امریکہ کی افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے منسلک چھ افراد پر پابندی

امریکہ نے پاکستان سے شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے افغان طالبان اور حقانی نیٹ سے منسلک چھ افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان چھ میں سے پانچ افراد طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے لیے رقوم اور سازو سامان اکٹھا کرتے اور کارروائیوں میں مدد فراہم کرتے تھے جبکہ چھٹا شخص طالبان کےعسکری امور کا سینیئر اہلکار ہے۔

ان پابندیوں کے بعد امریکہ میں کوئی فرد یا کمپنی ان کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان میں سے دو افراد پاکستانی جبکہ پاکستان میں مقیم چار افغان شہری ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قائم مقام ڈپٹی سیکریٹری خزانہ سگل منڈیلکر نے کہا کہ ’ہم طالبان یا حقانی نیٹ ورک سے متعلقہ چھ افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اتحادی افواج پر حملوں، افراد کی سمگلنگ یا ان دہشت گرد گروہوں کو مالی مدد فراہم کرنے سے منلسک رہے ہیں۔‘

ان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی حکومت طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کے خاتمے اور دہشت گردوں کی رقوم جمع کرنے کو شدت سے نشانہ بنانے کے لیے ہمارے ساتھ کام کرے۔‘

محکمۂ خزانہ کے مطابق بلیک لسٹ کیے گئے چھ افراد میں عبدالقدیر بصیر، حافظ محمد پوپلزئی، گلا خان حامدی اور مولوی عنایت اللہ پاکستان میں مقیم افغان شہری ہیں جبکہ فقیر محمد اور عبدالصمد ثانی پاکستانی ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جن افغان طالبان پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں عبدالقدیر بصیر، عبدالصمد ثانی اور حافظ محمد پوپلزئی شامل ہیں جو طالبان فنانس کمیشن گل آغا اشکزئی کے زیر اثر کام کرتے تھے۔

چوتھے شخص مولوی عنایت اللہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ طالبان کے عسکری امور کے ذمہ دار ہیں ور 2016 تک وہ کابل میں افغان اور اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

دیگر دو افراد فقیر محمد اور گلا خان حامدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کو پھیلانے سمیت رقوم اور جنگجؤوں کو مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں بھیجنے میں مدد فراہم کی تھی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکہ نے پاکستان پر دباو بڑھاتے ہوئے اس کی عسکری معاونت کی مد میں دی جانے والی رقوم روک لی تھی جس کا تخمینہ تقریبا دو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔