عراقی کردستان کے ریفرنڈم میں داؤ پر کیا لگا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, مائیکل نائٹس
- عہدہ, واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی
25 ستمبر، عراق میں کردوں کے زیر انتظام علاقوں کے رہائشیوں کے لیے وہ دن ہے جب انھیں مستقبل کے عراقی خطہ کردستان یا کے آر آئی کے بارے میں اپنی رائے دینے کا موقع دیا جا رہا ہے جو عراق کی موجودہ سرحد کے اندر ہی ایک نیم خود مختار علاقہ ہوگا۔
ریفرنڈم کے بیلٹ میں پوچھا جا رہا ہے ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ خطہ کردستان اور خطے کی انتظامیہ کی حدود سے باہر کردستانی علاقے آزاد ہو جائیں ؟‘
جہاں ووٹنگ ہو رہی ہے وہاں اکثریت نسلاً کرد ووٹروں کی ہے جن کی تاریخ ہے کہ وہ اپنے لیے خود مختاری چاہتے ہیں، تو نتیجہ ممکنہ طور پر ’ہاں‘ میں ہی آئے گا۔
البتہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کردوں کے زیر انتظام علاقوں کے رہائشی کیا فیصلہ کرتے ہیں، ریفرنڈم کا فوری طور پر کوئی انتظامی اثر نہیں پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر عراق کا کوئی حصہ ملک سے علیحدہ ہوجائے، ریفرنڈم سے ’کیگزٹ‘ جیسا اثر نہیں پڑے گا جیسے برطانیہ میں حال ہی میں ہونے والا ریفرنڈم تھا جس کے نتیجے میں ’بریگزٹ‘ کا عمل شروع ہوا۔
تو کوئی بھی پوچھ سکتا ہے کہ پھر اس وقت ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟
ریفرنڈم کی وجوہات
یقیناً کردستان کی مقامی سیاست نے ریفرینڈم کے وقت کا تعین کیا ہے۔ کے آر آئی کے صدر مسعود برزانی نے اپنے دور حکومت سے تجاوز کیاہے اور وہ یکم نومبر کو طے شدہ کے آر آئی کے اگلے انتخابات کے دوران اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل علامتی طور پر آزادی کا عمل شروع کرنا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریفرینڈم کی ایک اور وجہ کردوں کے لیے تازہ مینڈیٹ حاصل کرنا ہے تاکہ آخر میں مذاکراتی عمل کے ذریعے عراق سے نکلنے اور اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ ریاست کے حصول کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکے۔ ایسا اگلے پانچ سے 10 سالوں کے دوران ہو سکتا ہے۔
کے آر آئی اس وقت سے خود مختار تھا جب 1991 میں جنگ خلیج کے دوران صدام حسین کی فورسز کو شمالی عراق کے چند علاقوں سے واپس بلایا گیا، کردوں نے اپنی پارلیمان بنائی، وزارتیں اور مسلح افواج تشکیل دی۔ یہاں تک کہ انھوں نے سکہ بھی صدام حسین کے عراق سے مختلف استعمال کیا اور صدام کی تیل سے حاصل ہونے والے آمدنی سے 17فیصد اقوام متحدہ کے تحت کرائے جانے والے معاہدے کی رو سے حاصل کیا۔
ماضی میں جھانکیں تو زیادہ تر کرد اس انتظام سے خوش تھے۔ بلکہ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کی وجہ سے عراق میں عارضی طور پر دوبارہ شامل ہوئے۔ ان وعدوں کے جواب میں کہ کے آر آئی نیم خود مختار علاقے کے طور پر کام کرئے گا، انھیں تیل سے حاصل ہونے والی وفاقی آمدنی سے فنڈز ملتے رہے اور بغداد کی وفاقی حکومت سے علیحدگی سمیت مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کی حتمی تبدیلی کا عمل بھی شروع ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب بغداد نے کے آر آئی کی نیم خود مختار حیثیت پر لڑائی شروع کر دی اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ عراقی خطہ کردستان کے صدر مسعود برزانی نے حال ہی میں عراق میں رہنے کے فیصلے کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیا تھا۔
گذشتہ 14 برسوں میں کردوں نے ان علاقوں کو وسعت دی ہے جو ان کے زیر انتظام ہیں تاکہ کئی ایسے علاقوں کا احاطہ کیا جا سکے جہاں تیل کے ذخائر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جہاں غیر کردوں کی اکثریت رہائش پزیر ہے جیسے کہ صوبہ کرکوک۔کردوں نے عالمی سرمایہ داروں کی توجہ حاصل کرکے تیل کی برآمد چھ لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھا لی ہے اور تیل عراق ترکی پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم کے ٹرمینلز تک برآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ محصور اور ریاست سے محروم افراد کی ایک حیرت ناک کامیابی ہے جنھیں مشکوک قوموں نے گھیرا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن کے آر آئی اب بھی کسی بھی ریاست کی لازمی خصوصیات سے محروم ہے۔ یہ خطہ قابل قبول شرح سود پر خود مختار قرضہ جات حاصل نہیں کر سکتا یا اسلحے کی خریداری کے لیے اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ ریاستوں کی طرح اینڈ یوزر سرٹیفکیٹس حاصل نہیں کر سکتا۔ کردوں کی تیل کی فروخت کو وقتاً فوقتاً بغداد کی جانب سے قانونی چیلینجز کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ کردوں کو عراقی پاسپورٹ پر سفر اور عراقیوں کی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ کے آر آئی وفاقی دارالحکومت بغداد کے مقابلے میں خاصا محفوظ علاقہ ہے۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
کے آر آئی کے رہنما اب ممکنہ طور پر اس معاملے کو ریفرینڈم کے ذریعے آگے بڑھائیں گے کیونکہ عراق، ترکی اور عالمی برادری وعدوں اور دھمکیوں کے موثر مجموعے کو تیار کرنے میں ناکام ہوئے ہیں تاکہ آزادی کی منسوخی کو روکا جا سکے۔
ترکی بہرحال ریفرینڈم کی مخالفت کرے گالیکن شائد سرحدیں اور کردستان کی تیل کی اہم امدنی بند نہ کرے۔ ایران، عراق کی وفاقی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی جانب سے امکان نہیں ہے کہ وہ اعلی طرز پر تیار کیے جانے والے کرد دفاعی نظام کو کوئی سنگین نقصان پہنچائیں گے۔ کئی اعلیٰ عراقی سیاست دانوں نے مجھ سے ذاتی حیثیت میں اعتراف کیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کے آر آئی سست روی سے ایک آزاد ریاست بن رہا ہے۔ لیکن کوئی عراقی رہنما عوامی سطح پر یہ نہیں کہہ سکتا ایسے میں جب اگلے سال اپریل یا مئی کے مہینے میں مقامی اور قومی سطح کے الیکشنز ہونے والے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہSADIKGULEC
کوئی عراقی وزیر اعظم اپنی موجودگی میں عراق کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ ترکی اور ایران کو خوف ہے کہ ’ہاں‘ کا ووٹ ان کے ملکوں کی کرد اقلیت کو بھی حوصلہ دے گا۔
ایسی باتیں 2003 سے اب تک کی جا رہی ہیں۔
اس سب کا یہ مطلب ہے کہ کیا ریفرنڈم کے بعد کا دن شائد بالکل ویسا ہی ہو جیسا اس سے پہلے والا تھا۔ کردستان کی آزادی کا ریفرنڈم بھی شائد اسی طرح دلچسپ اور زبردست ہو لیکن اسکے بعد آنے والا دن موسم کے مخالف ہوگا۔







