تاریخی مقامات کے آج کے جدید فن تعمیر پر اثرات
ہزاروں برس قدیم بابل تہذیب اور اہرام مصر جیسے فن تعمیر موجودہ شہری منصوبہ بندی کی میراث ہیں۔
قدیم مصر اور اہرام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قدیم اہرام مصر کا جدید تعمیرات پر گہرا اثر ہے اور آج بھی جدید عمارتوں کے منصوبوں میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
اہرام مصر کے طرز کی عمارتوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں امریکی شہر میمفس میں واقع پیراڈ ایرینا، امریکہ کے ہی شہر لاس ویگاس میں لکژور کسینو اور ہوٹل، جاپان کا نیما سینڈ میوزیم شامل ہے۔ اور ہاں پیرس کے مشہور عجائب گھر لوو کے داخلی راستے کو نہ بھولیں جس کے باہر شیشے سے بنا ہرم آپ کا استقبال کرے گا۔
سلطنت روم کی سڑکیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کہاوت ہے کہ تمام سڑکیں روم جاتی ہیں۔ یہ یقینی طور پر درست نہیں ہے لیکن قدیم روم کے شہری یقیناً ایک یا دو چیزیں اس کے بارے میں جانتے تھے۔
رومیوں سے پہلے شہروں اور قصبوں کے درمیان سفر کے لیے کوئی آسان راستہ موجود نہیں تھا لیکن وہ بڑی آبادیوں کے درمیان ذرائع نقل و حرکت اور تجارت کے مؤثر نظام کی اہمیت کو سمجھ گئے اور پائیدار اور دیرپا راستوں کی تعمیر شروع کی گئی۔
سڑکوں کے لیے بہترین راستوں کے تعین کے لیے انتہائی مؤثر طریقے سے سروے کیے گئے تاکہ سڑکوں کی راہ میں کوئی رکاؤٹ نہ آئے اور ان کو ہر ممکن طریقے سے سیدھا رکھا جا سکے۔
رومیوں نے سڑکوں کی تعمیر میں چٹانوں اور پتھروں کا استعمال کیا تاکہ اس وقت چلنے والی بیل گاڑیوں، مارچ کرنے والے فوجیوں وغیرہ کے نیچے سڑک ہموار ہو۔
یہ ٹیکنالوجی 400 برس قبل از مسیح استعمال کی گئی اور آج بھی سڑکوں کی تعمیر میں اس کا اثر پایا جاتا ہے۔سلطنت روم کے دور میں یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کو سڑک سے ملانے کے جن روٹس یا راستوں کا انتخاب کیا گیا تھا، وہ راستے آج بھی مقامی اور بین الاقوامی روڈ نیٹ ورکس کا حصہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابل تہذیب کا نکاسی آب کا نظام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی شہر پیرس میں نکاسی آب کے نظام نے 1850 میں کام کرنا شروع کیا تھا جبکہ لندن کو اس نظام کے لیے مزید 16 برس انتظار کرنا پڑا اور 1866 میں انجینیئر جوزف بیزلگیٹی نے نکاسی آب کے نظام کو ڈیزائن کیا۔
لیکن بابل میں چار ہزار قبل از مسیح میں ہی نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر فعال تھا اور باقی دنیا کو اس تک پہنچنے میں طویل انتظار کرنا پڑا۔
بابل کے قدیم شہر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں چکنی مٹی کی مدد سے پائپ بنائے گئے تاکہ گندے پانی کو شہر سے باہر نکالا جا سکے۔ چکنی مٹی کی مدد سے پائپ، ٹی جوائنٹس، یعنی پائپس کو مختلف رخ میں ضرورت کے مطابق موڑنے کی مثالیں بابل تہذیب کے شہر نیپور میں واقع مندر کی کھدائی میں ملی تھیں۔
قدیم یونان کی پلمنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قدیم یونان کو اس زمانے میں سادہ الفاظ میں پلمنگ میں مہارت کا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔
قدیم یونان میں مٹی کے پائپ زیر زمین بچھائے گئے اور اس کے دارالحکومت کنوسوس میں صاف پانی کو لانے اور گندے پانے کو باہر لے جانے کا باقاعدہ نظام موجود تھا۔ اس کے علاوہ عمارتوں کو گرم رکھنے کا نظام بنایا گیا اور یہاں سب سے پہلے فلش سسٹم کا استعمال ہوا جسے 18ویں صدی قبل از مسیح میں اپنایا گیا۔
قدیم برطانیہ اور سورج کی پوجا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی شہر ملٹن کینز ہو سکتا ہے کہ برطانیہ کا سب سے خوبصورت شہر نہ ہو لیکن اس کو قطعی طور پر جدید کہا جاتا ہے۔
اگرچہ اس کو 1960 کی دہائی میں مکانات کی کمی کو دور کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور اس شہر کے ڈیزائن میں قدیم برطانیہ کے عقائد اور رسومات کا اثر بہت نمایاں ہے۔
شہر کی مرکزی شاہراہ کو بہترین انداز میں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہاں سے گرمیوں میں سورج نکلتا دیکھائی دیتا ہے بالکل سٹون ہینج کی طرح۔ کس نے سوچا تھا کہ آج کا ملٹن کینز حقیقت میں سورج کا مندر ہے۔
قدیم روم کا فن تعمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے سلطنت روم کے دور میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی بات کی لیکن اب عمارتوں کے فن تعمیر کے بارے میں بات کریں گے کیونکہ کہاوت ہے کہ روم کو ایک دن میں تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔
محرابوں، ستون اور گنبدوں کو جس انداز میں بنایا گیا اس سے یہ کہاوت قطعی صحیح لگتی ہے۔
رومن دور کے فن تعمیر کی خاصیت آج بھی دنیا بھر میں نظر آتی ہے۔
جب نیپولین نے 19ویں صدی میں پیرس میں تعمیرات کرانا شروع کیں تو ڈیزائن روم سے لیے گئے۔ ان میں اگر نام لیا جائے تو پیرس کی مقبول شانزے لیزے کے سنگم پر واقع آرچ پیروزی اور وندم محل شامل ہیں۔ اگر آج کے امریکی وائٹ ہاؤس کو دیکھا جائے تو اس کے محرابوں اور ستونوں میں قدیم روم کی جھلک واضح ہے۔








