آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپین کی مرکزی حکومت کا کاتالان خطے پر براہ راست حکومت کرنے کا فیصلہ
سپین کے وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے کاتالونیہ کی علاقائی پارلیمان کی جانب سے آزادی کے اعلان کے کچھ دیر بعد کاتالونیہ کی پارلیمان کو تحلیل کر کے فوری مقامی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے کہا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے غیر معمولی طور پر براہ راست حکومت نافذ کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کاتالونیہ کے رہنما کارلیس پوگیمونٹ اور ان کی کابینہ کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے پہلے کاتالونیہ کی علاقائی پارلیمان نے اسمبلی میں رائے شماری کے بعد سپین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔
سپین سے آزادی کے سوال پر ووٹنگ میں آزادی کے حق میں 70 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 10 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
آزادی کے حق میں ووٹنگ کے بعد سپین کے وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے سینیٹروں کو بتایا تھا کہ کاتالونیہ میں 'جمہوریت، قانون اور استحکام' کے لیے ضروری ہے کہ وہاں براہ راست حکومت کی جائے۔
وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے اب مقامی پارلیمان کو تحلیل کرنے کے علاوہ کاتالونیہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کاتالونیہ کی پارلیمان کے نئے ارکان منتحب کرنے کے لیے انتخابات 21 دسمبر کو ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ کاتالونیہ کے لوگوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا تھا لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون سے بلاتر ہو کر اپنے مطابق فیصلہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وزیراعطم راجاؤے کی جانب سے پولیس کے سربراہ کو معطل کیے جانے کے فیصلے پر عمل درآمد کس طرح ہو گا اور اس پر کاتالونیہ کی 17 ہزار اہکاروں پر مشتمل ایک مضبوط پولیس فورس کا کیا ردعمل ہو گا۔
کاتالونیہ کے بحران کے بارے میں مزید پڑھیے
کاتالونیہ کا بحران اس ماہ کے اوائل میں عروج پر پہنچ گیا تھا جب علاقائی حکومت نے آزادی کے حق کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا۔
کاتالونیہ کی حکومت کے مطابق ریفرنڈم میں 90 فیصد رائے دھندگان نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا تھا لیکن سپین کی مرکزی عدالت نے اس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
کاتالونیہ کی پارلیمنٹ کے ووٹ کے بعد سپین کے وزیر اعظم نے سپین کے عوام کو امن برقرار رکھنے کو کہا اور وعدہ کیا کہ وہ کاتالونیہ کی قانونی حیثیت کو قائم رکھیں گے۔