے کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ خاتون کا چہرہ واضح نہیں ہے اور وہ 4500 برس پرانے اہرام پر سائڈ پوز میں دکھائی دے رہی ہیں۔
مزید پڑھیے
آخری شاٹ میں خاتون کی کیمرے کی جانب پشت ہے اور وہ اس میں انھوں نے اپنا ٹاپ اتار رکھا ہے اور آسمان کی جانب دیکھ رہی ہیں۔
فوٹو گرافر نے اس جوڑے کی دن کی روشنی میں بھی ایک تصویر لی ہے جس میں وہ دونوں برہنہ حالت میں اہرام کے اوپر لیٹے ہوئے ہیں۔
کیا ردعمل آیا؟
گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر اس جوڑے کی تصاویر اور ویڈیو وائرل ہو گئی۔ اس کی وجہ سے مصر اور بیرون ملک عوام میں بہت غصہ دیکھنے کو ملا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصر کی تاریخ اور ثقافتی ورثے کی توہین ہے۔
ایک خاتون نے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد کیا ’قابل شرم۔ یہ کسی دوسری سرزمین، کسی دوسرے کلچر اور رہنے کے طریقوں کے خلاف توہین آمیر رویہ ہے۔۔۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے کلچر اور مذہب کے بارے میں کم آگاہی ہے۔‘
ڈنمارک کے لوگوں نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔
لیکن روزنامہ المصرالیوم کی رپورٹ کے مطابق مصر میں آثار قدیمہ سے متعلق کونسل کے سربراہ مصطفیٰ الوزیر نے کہا ہے کہ شاید اس تصویر کو امیج ایڈیٹنگ کے سافٹ ویئر کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
فوٹوگرافر نے کیا کہا؟
فوٹوگرافر مسٹر ہیوڈ کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی دوست اہرام مصر کی سائٹ پر نومبر کے آخر میں گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ وہاں موجود پہرے داروں کی نظروں میں آنے کے خطرے کی وجہ سے انھوں نے کئی گھنٹوں تک غیزہ کی ڈھلوان جو کہ اوپر اہرام کی طرف جاتی تھی وہاں فلمبندی نہیں کی۔
انھوں نے ڈینش اخبار استرابلدت سے کہا کہ ان کا اہرام پر چڑھنے کا خواب بہت سال پرانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اداس ہوں کیونکہ بہت سے لوگ ناراض ہو گئے ہیں۔ لیکن مجھے بہت سے مصری شہریوں کی جانب سے مثبت ردعمل بھی ملا ہے۔ کچھ ایسا جو کہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔‘
مسٹر ہیوڈ نے اس بات سے انکار کیا کہ انھوں نے اہرام ٹاپ پر سیکس کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف فوٹو شوٹ کے لیے پوز تھا۔
فوٹوگرافر کی ویب سائٹ پر دنیا کے دیگر غیر معمولی مقامات پر برہنہ حالت میں لی گئی تصاویر بھی موجود ہیں۔
کیا اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟
سنہ 1980 میں اہرام مصر پر چڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کیونکہ اس کوشش میں بہت سے سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔
لیکن قانون توڑنے والے بہت سے لوگوں کو یہ پابندی روک نہیں پائی تھی۔
سنہ 2016 میں جرمنی کے ایک نوعمر لڑکے پر مصر پر داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی کیونکہ اس نے بھی اہرام پر چڑھ کر تصویر اور ویڈیو لینے کی کوشش کی تھی۔
البتہ وہ تین سال جیل کی سزا سے بچ گئے جب حکام نے فیصلہ کیا کہ ان پر مقدمہ نہیں چلے گا۔
ایک سال بعد ترکی کے ایک باشندے کو بھی پولیس نے کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا اور انھوں نے بھی اہرام پر چڑھنے کی کوشش کی تھی۔
سنہ 2015 میں مصری حکام نے بظاہراسی مقام کے قریب روسی سیاحوں ک برہنہ تصاویر کو آن لائن دیکھا تھا۔
قدامت پسند ملک مصر میں بہت سے نمایاں شہریوں کو حالیہ برسوں میں عوامی سطح پر نامناسب افعال کرنے کی پاداش میں سزائیں دی جا چکی ہیں۔
نو برس پہلے اداکارہ رانیہ یوسف کو عدالت میں اس لیے پیش ہونا پڑا کیونکہ انھوں نے قاہرہ فلم فیسٹیول میں ایسا لباس زیب تن کیا تھا جس سے ان کا جسم جھلک رہا تھا۔