تھائی لینڈ: غار میں پھنسے بچوں تک طبی امداد اور خوراک پہنچا دی گئی
تھائی لینڈ میں ایک غار میں دس دن سے پھنسے 12 بچوں اور ان کے فٹبال کوچ تک خوراک اور طبی امداد پہنچا دی گئی ہے۔
ان بچوں اور ان کے کوچ کے بارے میں پیر کو معلوم ہوا تھا، جس کے بعد سات غوطہ خوروں جن میں ایک ڈاکٹر اور نرس بھی شامل ہیں، ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
امدادی کارکن اب ان سب کو باہر نکالنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
مزید بارشوں کے نتیجے میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے اس مقام کو خطرہ ہے جہاں یہ سب پناہ لیے ہوئے ہیں۔
نو روز قبل یہ بچے فٹبال ٹریننگ کے بعد ان غاروں میں داخل ہوئے تھے جہاں وہ شدید بارش کے باعث پانی کی سطح بلند ہونے سے وہاں پھنس گئے۔
منگل کو حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ امدادی کارکن پھنسے ہوئے افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں اور بچوں کو مشغول رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حکام کے مطابق ان میں سے کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
تاہم اس سے قبل تھائی لینڈ کی فوج کا کہنا تھا کہ انھیں باہر نکلنے کے لیے غوطہ خوری سیکھنی ہوگی یا پھر مہینوں تک سیلاب کے کم ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غوطہ خوروں نے ان لاپتہ افراد کا سراغ تھیم لوانگ کی غاروں میں سرچ آپریشن کے دوران لگایا۔
فوج کا کہنا ہے کہ غاروں میں پھنسے افراد کے لیے کم از کم آئندہ چار ماہ تک زندہ رہنے کے لیے خوراک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
لاپتہ افراد کے خاندان کے ملنے پر بہت خوش ہیں۔
غاروں میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں تھائی نیوی کے خصوصی دستے نے حصہ لیا اور سرچ آپریشن میں دو برطانوی غوطہ خور بھی شامل ہیں جنھوں نے پیر کی شب انھیں تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہThai Navy SEAL
فیس بک پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک غوطہ خور انگریزی میں پوچھ رہا ہے کہ 'آپ کتنے افراد ہیں؟' جواب میں وہ کہتے ہیں کہ 'تیرہ'۔ یہ پوسٹ تھائی لینڈ کی بحریہ سیل کی سپیشل فورس نے ڈالی ہے۔
بظاہر گروپ نے پوچھا کہ کب انھیں باحفاظت نکالا جائے گا جس کے جواب میں ریسکیور کہتا ہے کہ آج نہیں۔
غار میں پھنسے ایک لڑکے نے کہا کہ 'انھیں بتاؤ کے ہم بھوکے ہیں۔'
غار میں پھنسے افراد کی ویڈیو
غار میں پھنسے ان افراد کی ایک ڈرامائی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں تھائی لینڈ کے مقامی فٹبال کلب کی ٹیم زیر سمندر غاروں کے جال میں پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ لڑکے غار کے ایک خشک حصے میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں اور ان کے اردگرد پانی ہے۔ اس مقام پر وہ نو دن سے موجود ہیں۔ غار میں موجود یہ افراد خوراک اور اپنے آپ کو باہر نکالنے کا کہہ رہے ہیں۔
اس ویڈیو کو بنانے والا غوطہ خور لڑکوں سے کہہ رہے ہیں کہ 'وہ پریشان نہ ہوں، بہت سے افراد آ رہے ہیں۔'
ریسکیو ٹیم اس بات فیصلہ کر رہی ہے کہ آیا غار میں پھنسے افراد کو فوری نکالا جائے یا پھر پہلے غار سے پانی نکالا جائے اور کمزور اور لاغر افراد کو تھوڑا توانا ہونے دیا جائے۔

غار میں پھنسے ان لڑکوں کی عمر 11 سے 16 سال ہے اور وہ 23 جون سے لاپتہ تھے۔ یہ سب اس وقت لاپتہ ہوئے جب وہ اپنے کوچ کے ہمراہ ایک تفریحی دورے پر گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ غار کے دھانے پر کافی گہما گہمی ہے اور غار سے پانی نکالنے اور غوطہ خوروں کے سلینڈر بھرنے کے لیے جنریٹر نصب ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو کیسے نکالا جائے۔ حکام کی سب سے پہلی ترجیح پھنسے ہوئے افراد کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ اُن کی طاقت بحال ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وہ باہر کیسے آئیں گے؟
شمالی تھائی لینڈ کے چیانگ رائی میں موجود تھام لوانگ غار برسات کے زمانے میں سیلاب کے پانی سے بھر جاتے ہیں اور یہ پانی وہاں ستمبر اکتوبر تک رہتے ہیں۔
اگر غار میں پھنسے بچوں کو اس سے قبل وہاں سے نکالنا ہے تو انھیں غوطہ خوری کی بنیادی تربیت حاصل کرنی ہوگی۔
لیکن ماہرین نے متبنہ کیا ہے کہ ناتجربہ کار غوطہ خوروں کو کیچر والے اور بالکل نظر نہ آنے والے گدلے پانی میں غوطہ خوری کے ذریعے نکالنا خطرناک ہوگا۔
وہاں سے پانی نکالنے اور پانی کی سطح کو کم کرنے کی کوششیں ابھی تک بارآور نہیں ہوئی ہیں۔ اگر پانی کو خود سے کم ہونے تک انھیں وہاں رکنا پڑا تو انھیں وہاں مہینوں رکنا ہوگا اور انھیں کھانے پینے کی مستقل فراہمی ضروری ہوگی۔
آنے والے دنوں میں مخصوص تربیت یافتہ ڈاکٹروں کو طبی معائینے کے لیے لے جایا جائے گا تاکہ ان کی حالت کا پتہ چلے اور ان کے زخموں کا علاج ہو سکے۔
دوسری ٹیمیں پہاڑ کی دوسری جانب ایسے ممکنہ راستے کی تلاش میں ہیں جہاں سے ان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/ekatol
غار میں کون موجود ہے؟
- غار میں پھنسے بارہ لڑکے مو پا فٹبال ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔
- اُن کے 25 سالہ نائب کوچ اکثر اپنی ٹیم کو مختلف تفریحی دوروں پر لے کر جاتے ہیں اور دو سال قبل بھی وہ اپنی ٹیم کے ساتھ اس غار میں آئے تھے۔
- غار میں پھنسے سب سے کم عمر لڑکا 11 سال کا ہے۔
- کلب کے ہیڈ کوچ جو ٹیم کے ساتھ موجود نہیں تھے کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ فٹبال کھلاڑی بننے کے لیے تمام ٹیم کو ساتھ وقت گزارانا چاہیے۔










