سعودی عرب میں خواتین گاڑی کے علاوہ موٹر سائیکل اور ٹرک بھی چلا سکیں گی

سعودی خواتین

،تصویر کا ذریعہReuters

سعودی عرب میں ٹریفک قوانین میں ترمیم کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت خواتین کو گاڑی کے ساتھ اب موٹر سائیکل اور ٹرک تک چلانے کی اجازت ہو گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کو گاڑیوں کے علاوہ ٹرک اور موٹر سائیکل چلانے کی اجازت بھی ہو گئی۔

سعودی عرب کے ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے پر نئے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں جو خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم ہونے پر نافذ ہوں گے یا ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں خواتین پر لاگو سختیاں آہستہ آہستہ کم

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک کا کہنا ہے کہ’ ہم خواتین کو موٹر سائیکل کے ساتھ ساتھ ٹرک چلانے کی اجازت دے رہے ہیں اور شاہی فرمان میں صاف صاف کہا گیا تھا کہ ڈرائیونگ سے متعلق قوانین مردوں اور خواتین کے لیے برابری کی سطح پر ہوں گے۔‘

ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک کا مزید کہا ہے کہ خواتین ڈرائیورز کے لیے خصوصی نمبر پلیٹس جاری نہیں کی جائیں گی تاہم حادثات یا دیگر ٹریفک خلاف ورزی میں ملوث پائی جانے والی خواتین کے لیے خصوصی سینٹرز بنائے جائیں گے جن کا عملہ بھی خواتین پر ہی مشتمل ہو گا اور ٹریفک خلاف ورزیوں کو دیکھے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس ستمبر میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے شاہی فرمان جاری کیا تھا جس میں خواتین کو ملک میں پہلی بار گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق پابندی ہٹائے جانے سے متعلق یہ حکم 24 جون 2018 تک ہر صورت میں نافذالعمل ہو جائے گا اور اس کے ساتھ شاہی فرمان میں ٹریفک قوانین میں ترمیم کی ہدایت دی گئی تھی۔

سعودی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اب تک سعودی عرب میں صرف مردوں کو ہی گاڑی چلانے کے لائسنس ملتے تھے اور جو خواتین عوامی مقامات پر گاڑی چلاتی تھیں انھیں گرفتاری اور جرمانے کا خطرہ رہتا تھا۔

سعودی عرب میں خواتین پر لاگو سختیاں آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں۔

سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے

ملک کے نظام کے تحت خاندان کے مرد جو کہ عمومی طور پر باپ، بھائی یا شوہر ہی صرف خواتین کو اجازت دے سکتے ہیں اگر وہ پڑھائی کرنا چاہیں یا سفر کرنا چاہیں یا کوئی اور کام کرنا شروع کریں۔

لیکن سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد خواتین کو اگلے سال جون تک گاڑی چلانے کی اجازت مل جائے گی اور اگلے سال سے ہی خواتین کو کھیلوں کے میدان میں جانے کی بھی اجازت مل جائے گی۔