آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاق میں اپنی اہلیہ اور داماد کے بارے میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کی شب سالانہ عشائیے کے موقع پر کی جانے والی تقریر میں وائٹ ہاؤس میں ’افراتفری‘ اور اپنی اہلیہ اور ساتھیوں کا مذاق اڑایا۔
انھوں نے واشنگٹن ڈی سی میں سیاست دانوں اور صحافیوں سے کہا ’اپنا ہی مذاق مجھ سے بہتر کوئی نہیں اڑا سکتا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی کلیئرنس کا درجہ کم کر دیے جانے پر ان کا بھی مذاق اڑایا۔
امریکی صدر نے کہا ’ آج رات ہمیں اس لیے دیر ہو گئی کیونکہ جیرڈ کشنر کی سکیورٹی کلیئر ہونے میں مسئلہ ہو رہا تھا۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی کلیئرنس کا درجہ کم کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
37 سالہ کشنر ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کے خاوند ہیں اور انھیں صدر کو روزانہ پیش کی جانے والی خفیہ رپورٹس تک رسائی حاصل تھی لیکن اب انھیں ٹاپ سیکرٹ سکیورٹی بریفنگز نہیں دی جا رہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عشائیے کے موقع پر کئی افراد کو نشانہ بنایا جن میں امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز بھی شامل تھے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر انھیں معلوم ہوتا کہ وہ اُن کے روس کے ساتھ ممکنہ تعلقات کے حوالے سے کی جانے والے تحقیقات میں خود کو بچانے کی کوشش کریں گے تو وہ کبھی بھی جیف سیشنز کو تعینات نہ کرتے۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان افراد کا بھی مذاق اڑایا:
امریکی نائب صدر مائیک پنس: ’میں انھیں اپنا شاگرد کہنے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔ لیکن آج کل وہ خاص طور پر خبروں میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ آج کل وہ پوچھ رہے ہیں کہ ’کیا ابھی تک ان کا مواخذہ نہیں کیا گیا؟ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کو چھوڑ کر جانے والے: ’آج کل سب یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کو چھوڑ کر جانے والا اگلا شخص کون ہو گا؟ سٹیو مِلر یا ملانیا؟‘
دی نیویارک ٹائمز: ’میں نیویارک آئیکون ہوں، آپ نیویارک آئیکون ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ میں اب بھی اپنی عمارتوں کا مالک ہوں۔‘
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان: ’جہاں تک ایک پاگل آدمی سے نمٹنے کا خطرہ ہے، یہ اس کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق اس عشائیے سے پہلے سنیچر کو ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے اُن اقدامات کی تعریف کی جس سے وہ اپنی صدارت کو 2023 کے بعد بھی توسیع دے سکیں گے۔
سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ اب عمر بھر صدر رہیں گے۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شاید ہمیں بھی کسی دن ایسا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔‘
خیال رہے کہ چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے آئین میں اس شق کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت ایک شخص مسلسل دو بار ہی پانچ پانچ برس کی مدت کے لیے صدر منتخب ہو سکتا ہے۔
اس تجویز کی منظوری کی صورت میں چین کے صدر شی جن پنگ اپنی صدارت اقتدار کے دو ادوار کے بعد بھی صدر رہ سکیں گے۔