کیلیفورنیا: مٹی کے تودے میں 13 افراد ہلاک

امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا میں شدید بارش کے بعد سیلاب اور مٹی کا تودہ گرنے سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو ہسپتال پہنچایا گيا ہے۔

ہسپتال پہنچائے جانے والے افراد میں سے کم از کم 20 افراد کو طوفان کے باعث زخم آئے ہیں جب کہ چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سینٹا باربرا کے مشرق رومیرو کینیون میں کم از کم 300 افراد پھنسے ہوئے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہاں کا منظر 'پہلی جنگ عظیم کے کسی میدان کا سماں پیش کرتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

حکام کا کہنا ہے کہ مٹی کا تودہ اسی علاقے میں آیا ہے جہاں گذشتہ ماہ جنگل کی آگ سے تباہی ہوئی تھی۔ سیلاب اور کیچڑ کے سبب ساحلی ریل لائن تقریباً 50 کلومیٹر تک بند ہے۔

ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کا ابھی کوئی سراغ نہیں ہے اور یہ کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ہزاروں لوگ سیلاب سے بچنے کے لیے محفوظ مقام کی طرف بھاگے ہیں جبکہ 50 سے زیاد امدادی کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہےکہ سب سے زیادہ نقصان ان گھروں کو ہوا ہے جو خالی کرائے جانے والے زون میں نہیں آتے تھے۔

سینٹا باربرا کاؤنٹی کے محکمہ آتش کے ترجمان مائک ایلیاسن نے کہا کہ شدید بارش کی وجہ سے مونٹسیٹو کے علاقے میں کیچڑ کا سیلاب آ گيا جس کی وجہ سے کئی گھر بنیاد سے ڈھے گئے۔

لاس اینجلس میں بی بی سی کے نمائندے جیمز کک نے بتایا کہ چھوٹی کاروں کی سائز کے لکڑی کے ٹکڑے پہاڑوں سے بہہ کر آئے ہیں جس سے راستے بند ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بچنے والوں میں ایک 14 سالہ لڑکی شامل ہے جو اپنے تباہ شدہ گھر میں تقریبا چار گھنٹے تک پھنسی رہی۔

فائر ڈپارٹمنٹ نے کیچڑ میں سنی اس لڑکی کے بچائے جانے کی ایک تصویر جاری کی ہے۔

کاؤنٹی کے فائر کیپٹن ڈیو زینیبونی نے کہا پانچ افراد منگل کی صبح مونٹیسیٹو میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت طوفان کی وجہ سے ہوئی تھی۔

اس علاقے کے پڑوس میں امیر افراد کے گھر ہیں جن میں اداکار روب لو اور چیٹ شو کے میزبان ایلن ڈیجنرس کے مکانات شامل ہیں۔ معروف اداکارہ اوپرا ونفری کی بھی وہاں املاک ہے جس کی مبینہ قیمت نو کروڑ ڈالر لگائی جاتی ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈز نے امدادی کارروائی کے لیے کئی پراوازیں بھیجی ہیں اور لوگوں سے ڈرون نہ اڑان کی اپیل کی ہے نہیں تو پروازیں معطل کر دی جائيں گی۔

دسمبر میں لگنے والی آگ بشمول 'تھامس فائر' کے سبب اس علاقے کے سبزے جل کر خاکستر ہو گئے جو کہ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے حفاظت کرتے تھے۔

دو ماہ میں دوسری بار پیر کو کیلیفورنیا کے ہزاروں باشندوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کا حکم دیا گيا تھا۔ برن بینک میں حکام نے لازمی طور پر مکان خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں کیچڑ میں گاڑیوں کو بہتے دیکھا گیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر کيچڑ میں گھرے اپنے گھر کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ ملبے اور کیچڑ کے سبب بہت سی سڑکیں بند ہیں جن میں اہم شاہراہ نمبر 101 بھی شامل ہے۔

فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے کیلیفورنیا کے رہائیشیوں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا کہ جن علاقوں میں پہلے سیلاب کا خطرہ نہیں تھا اب وہاں بھی سیاب کا خطرہ ہے۔

پیر کے روز تقریبا 30 ہزار افراد کو گھر بار چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ تباہ کاریاں موسم کی تبدیلی کا سبب ہیں۔