گولہ باری کے درمیان شراب نوشی، دمشق میں شراب خانہ

جب شام میں 2011 میں جنگ پھوٹی تو اس سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور سومر ہزیم کو دمشق میں اپنا بوتیک ہوٹل بند کرنا پڑا۔
اس کے بعد سے لاکھوں شامی ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن سومر نے ملک ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
تین سال قبل انھوں نے ایک نئی کمپنی شروع کی اور دمشق کے قدیم علاقے میں ایک شراب خانہ کھول لیا۔ اس علاقے پر حکومت کا کنٹرول ہے۔
سومر کہتے ہیں کہ اس علاقے میں شبینہ زندگی پھل پھول رہی ہے، حالانکہ حال ہی میں ایک سروے میں دمشق کو دنیا کا سب سے کم قابلِ رہائش شہر قرار دیا گیا ہے۔
گولہ باری کے دوران شراب نوشی
سومر تسلیم کرتے ہیں کہ جب انھوں نے پہلی بار 2015 میں شراب خانہ کھولا تو یہ کاروبار کے لیے مشکل وقت تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ہر کوئی اس جگہ کو دیکھنے کے لیے آنا چاہتا تھا اور ان لوگوں کو دیکھنا چاہتا تھا جنھوں نے جنگ کے دوران شراب خانہ کھول لیا ہے۔'

سومر کے بہت سے دوستوں نے کہا کہ ان کا دماغ چل گیا ہے کہ انھوں نے جنگ زدہ علاقے میں پیسہ لگا دیا ہے۔ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک طرح کا جوا تھا، لیکن آخر کار ان کا داؤ چل گیا۔
'گولہ باری کے درمیان آپ اس جگہ آ کر ایک جام پی سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ تصور بہت سے لوگوں کے لیے انتہائی پرکشش تھا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سال موسمِ گرما کے آغاز پر شامی فوج نے روس کی مدد سے دمشق سے باغی جنگجوؤں کو نکال باہر کر دیا۔
سومر سمجھتے ہیں کہ ملک میں آنے والے حالیہ استحکام سے شہر کی شبینہ زندگی کو اپنی الگ شناخت قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔
'پہلے شہر میں اس قسم کی تین چار ہی جگہیں تھیں، لیکن اب ایک سڑک پر 30 کے قریب ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
بھلے دن آنے والے ہیں
یہاں بھلے لوگوں کو زندگی معمول کی جانب جاتی دکھائی دے، شام میں ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق شام اور عراق میں اب بھی دولتِ اسلامیہ کے 20 سے 30 ہزار جنگجو باقی ہیں۔ البتہ سومر پرامید ہیں۔
'ہم نے دمشق میں برے دن دیکھے ہیں۔ یہ وہ شہر تو نہیں جو جنگ سے پہلے تھا، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ایک اور شہر بنتا جا رہا ہے۔‘
سومر کو امید ہے کہ جب سیاحت بحال ہو جائے گی تو وہ اپنا ہوٹل دوبارہ کھول لیں گے۔
'میرا خیال ہے کہ ہمیں بھول جانا چاہیے کہ پچھلے سات برسوں میں کیا ہوا۔ میرا خیال ہے کہ بھلے دن ابھی آنا ہیں۔'












