آپ کی چھ مالی پریشانیاں جن سے آپ ہی واقف نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ایمن خواجہ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اگر آپ اس ہزاریے میں جوان ہوئے ہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کو کس طرح سٹیرو ٹائپ یعنی گھسے پٹے زمروں میں رکھا جاتا ہے۔ مثلاً آپ کو سیلفی سے مغلوب نوجوان، اپنی قسم کی کافی، چھٹیوں اور تازہ ترین سمارٹ فونز کا دلدادہ جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
ایسے میں کچھ پیسے پس انداز کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
شاید آپ کو معلوم بھی نہ ہو کہ کس کس طرح سے آپ کی آمدن کو مشکلات در پیش ہے یا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔
ہم نے مصنف اور سماجی منتظم ملیسا براؤن سے پیسہ بچانے کے چند آسان نسخے کے متعلق بات کی تاکہ ہم مالی طور پر ہوشیار بن سکیں۔
یہاں ان کے مشورے پیش کیے جا رہے ہیں:

،تصویر کا ذریعہMelissa Browne
1.اپنے جیسوں سے مقابلہ
آج کی مشکلات یہ ہے کہ اپنے جیسے افراد صرف پڑوس میں نہیں رہتے بلکہ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر متاثر کرنے والے بھی ہیں جن سے آپ کبھی ملے بھی نہیں لیکن ان کے پاس بظاہر بعض پرتکلف چیزیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر وقت کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی سے مقابلہ رہتا ہے اور لوگ ہمیں سوشل میڈیا پر اپنی زندگی دکھانے والوں کے مقابلے میں تولتے پرکھتے ہیں، لیکن وہ کوئی بھی اصل چیز دکھانے میں ناکام رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا حل کیا ہے؟ ایسے لوگوں کو 'ان فرینڈ' اور 'ان فالو' کر دیں اور ایسے لوگوں کی تلاش کریں جو آپ کو شاپنگ وغیرہ سے ہٹ کر متاثر کرتے ہیں۔
2. 24/7 خرچ کرنا
ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ آپ پیر سے جمعہ تک صرف تجارتی اوقات میں ہی شاپنگ کرتے تھے یا پھر بہت زیادہ ہوا تو سنیچر، اتوار کو شام دیر تک شاپنگ کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اب آپ کسی بھی وقت اپنے موبائل فون سے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں۔ جیسے جمعہ کی رات آپ نیٹ فلکس پر فلم دیکھتے ہوئے بور ہو گئے تو آپ نے آن لائن شاپنگ کرلی۔
ہفتے میں ساتوں دن اور 24 گھنٹے شاپنگ کی اپنی صلاحیت پر لگام لگانے کے لیے اپنی شاپنگ کے اوقات پر حد قائم کریں۔
یہ بھی پڑھیے
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ یہ طے کر لیں کہ دن کے کسی خاص حصے میں ہی خرچ کرنا ہے تو پھر آپ اگر ٹی وی دیکھتے ہوئے بور ہو جائیں تو آپ کو پیسے خرچ کرنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
3.آسانی سے دستیاب قرض
یہ صرف کریڈٹ کارڈ تک محدود نہیں ہے بلکہ ایسی سہولیات بھی دستیاب ہیں جس کے تحت آپ 'تنخواہ کے دن کے لیے قرض' لے سکتے ہیں یا پھر 'ابھی خریدیں بعد میں ادا کریں' کے تحت آپ چیزیں خرید لیتے ہیں ادائیگی کی ذمہ داری کو فی الفور ٹال دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم کریڈٹ کارڈ کی وجہ سے معمول سے زیادہ خرچ کرتے ہیں (کم از کم دس فیصد زیادہ) کیونکہ ہم کریڈٹ کارڈ کو اپنے پیسے کے طور پر نہیں دیکھتے۔
اگر آپ کے پاس ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈ ہیں اور آپ ہر ماہ اپنے کارڈ کا بل ادا نہیں کرتے یا پھر آپ اپنی بچت سے اپنے کارڈ کا بل ہر ماہ ادا کرتے ہیں تو پھر کریڈٹ کارڈ نہ استعمال کرنے کا سخت فیصلہ کر لیں۔
اپنے کارڈ کو بند کروا دیں اور اس کی جگہ اپنے ڈیبٹ کارڈ کے پرانے طریقے کا استعمال کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
4. تجزیے سے مفلوج
آج کل کھانے کی اتنی اقسام اور درجے ہیں کہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ آپ ویگن ہوں یا پھر ویجیٹیئرین، زیادہ کاربو ہائيڈریٹ والی چیزیں کھائیں کہ کم کاربو ہائیڈریٹ والی، زیادہ چربی والی یا کم چربی والی، آرگینک یا پھر صرف پیڑ سے گرے پھل کھائیں۔
ایسے میں یہ جائے حیرت نہیں کہ ہم کھانے کے انتخاب کے بارے میں کنفیوز ہو جائیں۔
یہی صوت حال ہمارے پیسے کے ساتھ بھی ہے۔
پیسے کیسے بچائیں اور پیسے کس طرح خرچ کریں؟ اس بارے میں اس قدر معلومات ہیں کہ ہم اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ہمارے لیے اپنے خرچ کرنے کے طریقے اور ہماری زندگی کے مقصد کا مطالعہ اور اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک بار ہم اگر یہ کر لیتے ہیں تو ہم مناسب طور پر اپنے اخراجات کو طے کر سکتے ہیں۔
5. زندگی جیسی ملی ہے ویسی ہی گزارنا
ہم میں سے بہت زیادہ لوگ زندگی جس طرح ملی اسی طرح گزارتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن (عام طور پر 30 سے 40 سال کی عمر میں) خود سے پوچھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ 'میں آخر اس حال میں کس طرح پہنچا؟'
اس کے بجائے ایک باہوش صارف بننے کے بارے میں غور کریں اور زندگی کو ایک مقصد کے تحت گزاریں۔
اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگر ہم اپنی پسند کی زندگی خود طے کریں تو وہ کیسی ہوگی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور پھر اس بات پر غور کریں کہ اس کے حصول کے لیے آپ کو آج کیا کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنے معمول کے اخراجات یا بچت پر روک لگانے کے لیے 30 دنوں کا ہدف مقرر کریں جس میں اپنی معمول کی عادات کو ازسر نو ترتیب دینے کے لیے صرف اپنی بنیادی ضرورتوں پر ہی توجہ مرکوز کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
6.ہم تنخواہ کے غلام ہیں
ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی آمدن کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے جس میں سے ہم ایک تنخواہ ملنے سے دوسری تنخواہ ملنے کے دن تک زیادہ تر پیسہ خرچ کر دیتے ہیں۔
اس کے بجائے آپ مختلف مد بنائیں تاکہ آپ ایک ہی بڑے پیالے سے نہ کھاتے جائيں بلکہ چھوٹے چھوٹے کئی پیالوں سے کھائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس میں روزانہ کے خرچ کا ایک مد ہو سکتا ہے، بل کا علیحدہ مد، بچت کا مد، فضول خرچی کا مد وغیرہ۔
اپنی آمدن کو ان مدوں میں منقسم کر دیں اور پھر روزانہ کے اپنے طے شدہ مد کی رقم سے ہی خرچ کریں۔
یا پھر آمدن کے دوسرے ذرائع کی تلاش کریں جس میں کوئی ہنگامی کام، جزوقتی کام، سرمایہ کاری یا پھر پراپرٹی اور دیگر چیزیں ہو سکتی ہیں۔










