کمبوڈیا: فحش فلمیں بنانے کے الزام میں سات سیاح ملک بدر، تین پر مقدمہ دائر

جنوب مشرقی ایشا کے ملک کمبوڈیا میں مبینہ طور پر پورن فلمیں بنانے کے الزام میں سات غیر ملکی سیاحوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے جبکہ تین پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

دس سیاحوں پر مشتمل اس گروہ کو جنوری میں اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک محفل کی نازیبا تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تھیں۔

ملک بدر کیے جانے والے سیاحوں کا تعلق برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینیڈا سے ہے اور گذشتہ ہفتے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد انھیں کمبوڈیا سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔

برطانیہ، ناروے اور نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے تین سیاحوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر محفل منعقد کرنے کے جرم میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

تمام دس غیر ملکی سیاحوں نے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ ہی برہنہ تھے اور نہ ہی پورنوگرافی پر مبنی مواد تیار کیا جا رہا تھا۔

ملک بدر کیے جانے والے سات افراد کو کمبوڈیا چھوڑنے اور واپس نہ آنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اُن پر عائد الزامات ختم نہیں کیے گئے۔

اس پارٹی کے بارے میں آنے والی تصاویر ایک ویب سائٹ پر جاری کی گئے جس میں لوگ مختصر لباس میں بظاہر جنسی حرکات کر رہے ہیں۔

یہ پارٹی کمبوڈیا کے سیاحتی مقام اینکورواٹ کے قریب واقع قصبے میں منعقد ہوئی ہے۔

کمبوڈیا کا معاشرہ قدرے قدامت پرست ہے لیکن اس علاقے میں سیاحوں کی بھیڑ کی وجہ سے یہاں کی نائٹ لائف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔