آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیلیفورنیا: آگ کی شدت میں اضافہ، ہلاکتیں 31 ہوگئیں
حکام کے مطابق کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے جبکہ دو سو سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شمال میں اس آگ کی لپیٹ میں آ کر مزید چھ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
جنوب میں جہاں اس آگ کو ’وولسی‘ کا نام دیا گیا ہے کے نتیجے میں دو افراد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
تقریباً ڈھائی لاکھ لوگوں کو ریاست کے تین علاقوں میں لگی بڑی آگ کے سبب اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سنیچر کو آگ کے پھیلاؤ میں کچھ وقفہ آیا تھا تاہم حکام نے مقامی افراد کو خبردار کیا تھا کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں کیونکہ آگ دوبارہ مزید تیزی سے بھڑک سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاقے کے گورنر جیری براؤن نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ علاقے میں ایمرجنسی کا اعلان کریں تاکہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
رواں برس یہاں بیلجیم اور لگزمبرگ جتنا علاقہ جل گیا ہے جو کہ عام طور پر متاثر ہونے والے رقبے کی نسبت زیادہ ہے۔
اس آگ کو ’وولسی‘ کا نام دیا گیا ہے اور اب تک وہ 70 ہزار ایکڑ پر پھیل چکی ہے۔
جن شہروں اور قصبوں کو خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں تھاؤزینڈ اوکس بھی ہے جہاں بدھ کو ایک مسلح شخص نے گولی مار کر 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
کیمپ فائر کہاں ہے؟
سیکرامینٹو کے شمال میں پلوماز نیشنل فارسٹ میں جمعرات کو کیمپ فائر بھڑک اٹھی۔ یہ 20 ہزار ایکڑ پر پھیلی ہوئی آگ ہے اور اس نے پیراڈائز قصبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رہائیشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا اور تقریباً سات ہزار گھر اور کاروباری مقامات اس آگ میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اس آگ کو ریاست کی تاریخ کی سبب سے تباہ کن آگ کہا جا رہا ہے۔
آگ کے شعلے اور لپٹیں اس قدر تیزی سے پھیل رہی تھیں کہ بعض لوگ اپنی کاروں کو چھوڑ کر پیدل ہی جان بچانے کے لیے بھاگ پڑے۔
بوٹے کاؤنٹی کے سپروائزر ڈگ ٹیٹر نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے سڑک پر چھوڑی ہوئی کاروں کو بلڈوزر سے ہٹایا تاکہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا سکے۔
ریاست میں جنگل اور آگ سے حفاظت کے محکمے کے ترجمان سکاٹ میکلین نے کہا کہ ’کوئی بھی چیز سلامت نہیں بچی ہے۔‘
بہرحال آگ پر کچھ حد تک قابو پا لیا گيا ہے۔
بی بی سی کے جیمز کک نے بتایا کہ ’پیراڈائز جہنم بن گیا ہے۔ قیر ماہی کی سلگتی ہوئی دنیا تباہ ہو چکی ہے۔ ہوا میں بو پھیلی ہوئی ہے۔ جلتے ہوئے کیمیائی مادے آپ کے منھ میں تلخ ذائقہ بھر دیتے ہیں۔ جلے ہوئے لوگوں کی راکھ کے درمیان سے گزرنا وحشت ناک اور دہشت ناک ہے۔ یہاں بہت زیادہ اداسی پھیلی ہوئی ہے۔‘
آگ بجھانے کے محکمے کے اہلکاروں نے سیکرامینٹو کے شمال میں چیکو شہر کے بعض حصے کو بھی خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس چھوٹے شہر میں 93 ہزار افراد رہتے ہیں۔
وولسی فائر کہاں ہے؟
جمعرات کو مرکزی لاس اینجلس کے شمال مغرب میں 40 میل کے فاصلے پر تھاؤزینڈ اوکس میں آگ لگ گئی۔ اس وقت ہل فائر نامی ایک دوسری آگ بھی بھڑک اٹھی اور یہ بھی تھاؤزینڈ اوکس کے پاس بھڑک اٹھی۔
جمعے کو آگ پھیل کر شاہراہ 101 کوعبور کرتے ہوئے ساحلی علاقوں میں پھیل گئی اور وہاں کے تمام باشندوں کو اپنے مکان خالی کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کے سربراہ جان بینیڈکٹ نے سنیچر کو بتایا کہ دو لوگوں کی لاشیں ملی ہیں تاہم انھوں نے اس کے متعلق مزید کوئی تفصیل نہیں دی۔
مالیبو اور کیلبساس میں کئی معروف شخصیتیں رہتی ہیں۔ چند لمحے کے لیے اداکار مارٹن شین کا کوئی پتہ نہیں تھا لیکن بعد میں انھوں نے بتایا کہ وہ ساحل پر محفوظ ہیں۔
ریئلٹی ٹی وی سٹار کم کاڈیشیئن نے ٹوئٹر پر کہا کہ جس گھر میں وہ ریپر کینی ویسٹ کے ساتھ رہتی ہیں وہ آگ کی زد میں آ گیا ہے۔
انھوں لکھا: ’میں اپنے ذہن سے اس آگ کو نکالنا چاہتی ہوں۔۔۔ ہم سب لوگ محفوظ ہیں اور یہی اہم ہے۔‘
گلوکارہ چیر جو لاس ویگس میں اپنا پروگرام پیش کر رہی ہیں انھوں ٹویٹ کیا کہ وہ مالیبو میں اپنے گھر کے لیے فکرمند ہیں۔
گلوکارہ لیڈی گاگا نے کہا کہ انھوں نے مالیبو کا اپنا گھر خالی کر دیا ہے۔ انھوں نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں ان کے اوپر کالے دھوئيں اڑتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
آسکر انعام سے سرفراز ہدایتکار گیولرمو ڈیل ٹورو نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے اپنا گھر خالی کر دیا ہے اور اپنے پیچھے ’بلیک ہاؤس‘ کا میوزیم کلیکشن چھوڑ آئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آگ میں ’ویسٹ ورلڈ‘ ٹی وی سیریز کا ایک سیٹ بھی برباد ہو گیا ہے اور مالیبو کی پیپرڈائن یونیورسٹی کو خطرہ لاحق ہے جس میں سات ہزار سے زیادہ طلبہ پڑھتے ہیں۔
آگ پر قابو پانے والے عملے کو ابھی تک آگ کے گرد اس کو روکنے کے لیے آڑ یا حصار بنانے میں کامیابی نہیں ملی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ سنيچر کو وہ دن بھر کام کریں گے اور انھیں کچھ پیش رفت بھی ملے گی۔
ابھی کیلیفورنیا کے جنگلوں میں 16 جگہ آگ لگی ہوئی ہے جن میں سے مذکورہ تین آگ بڑی ہیں۔ حکام نے شمالی کیلیفورنیا کے زیادہ تر حصے کو ‘ریڈ فلیگ وارننگ‘ کے تحت رکھا ہے جس کا مطلبہ ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں آگ اپنے شدید رنگ میں ہوگی۔