آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جرمنی: گاڑی کو راہگیروں پر چڑھا دیا،دو افراد ہلاک
جرمنی کے شہر مونسٹر میں ایک وین ڈرائیور نے مقبول ریستورانوں کے باہر بیٹھے لوگوں پر گاڑی راہگیروں پر چڑھا دی جس سے کم از کم دو افراد کچل کر ہاک ہو گئے، جب کہ ڈرائیور نے خودکشی کر لی۔
پولیس نے ڈرائیور کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم کہا ہے کہ وہ جرمن شہری تھا۔
اطلاعات کے مطابق کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ یہ حملہ کسی اسلامی شدت پسند نے کیا ہے۔
وزیرِ داخلہ ہربرٹ روئل نے کہا کہ اس واقعے میں دو افراد کچل کر ہلاک ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے اس سے قبل تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔
وفاقی حکومت کے نائب ترجمان نے واقعے میں متاثرہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک سلیٹی رنگ کی ووکس ویگن گاڑی ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق تین بجے اوپن ریستوران کے علاقے میں آئی۔
عینی شاہدوں کے مطابق گاڑی تیز رفتاری سے لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ تصاویر میں اس مقبول سیاحتی مقام پر کرسیاں اور میزیں بکھری ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک کیفے کی ملازمہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس نے ٹکر کی آواز سنی اور دیکھا کہ لوگ چیخ رہے ہیں۔
حملے کے محرکات کا علم نہیں ہو سکا، تاہم جرمن میڈیا نے کہا ہے کہ ملزم دماغی بیماری میں مبتلا تھا۔
شہر میں ایک اور جگہ پولیس نے ایک اپارٹمنٹ کی تلاشی لی ہے۔
ایک عینی شاہد ڈینیل کولن برگ نے بی بی سی کو بتایا: 'میرے خیال یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا کیوں کہ اس علاقے میں گاڑیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔'