ترکی اور یونانی قبرص کے درمیان آٹھ برس بعد نئی سرحدی راہداریاں

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی اور یونانی قبرص کے درمیان آٹھ برس بعد نئی سرحدی راہداریاں کھولی گئی ہیں۔ ترکی اور یونانی زبان بولنے والوں کے درمیان منقسم اس جزیرے پر پہلے بھی کچھ راہداریاں موجود ہیں جہاں سے لوگ سرحد پار کر سکتے ہیں۔
ان راہداریوں کے آر پار جانے کے لیے قبرص کے شہریوں کو ویزہ نہیں لینا پڑتا اور وہ گیٹ پر ایک منظورشدہ کارڈ ٹچ کر کے سرحد پار کر سکتے ہیں۔
دو مقامات دیرینیا اور لیفکا کے نزدیک سرحدی محافظوں نے راہداریاں کھولنے کے موقع پر خاردار تاروں کی رکاوٹوں کو ہٹا دیا جس کے بعد نئے راستوں سے درجنوں افراد نے دونوں جانب سرحد عبور کی۔
دونوں ملکوں نے یہ اقدام گذشتہ برس اقوام متحدہ کی سربراہی میں دوبارہ ملاپ سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے بعد نئی سرحدی راہداریاں کھولی ہیں۔
خیال رہے کہ 1974 میں قبرص کی ترکی اور یونان میں تقسیم اس وقت ہوئی تھی جب ترکی نے شمالی علاقے میں وہاں یونان کی حمایت سے بغاوت کے بعد حملہ کر دیا تھا۔
اس کے نتیجے میں قبرص دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ کی امن فورس نے سرحد کی دونوں جانب نگرانی کا کام سنبھال لیا تھا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبرص میں تقسیم کے دنوں کی کہانیاں بالکل ویسی ہیں جو پاکستان اور انڈیا میں 1947 کے بارے میں سننے کو ملتی ہیں اور وہاں بھی لوگ بڑی تعداد میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
بی بی سی اردو سروس کے ہمارے ساتھی اسد علی کچھ عرصہ قبل جب قبرص گئے تو دیکھا کہ لوگوں کا تقسیم سے پہلے کے اپنے پرانے گھروں اور دیہات کو جانے کا خواب تو ان راہداریوں کی شکل میں پورا ہو چکا ہے لیکن اب ان میں سے کئی لوگ دوبارہ اتحاد چاہتے تھے۔ اتحاد کے خواب کا تو پتہ نہیں لیکن ان راہداریوں سے لوگوں کے لیے سرحد کے آر پار آنا جانا اور ایک دوسرے سے ملنا آسان ہو گیا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے پروڈیوسر نے بتایا کہ امرتسر میں بھی ایک بار کچھ لوگوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ کم سے کم لاہور اور امرتسر کے شہریوں کو ان دو شہروں کے لیے خصوصی کارڈ ملنا چاہئیں تاکہ یہ بغیر ویزے کے آ جا سکیں۔
اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی ان راہداریوں کے دونوں طرف ہر وقت قطاریں لگی رہتی ہیں اور لوگ باآسانی اپنا کارڈ دکھا کر تقسیم کی لکیر کے آر پار جا سکتے ہیں۔ بلکہ جو رہتے تو ترک حصے میں ہیں لیکن ان کے بچے یونانی زبان بولنے والے حصے میں سکول جاتے ہیں۔ وہ دن میں دو بار سرحد پار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب قبرص میں نئے معاہدے کے بعد ان نئی راہدریوں کے قریب رہنے والے بھی دونوں حصوں کے درمیان آزادی سے نقل و حرکت کر سکیں گے لیکن اگر یہاں بات کی جائے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم صوبہ پنجاب کی تو گذشتہ دنوں پاکستان کے علاقے کرتارپور میں واقع سکھوں کا مقدس مقام دربار گرودوارہ صاحب خبروں میں تھا۔
گرودوارہ صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارہ تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں لیکن پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تاریخ نے اس سفر کو مزید طویل بنا رکھا ہے۔
کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف کی جانب سے انڈین کرکٹر نوجوت سدھو سے سکھ زائرین کے لیے سرحدی راہداری کو کھولنے کے بیان کے بعد انڈیا میں بسنے والے کروڑوں سکھوں کے ارمان جگا دیے تھے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ معاملہ ایک بار پھر سرد مہری کی نظر ہو گیا ہے جس میں پاکستان کا موقف ہے کہ یہ راہداری کھولنے کا انحصار اب انڈیا پر ہے جبکہ انڈیا کا موقف ہے کہ جب تک پاکستان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتا اس وقت تک بات چیت کا کوئی سلسلہ ممکن نہیں ہے۔









