بدسلوکی کرنے والے شریکِ حیات کی شناخت کیسے ہو؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, انالیہ یورینتے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
وہ ہر وقت جاننا چاہتا ہے کہ آپ کیا کر رہی ہیں، اور کس کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ اس کی مرضی نہ کریں تو وہ غصے میں آ جاتا ہے۔ وہ آپ کو ہدایات دیتا رہتا ہے تاکہ آپ عین وہی کریں جو چاہتا ہے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست اس صورتِ حال سے دوچار ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ کا شریکِ حیات بدسلوک ہے اور آپ کی زندگی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Tere Díaz Sendra.
یہ کہنا ہے کہ میکسیکو کی ماہرِ نفسیات ٹیرے ڈیاز سینڈرا کا جو خاندانی اور شادی شدہ جوڑوں کے معاملات کی ماہر ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس صدی میں صنفی مساوات میں خاصا اضافہ ہوا لیکن پھر بھی یہ بات ناقابلِ یقین لگے گی کہ اب بھی میرے پاس بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جہاں ان کے شریکِ حیات ان کی زندگیوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ زیادہ تر عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔‘
ٹیرے نے گھریلو تشدد سے بچاؤ پر بھی کام کیا ہے۔ انھوں نے اس کی شناخت اور بچاؤ کے لیے چند مشورے دیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدسلوک شریکِ حیات کیا ہے؟
ایسا شخص عام طور پر بدتمیز اور غیر مہذب برتاؤ کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم سب کو تعلقات میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مستقل بدسلوک شریکِ حیات وہ ہے اپنا استحقاق استعمال کر کے کسی دوسرے شخص کو اپنی خواہشات، ضروریات اور مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
اس کی حکمتِ عملی کیا ہوتی ہے؟
عام طور پر وہ خوف اور زبردستی سے کام لیتا ہے جس میں دھمکی آمیز رویہ بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ لوگ اپنے شکار کو مکمل طور خاموش کروانا چاہتے ہیں حتیٰ کہ وہ خود کو مجرم سمجھنے لگے۔
بدسلوک شریکِ حیات کی خصوصیات

،تصویر کا ذریعہEditorial Planeta
- وہ اپنی فتوحات اور افیئرز کے بارے میں ڈھینگیں مارتا رہتا ہے
- وہ بدتمیزی سے پیش آتا ہے
- وہ ہر وقت مرکزی کردار کے روپ میں رہتا ہے
- اسے دوسرے کے احساسات کا کوئی خیال نہیں ہوتا
- وہ اپنے کسی کام کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا
- اگر لوگ اس کے 'مزاج' کے مطابق نہ ہوئے تو وہ ان سے نفرت کرتا ہے
- وہ بدسلوکی کے دوران طنز سے کام لیتا ہے
- وہ اپنی تسلی اور جنسی تسکین کو ترجیح دیتا ہے
- وہ جھوٹ بولتا ہے
- وہ تنازعے سے بچتا ہے
- وہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمتِ عملی پر کاربند رہتا ہے
- اس کی شخصیت پرکشش ہوتی ہے
- کیا عورتیں بھی بدسلوک ہوتی ہیں؟
بدسلوکی کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ کس کے پاس طاقت ہے۔ عورتیں عام طور پر دوسروں، مثلاً بچوں اور شوہر، کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، جب کہ مرد خود اپنی زندگی کے مرکزی کردار ہوتے ہیں۔
تاہم عورتیں بھی بدسلوک ہو سکتی ہیں۔ اگر وہ شوہر سے زیادہ کمائی کرتی ہیں تو اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ وہ کئی ایسے طریقے استعمال کر سکتی ہیں جن کی مدد سے مرد کو کنٹرول کیا جا سکے۔
کیا لوگ پیدائشی بدسلوک ہوتے ہیں؟
عام طور پر اس کے کئی عوامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ زندگی میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے بدسلوکی پر اتر آتے ہیں۔ تاہم چونکہ ہم ایک پدرسری نظام میں رہ رہے ہیں اس لیے بہت سارے لوگوں کو اسی نظام سے اپنے طرزِ عمل کی شہ ملتی ہے۔
لڑکوں کو بچپن میں سکھایا جاتا ہے کہ 'مرد بن کر رہو۔' یہی رویہ بعد میں ان کی عورتوں سے بدسلوکی کی راہ ہموار کرتا ہے۔









