اٹلی: پل گرنے سے 35 افراد ہلاک، متعدد زخمی
امدادی کارکنان اٹلی کے شمال مغربی شہر جینوا میں پُل گرنے کے حادثے کے بعد ابھی بھی لوگوں کو ملبے سے نکالنے اور بچانے کی کاروائی میں مصروف ہیں۔
پولیس کے مطابق اب تک 35 افراد کے ہلاک اور 16 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب پل کا 45 میٹر اونچا حصہ کل مقامی وقت مطابق ساڑھے گیارہ بجے گر گیا۔ 12 افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
پورے اٹلی سے تقریبا ڈھائی سو فائر فائٹر اس آپریشن میں شریک ہیں اور وہ سنیفر کتے اور کوہ پیمائی کے سامان کے ساتھ حادثے کی زد میں آنے والے افراد کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آگ بجھانے والے شعبے کے اہلکار ایمینوئل گیفی نے خبرساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: 'ہم نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ جب تک کہ آخری آدمی نہیں مل جاتا ہم رات دن کام کرتے رہیں گے۔'
دریں اثنا پل کے دوسرے حصوں کے گرنے کے خدشے کے پیش نظر 400 سے زیادہ افراد کو وہاں سے ہٹا دیا گيا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے جیمز رینالڈس جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فائر فائٹرز کام میں جٹے ہوئے ہیں اور ایک ایک شگاف کی جانچ کر رہے ہیں کہیں کوئی پھنساہوا تو نہیں ہے۔
جینوآ پولیس کے ترجمان الیسیندرا بکچی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'ابھی بھی لوگوں کے زندہ ملنے کی امید ہے۔'
جب پل گرا اس وقت پل پر 30 سے 35 کاریں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پل گرتے وقت کی ویڈیو میں اس لمحے کو دیکھا جا سکتا ہے جب طوفانی بارش کے نتیجے میں اس پل کو سنبھالے ہوئے بڑے کھمبے گر گئے۔
اس حادثے کے نتیجے میں گاڑیاں اور ٹرک 45 میٹر دور ریلوے ٹریک، عمارتوں اور دریا کنارے پڑی پتھر کی سلوں پر جا گریں۔
ایک امدادی کارکن نے اٹلی کی آنسا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ پل کے دیگر حصوں کے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے جس کے پیش نظر علاقے کی عمارتوں کو خالی کروا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر داخلہ میٹیو سیلوینی نے عہد کیا ہے کہ اس پل کو پیش آنے والے حادثے میں اگر کوئی بھی ذمہ دار پایا گیا تو اسے سزا دی جائے گی۔
انھوں نے کہا: ’میں اس پل پر سے سینکڑوں بار گزرا ہوں۔ اب ایک اطالوی شہری کی حیثیت سے میں پرانے اور نئے ذمہ دار منتظمین کے نام، حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کروں گا، کیونکہ اٹلی میں اس طرح سے مرنا ناقابل قبول ہے۔‘
امدادی کارکنوں کو درپیش مسائل
بی بی سی کے جیمز رینالڈ نے بتایا کہ امدادی کارکن چھوٹے چھوٹے شگاف تک اس امید میں پہنچ رہے ہیں کہ کہیں کوئی ابھی بھی اپنی گاڑی میں پھنسا ہوا مل جائے۔
مارسیلو ڈی اینگلس جو اطالوی ریڈ کراس کے امدادی کاموں کو کوارڈینیٹ کر رہے ہیں انھوں نے بی بی سی کو بتایا امدادی کارکن اس واقعے کو کسی زلزلے کے طور پر لے رہے ہیں۔
یہ امید ہے کہ ملبے میں ہی کوئی کونا بن گیا ہو جس کی وجہ سے لوگ بچ گئے ہوں۔
مسٹر سیلوینی نے بتایا کہ آٹھ، 12 اور 13 سال کے تین بچے مردوں میں شامل ہیں۔
پل کیسے ٹوٹا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
پل کا 200 میٹر پر مبنی ایک حصہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے گر گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آياتھا۔
ایک شخص نے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی کو بتایا: ہم نے شدید گرج سنی اور ہم سمجھے کہ پاس ہی میں کہیں کوئی آسمانی بجلی گری ہے۔'
ہم پل سے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں لیکن ہم نے زور کا دھماکہ سنا۔۔۔ ہم بہت ڈر گئے۔ ٹریفک جام ہو گیا اور شہر مفلوج ہو کر رہ گيا۔
لیگوریا علاقے کے گورنر جیووانی ٹوٹی نے کہا کہ پل کا گرنا وسیع اثرات کا حامل ہے یہ نہ صرف جینوآ کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے اہمیت کا حامل تھا۔
انھوں نے کہا: مورانڈی پل ہمارے ملک کے تین بڑے بندرگاہ کو جوڑتا ہے اور اس کا سینکڑوں ہزار لوگ استعمال کرتے ہیں۔۔۔ بندرگاہوں پر ملک میں زیادہ تر سامان در آمد ہوتا ہے۔ اس سے اٹلی کے لوجسٹک نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم حکومت سے تیز رسپانس کی امید کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکام اس واقعے سے متاثر افراد تک امداد پہنچانے کی کوشش میں ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ ٹریفک کے لیے ڈائورژن بنانے میں لگے ہیں۔
کیا اطالوی بنیادی ڈھانچے پر ضرورت سے کم خرچ کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
کوریئر ڈیلا سیرا کےمطابق گذشتہ پانچ سال میں اٹلی میں پل گرنے کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔
نئی حکومت نے سرکاری کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ کا عہد کیا ہے۔
معاشی تعاون اور ترقی کے ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق اس ملک میں سنہ 2006 میں سڑکوں تعمیر و مرمت پر 14 ارب یورو خرچ کیے گئے تھے جو سنہ 2008 کی کساد بازاری کے نتیجے میں چار ارب یورو رہ گئی۔
لیکن ان اخراجات میں سنہ 2013 کے بعد اضافہ دیکھا جاتا ہے تاہم ان کا مجموعی خرچ سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے کم ہے۔









