ریئیلٹی چیک: کیا چین شہریوں کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہے؟

- مصنف, ریئیلٹی چیک
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے چینی حکومت کے ایک سوشل کریڈٹ نظام کو متعارف کروانے کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک حالیہ تقریر میں انھوں نے کہا کہ ’چینی حکام ایک اورویلیئن نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جو کہ انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو کنٹرول کرے گا۔‘
چینی حکومت کا اصرار ہے کہ اس نظام سے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو ’اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے اقدامات کی رپورٹ کریں گے۔‘
تو کیا چین ایک نظام بنا رہا ہے جو کہ ان کی سماجی اور سیاسی زندگی کے ہر شعبے کو کنٹرول کرے؟
’بھروسہ نبھانے کی صلاحیت‘
یہ بات درست ہے کہ ہر چینی شہری کو اس نظام میں شریک ہونا پڑے گا جس میں سماجی رویے کی درجہ بندی ہوگی اور جو لوگ اس نظام سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے ان کو نقصان ہو سکتا ہے۔
اب تک ملنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام مختلف شعبوں میں مداخلت کرے گا تاہم بہت سے چینی لوگ بظاپر اس نظام کے حامی ہیں۔
بہت سے ممالک میں ہر شخص کی مالی حوالے سے کریڈٹ سکور ان کے قرضے لینے کے صلاحیت یا کوئی کاروبار کھولنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر 2020 تک متوقع چین کا مجوزہ سوشل کریڈٹ سسٹم اس سے کہیں زیادہ آگے جائے گا اور تمام شہریوں کی ’بھروسہ نبھانے کی صلاحیت‘ کی بھی درجہ بندی کرے گا۔
اسی طرح ایک سوشل کریڈٹ سکور کمپنیوں اور تنظیموں پر بھی لاگو ہوگا۔
یعنی حکومت نہ صرف یہ جانچ رہی ہے کہ کوئی کیا خریدتا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ سماجی طور پر کیا کرتے ہیں یا شاید سیاسی طور پر بھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مثال کے طور پر اگر کسی ایسی جگہ پر سگریٹ نوشی کی جاتی ہے جہاں اس کی ممانعت ہے، تو ایسی صورت میں اس شہری کے خلاف منفی سکور ہوگا۔
شہریوں کو مثبت کام جیسے کہ فلاحی کاموں کے لیے اچھا سکور ملے گا۔
بنیادی طور پر یہ سکونگ نظام منفی سکور والوں کی ’بلیک لسٹ‘ اور مثبت سکور والوں کی لال فہرست تیار کرے گا۔
اس پروگرام کے پائلٹ مختلف اضلاع میں علاقائی حکومتیں ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
مغربی چین کا رونچینگ علاقہ ایک ایسی مثال ہے جہاں شہریوں کو ایک ہزار کا ابتدائی سکور دیا گیا جو کہ لوگوں کی کارکردگی کے بعد کم (جیسے کہ ٹریفک چالان کی وجہ سے) یا زیادہ (جیسے کہ کسی ضرورت مند فیملی کی مدد کرنے سے) ہو سکتا ہے۔
گذشتہ سال چین کی عدالتِ عظمیٰ کو بتایا گیا کہ سماجی غلطیوں کی وجہ سے 61 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فضائی سفر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
اور یہ صرف گذشتہ پروازوں پر مسئلوں کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ دہشتگردی کے بارے میں جھوٹی اطلاعات پھیلانے، یا سگریٹ نوشی کی متعین جگہ کے باہر سگریٹ پینے کی وجوہات بھی شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کیا کرنا ہے کیا نہیں؟
کسی کو ابھی یقین کے ساتھ پتا نہیں ہے کہ چینی حکومت کن چیزوں پر منفی سکور دے گی اور 2020 کے بعد یہ نظام کیسے چلے گا۔
سٹاک ہوم یونیورسٹی میں چینی امور کے ماہر یوہان لیگروسٹ کا کہنا ہے کہ ’مبصرین کو اصل میں معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔‘
تاہم لائڈن یونیورسٹی کے روگیئر کریمرز کا کہنا ہے کہ چینی حکومت انتہائی کنٹرول پسند ہے اور یہ نظام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک نظام ہونے کے بجائے مختلف قسم کے نظاموں کا جوڑ ہوگا۔
کچھ ایسے کام جو مثبت ہو سکتے ہیں، ان میں شاید مندرجہ ذیل چیزیں ہوں گی:
- خون کا عطیہ کرنا
- فلاحی کاموں کے لیے پیسے دینا یا فلاحی تنظیموں کے لیے کام کرنا
- ایسی اشیا خریدنا جو کہ صحت مند ہیں بجائے ایسے کھانوں کے جنھیں غیر صحت مند تصور کیا جاتا ہے۔
شاید منفی کام یہ ہو سکتے ہیں:
- بدعنوانی
- فراڈ
- ٹیکس نہ ادا کرنا
- سماجی توازن کے لیے نقصان دہ سمجھی جانی والی معلومات پھیلانا
شاید اس نظام میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے دوست کون ہیں اور آپ کن کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سکور کا تعین کرنے کے لیے حکومت کو بہت زیادہ ڈیٹا کو چھاننا پڑے گا اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں چینی حکومت بے تہاشا مالی وسائل لگانے پڑیں گے۔
اس نظام میں ہوٹلوں کے ریکارڈ، شاپنگ کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی کیمرے، فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی، سبھی کا استعمال کیا جائے گا۔











