'کاتالونیہ کی آزادی کے اعلان کا کوئی اثر نہیں ہوگا'

سپین کے وزیراعظم ماریانو رخوئے نے متبنہ کیا ہے کہ کاتالونیہ کی جانب سے آزادی کے اعلان کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا وہ اس خطے کی خودمختاری کو معطل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ال پائس اخبار کے ساتھ انٹرویو کے دوران ماریانو رخوئے نے اس بحران کے حل کے لیے کسی ثالثی کو بھی مسترد کر دیا۔

سنیچر کو میڈرڈ میں ہزاروں افراد نے سپین کے اتحاد کے حق میں ریلیاں نکالی تھیں جبکہ ایسا ہی ایک مظاہرہ بارسیلو میں بھی منعقد کیا گیا ہے۔

ملک کے شمال مشرقی اور قدرے امیر علاقے کاتالونیہ میں ہونے والے ریفرینڈم کے حتمی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ 23 لاکھ ووٹروں میں سے 90 فیصد نے آزادی کے حق میں ووٹ دیے۔

خیال رہے کہ ووٹ دینے کی شرح 43 فیصد تھی۔

اس ریفرنڈم کے حوالے سے سپین کی حکومت کی جانب سے بدانتظامی کے بہت سے دعوے کیے گئے ہیں اور سپین کی پولیس نے کئی بیلٹ باکس کو ضبط کیا تھا۔

ووٹنگ پر پابندی کے عدالتی فیصلے کو نافذ کرنے اور ووٹروں کو بھگانے کی کوشش میں تقریباً نو سو افراد زخمی ہوئے۔ اس میں 33 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

ال پائس کے ساتھ انٹرویو میں ماریانا رخوئے نے کہا ’حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ آزادی کے کسی بھی اعلان کا نتیجہ کچھ نہ نکلے۔‘

جب ان سے یہ دریافت کیا گیا کہ کیا وہ سپین کے آئين کی دفعہ 155 کا استعمال کریں گے جس کے تحت قومی پارلیمان کو کسی بھی خود مختار علاقے کی حکومت کے کام کاج میں مداخلت کا اختیار ہے، تو انھوں نے کہا ’ہم قانون میں آنے والی کسی بھی چیز کو قطعی طور پر مسترد نہیں کر رہے ہیں۔‘

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ان کا ریفرینڈم سے قبل کاتالونیہ میں اضافی پولیس تعینات کرنے کا منصوبہ تھا جو بحران کے اختتام تک تعینات رہتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے دوران قومی انتخابات قبل از وقت کرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کاتالونیہ کے صدر کارلس پوئیمونٹ اب علاقائی پارلیمان میں منگل کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے خطاب کریں۔ اس سے قبل سپین کی آئینی عدالت نے پیر کو ہونے والے کاتالونیہ کی پارلیمان کے اجلاس کو معطل کر دیا تھا۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگلے اجلاس میں کاتالونیہ یکطرفہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دے گا۔

دریں اثنا کاتالونیہ کے سابق رہنما آرتھر ماس نے فینینشیئل ٹائمز کو بتایا کہ ہر چند اس نے علیحدگی کا حق جیت لیا ہے تاہم یہ خطہ ابھی آزادی کے لیے تیار نہیں ہے۔

سنیچر کو دارالحکومت میڈرڈ میں ہزاروں افراد نے سپین کے اتحاد اور یکجہتی کے حق میں ریلی نکالی۔ ایسے ہی مظاہرے کاتالان کے شہر بارسیلونا میں بھی منعقد ہوئے جن میں سیاسی مذاکرات منعقد کرنے پر زور دیا گیا۔

دوسری جانب سیاسی عدم استحکام کے باعث بہت سے کاروباری مالکان کی جانب سے بارسیلونا سے اپنے کاروبار منتقل کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔