برطانیہ کے باہر بی بی سی کا سب سے بڑا دفتر نیروبی میں

نیروبی میں سٹوڈیو

،تصویر کا ذریعہArmstrong Too

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے دفاتر میں یہ توسیع برطانوی حکومت کی جانب سے دیے گئے 376 ملین پاؤنڈ رقم سے کی جا رہی ہے۔

بی بی سی نے آج برطانیہ سے باہر اپنے سب سے بڑے دفتر میں کام شروع کیا ہے جو کہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہے۔

بی بی سی کے افریقہ میں کام کرنے والے 600 صحافیوں میں سے تقریباً 300 اس جدید ترین آفس میں کام کریں گے۔

بی بی سی نیوز کی ڈائریکٹر فرینچسکا انزورتھ کا کہنا تھا کہ ’ہماری سب سے اہم انویسٹمنٹ آئندہ نسل کے افریقی رپورٹرز اور پروڈیوسرز کی عالمی معیار کے مطابق تربیت کرنا ہوگی۔‘

بی بی سی کے دفاتر میں یہ توسیع برطانوی حکومت کی جانب سے دی گئی 376 ملین پاؤنڈ کی رقم سے کی جا رہی ہے۔

اس دفتر میں موجود پروڈکشن کی سہولیات میں ایک ٹی وی سٹوڈیو، دو دیگر لائیو نشریات کی پوزیشنز، دو ریڈیو سٹوڈیو، دو ریڈیو ورکس سپیس، اور پانچ ٹی وی ایڈیٹ سوئیٹ شامل ہیں۔

اسی سال نائیجیریا کے شہر لاگوس میں ایک اور دفتر کھولا گیا تھا جس میں تین نئی سروسز کام کر رہی ہیں اور فرانسیسی سروس کے مقامی صدر دفتر سینیگال کے دارالحکومت داکار میں بھی توسیع کی گئی ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس نے نیروبی میں اپنا بیورو 1998 میں کھولا تھا۔ اب یہاں سے 12 افریقی زبانوں اور انگریزی میں نشریات کی جاتی ہیں۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی ایسٹ افریقی زبانوں کی سروسز کی سربراہ ریچل آکیدی اوکویر نے کہا کہ ’ہم ان افریقی صحافیوں کا جشن منا رہے ہیں جو بی بی سی کے پیشہ ورانہ انداز، درستگی، اور غیر جانب داری کو مستقبل میں لے کر جائیں گے۔‘

line break

بیورو کا افتتاح اسی روز کیا گیا ہے جس روز بی بی سی کا نیا ٹی وی پروگرام ’منی ڈیلی‘ متعارف کروایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام نیروبی میں پروڈیوس کیا جائے گا۔

بی بی سی

،تصویر کا ذریعہArmstrong Too

،تصویر کا کیپشناس دفتر میں موجود پروڈکشن کی سہولیات میں ایک ٹی وی سٹوڈیو، دو دیگر لائیو نشریات کی پوزیشنز، دو ریڈیو سٹوڈیو، دو ریڈیو ورکس سپیس، اور پانچ ٹی وی ایڈیٹ سوئیٹ شامل ہیں