آئس لینڈ: تارکینِ وطن کے لیے بانہیں پھیلانے والے ملک میں زندگی کیسی ہے؟

    • مصنف, ویلیریا پیراسو
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

’آئس لینڈرز فٹبال کے حوالے سے پاگل ہوگئے ہیں'۔ یہ کہنا ہے ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے آرتورو سنتونی کا جو آٹھ سال قبل یورپ کے اس چھوٹے سے ملک منتقل ہوئے تھے۔

وہ پہلی بار آئس لینڈ‌ میں مقامی افراد کے ساتھ عالمی کپ دیکھ رہے ہیں، جس میں ان کے آبائی ملک کے ساتھ پہلا میچ بھی شامل تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہمارے خلاف کھیلتے ہوئے ان میں مبالغہ آئی کی حد تک قومی وقار تھا کیونکہ ہمارا شمار 'بڑی ٹیموں' میں ہوتا ہے،۔ لیکن وہ میرے ساتھ کبھی بھی نفرت انگیز نہیں ہوئے۔ وہ غیرملکیوں کے ساتھ کبھی غیرت انگیز رویہ نہیں رکھتے۔'

سنتونی کا ادراک حیران کن نہیں ہے۔ آئس لینڈ تارکینِ وطن کی قبولیت کے انڈیکس میں سرفہرست ہے، یعنی سنہ 2016-2017 میں گیلپ میں جانب سے 139 ممالک میں اپنے ملک میں غیرملکیوں کے قیام کے حوالے سے کیے گئے ایک سروے میں یہ ملک پہلے نمبر پر تھا۔

آئس لینڈ اپنے عجیب و غریب قدرتی مناظر اور اپنی ساڑھے تین لاکھ آبادی کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

آئس لینڈ ‌کے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2017 میں ان میں صرف 10.6 فیصد تارکینِ وطن تھے۔

یہ تعداد 36 ہزار بنتی ہے جو اس سپارٹک سٹیڈیم میں تماشائیوں کی گنجائش سے بھی کم ہے جہاں آئس لینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان میچ کھیلا گیا تھا۔

لیکن دو دہائیوں قبل آئس لینڈ ‌کی آبادی میں غیرملکیوں کی شرح صرف دو فیصد تھی۔

نیا رجحان

گذشتہ ماہ 'آئس لینڈک ریویو' کی ایک سرخی تھی کہ 'گذشتہ سال آئس لینڈ‌ اتنے لوگ منتقل ہوئے جتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔'

پیرو کے رہنے کے فرنینڈو بازان ان نئے آنے والوں میں شامل ہیں۔ وہ ریکیاوک کے ایک ہسپتال میں ریڈیولوجسٹ سپیشلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

36 سالہ بازان کہتے ہیں کہ 'میں اس جگہ سے بہت زیادہ متاثر تھا جو دنیا بھر میں مساوات پر مشتمل معاشروں میں سے ایک ہے۔' وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ کس قدر سچ ہے۔

سنہ 2012 کے بعد سے آئس لینڈ‌ میں آنے والے غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔

دی مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 'گزشتہ نصف دہائی کے دوران، آئس لینڈ نے معاشی طور پر مسلسل ترقی کی ہے جس سے وہ یورپ کے غریب ترین ممالک سے امیر ترین ممالک میں شامل ہوا ہے۔ یہ ترقی اس نے فری مارکیٹ اصلاحات اور اعلیٰ سطح کی حکومتی مداخلت سے حاصل کی ہے۔'

جس کے نتیجے میں ملک میں اب کسی حد تک ملازمین کی کمی بھی ہو گئی ہے۔

آئس لینڈک انٹرپرائزز کی کنفیڈریشن بزنس آئس لینڈ کا اندازہ ہے کہ ملکی معیشت کی سالانہ ڈھائی سے تین فیصد ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال کم از کم 3000 ملازموں کی ضرورت ہے۔

اگر یہ ترقی بڑھتی ہے تو طلب میں مزید اضافہ ہو گا اور ملک میں بے روزگاری کی شرح صرف 2.2 فیصد ہے، اس لیے نئے ملازموں کو بیرون ملک سے آنا ہو گا۔

ایرل للیونت سپین سے یہاں منتقل ہوئے ہیں اور انھوں نے آئس لینڈ‌ کی تاریخ میں دو کتابیں لکھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ 'بیشتر لوگ معاشی تارکینِ وطن ہیں۔'

'اس ملک میں استحکام اور رقوم محفوظ کرنے اور ترسیل زر کے امکانات دو بڑی مراعات ہیں۔'

سنہ 2017 میں آئس لینڈ‌ میں تارکینِ وطنوں میں سب سے زیادہ تعداد پولش شہریوں کی تھی، جو تارکینِ وطنوں کی کل آبادی کا 38.3 فیصد تھے، اس کے بعد لتھونین (5.2%) اور فلپائنی (4.5%) ہیں۔

36 سالہ "پولش ٹامش شراپیک 11 سال قبل یہاں آئے تھے اور وہ اپنے ہم وطنوں سے منسلک ایک پراجیکٹ: پولسکا سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'جب ہم یہاں آئے، ہم نے دنوں میں کام حاصل کر لیا۔ یہ آئس لینڈ بحران سے پہلے تھا۔' .

آئس لینڈ‌ میں معاشی بحران سنہ 2008 میں آیا تھا، جب ملک کے تین کمرشل بینک دیوالیہ ہوگئے، جس سے معاشی زوال آیا اور مائیگریشن میں بھی کمی دیکھی گئی۔

اس کے باوجود اس ملک نے اس پر قابو پایا اور سنہ 2011 تک اس کی جی ڈی پی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

سنہ 2012 کے بعد سے بیرون ملک سے آنے والے ہنر مند افراد کی تعداد میں تاریخی اضافہ ہونا شروع ہوا اور سیاح بھی آنے لگے۔

حال ہی میں آئس لینڈ‌ میں سیاحت میں اضافہ دیکھا گیا ہے بالخصوص سنہ 2010 اور سنہ 2017 کے درمیان یہاں یہاں سیاحوں کے قیام میں تین گنا اضافہ ہوا۔

ایک سیاحتی گائیڈ اور مترجم سسیٹ ٹیرزاس کہتے ہیں کہ 'آپ ریکیاوک میں ایک کے بعد دوسرا ہوٹل بنتے دیکھ سکتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'اور یہ بہت اچھا ہے کہ اس طرح اس تنہائی کے شکار معاشرے میں تنوع بڑھ رہا ہے، اگرچہ ہر مقامی شخص یہاں بڑھنے والی سیاحت سے خوش نہیں ہے۔'

مادرِ وطن

آئس لینڈ زیادہ تر تارکینِ وطن کے لیے صرف ایک نوکری کی جگہ نہیں بلکہ ان میں سے اکثر اس خیال سے متفق ہیں کہ وہ یہاں اپنا خاندان آباد کرنا چاہیں گے۔

35 سالہ ازابیلا سوبزیک تین سالہ بچی کی والدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بطور ایک والدہ مجھے لگتا ہے کہ میرا خیال رکھا جا رہا ہے۔ یہاں آپ کے بچوں کے لیے بہت مواقع ہیں۔ اگر آپ تنہا والدہ ہیں تو حکومت آپ کی مدد کرتی ہے اور سکول تو بہترین ہیں۔‘

آئس لینڈ میں پرائمری تعلیم بہترین ہے اور اس کا ثبوت یہی ہے کہ آئس لینڈ دنیا کی سب سے خواندہ اقوام میں فن لینڈ اور ناروے کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

سپین سے تعلق رکھنے والی ازاہارا بیجارانو کا کہنا ہے کہ ’یہ ملک بہت محفوظ بھی ہے اور جب آپ اپنے بچوں کی پرورش ایک اچھے ماحول میں کرنا چاہیں تو یہ ایک بہت اچھی بات ہے۔‘

عالمی امن انڈیکس میں آئس لینڈ کو مسلسل دنیا کا سب سے پرامن ملک قرار دیا جاتا رہا ہے۔

یہاں قتل کے واقعات کی شرح سب سے کم ہے اور 2017 میں یہاں 1999 کے بعد چوری کی سب سے کم وارداتیں ہوئی تھیں۔

زبان ایک بڑا مسئلہ

تاہم معاشرے میں گھل مل جانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا اور تارکینِ وطن اس خیال سے متفق ہیں۔

معاشرے کا حصہ بننے کے لیے ان کا آئس لینڈ کی زبان بولنا ضروری ہے اور یہ زیادہ تر غیرملکیوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ٹوماز چراپک کہتے ہیں کہ ’آئس لینڈرز میں یہ خوف موجود ہے کہ ان کی زبان ایک اقلیتی زبان ہے اور وہ اسے کھو سکتے ہیں۔ ان کی ساری ثقافت اسی کے گرد گھومتی ہے۔ آپ لوگوں کو گھبراتا ہوا محسوس کر سکتے ہیں اگر وہ کسی کو کوئی اور زبان بولتا سن لیں۔‘

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ہریانتی نوویتا سیلر 18 برس قبل شادی کے بعد آئس لینڈ آئیں لیکن انھیں آج بھی زبان کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اِن کی زبان بہت مشکل ہے۔ میں نے تربیت لی ہے لیکن یہ سیکھنا قریباً ناممکن ہے۔‘

نورڈک زبان کو سیکھنے کے لحاظ سے دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ پیچیدہ گرامر اور مشکل حروفِ تہجی ہیں۔

رائیکاوک میں کام کرنے والی پولش فنکار وایولا اجازدوسکا کا کہنا ہے کہ ’بنیادی چیزیں سیکھنے کے بعد بھی بہت ہی مشکل کام ہے اور اگر آپ زبان نہیں بولتے تو آپ کے لیے کچھ نوکریوں کا حصول تو بس خواب ہی ہے۔‘

نئے آنے والوں میں سے بہت سے شاکی ہیں کہ انھیں دیگر مغربی ممالک کی طرح کم تنخواہ والی نوکریاں دی جاتی ہیں اور ان کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کی جاتی۔

جنھیں ان کی صلاحیت کے مطابق نوکری مل بھی جاتی ہے وہ معاشرے میں ضم ہونے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکہ سے آئس لینڈ آنے والے پولش امریکی مکیگ چیملسکی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بہت ہی جڑا ہوا معاشرہ ہے جس میں جگہ بنانا بہت مشکل ہے۔‘

وقت بدل رہا ہے

تاہم غیرملکیوں کی آمد کے ساتھ ہی حکومت نے بھی اپنی پالیسیاں بدلنا شروع کی ہیں۔

2010 سے ریاکاوک میں ایک کثیرالثقافتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے چھ ارکان ایسے ہیں جن کا جنم آئس لینڈ میں نہیں ہوا اور انھیں بطور مشیر منتخب کیا جاتا ہے تاکہ وہ تارکینِ وطن کے معاملات پر شہر کی انتظامیہ کی مدد کر سکیں۔

اس کونسل میں شامل کیوبا سے تعلق رکھنے والے تامیلا گامیز کہتے ہیں کہ ’ہم تارکینِ وطن اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔‘

مکانات کی کمی، مہنگائی اور معاشرے میں گھلنے ملنے میں مشکلات وہ مسائل ہیں جو اس وقت تارکینِ وطن کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔

گامیز کہتے ہیں کہ ’حکام کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ انھیں تبدیلی لانا ہو گی اور ردعمل دینا ہوگا کیونکہ یہ ملک جو کبھی دنیا سے الگ تھلگ تھا اب بدل رہا ہے۔‘

بزنس آئس لینڈ کی حالیہ پیشگوئیوں کے مطابق 2040 تک ملک کی 20 فیصد آبادی غیر ملکی تارکینِ وطن پر مشتمل ہو گی۔

نوویتا سیلر کہتی ہیں کہ ’کیا یہ ہمارے لیے سب سے دوست ملک ہے؟ میں نہیں جانتی مگر میں یہاں بہت پرمسرت زندگی گزار رہی ہوں۔‘

گامیز اور دیگر افراد بھی ان سے متفق ہیں۔ ہمارے لیے یہاں مواقع ہیں۔ ہم کیوں نہ آئس لینڈ کو اپنا وطن بنانا چاہیں گے۔