عمارتیں جو کبھی بہترین فن تعمیر کا نمونہ تھیں

،تصویر کا ذریعہARCHIVE DANIEL FERNÁNDEZ-SHAW
سنہ 1970 میں وینزویلا اور اس کے دارالحکومت كراكس کا منظر بڑا ہی خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی عمارتیں جدت اور اس کی شان کی علامت سمجھی جاتیں تھیں۔
كراكس کی کشادہ سڑکیں اور فن تعمیر کا نمونہ کہی جانے والی فلک بوس عمارتیں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔
1960-70 کے عشرے میں خام تیل سے ہونے والی آمدنی کی وجہ سے كراكس کا شمار لاطینی امریکہ کے سب سے جدید شہروں میں ہوتا تھا۔ گذشتہ منگل کو كراكس کے قیام کے 450 برس مکمل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / IAM VENEZUELA ARCHIVE
جب 1983 میں ٹریزا كارینو تھیئٹر کا افتتاح ہوا تو اس وقت یہ لاطینی امریکہ کے بہترین فن تعمیر کے نمونوں میں سے ایک تھا لیکن 20 ویں صدی کے آغاز میں اس شہر کو صرف اسی وجہ سے اہمیت حاصل نہیں تھی بلکہ اس کی کئی دیگر وجوہات تھیں۔
آج یہ ملک معاشی تنگی کے دور سے گزر رہا ہے اور برسوں قبل تعمیر ہونے والی یہ عمارت اپنی بحالی نو کے لیے وقت سے نبردآزما ہے۔

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / ARCHIVE: IAM VENEZUELA
1950 میں تعمیر ہونے والے یہ 32 منزلہ ٹاورز شہر کی سب سے پہلی فلک بوس عمارتیں تھیں۔ كراكس شہر کے وسط میں تعمیر کیے گئے ان ٹوئن ٹاورز میں 32 منزلیں تھیں جو 100 میٹر سے بھی زیادہ بلند تھے۔
'ٹاورز آف دی سائلینس' کے نام سے معروف ان عمارتوں کو دیہی طرز زندگی سے جدید شہروں کی جانب بڑھنے کی پہلی کڑی کے طور پر سمجھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہCOPYRIGHT ARCHIVEPHOTOURBANA
فن تعمیر کے ماہر ریکارڈو کاسٹیلو کے مطابق: 'ان دو عمارتوں نے كراكس کو پوری طرح سے تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ شہر کی پہلی سب سے اونچی اور ملک کی سب سے پہلی سٹیل سے بنی ہوئی عمارتیں تھیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1954 میں سمون بولیور سینٹر کو شہر کا اہم لینڈ مارک مانا جاتا تھا۔ آج بھی یہ عمارت ملک کی سیاسی ہلچل اور انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / ARCHIVE: IAM VENEZUELA

،تصویر کا ذریعہFILE URBAN PHOTOGRAPHY
اس عمارت کو سنہ 1950 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا لیکن اسے مکمل نہیں کیا جا سکا۔ آج یہ ادھوری عمارت بولیوارين انٹیلیجنس سروس، سیبن کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہاں کی جیلوں میں قیدیوں پر کئی طرح کے ظلم کیے گئے تھے۔
اس عمارت کو ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کے طور پر تعمیر کیا جا رہا تھا جس کے اندر چار کلومیٹر کا ریمپ موجود تھا۔ اس میں ہوٹل، تھیئٹر، دکانوں اور دفاتر کا تصور ایک ساتھ کیا گیا تھا۔
ریکارڈو کاسٹیلو بتاتے ہیں: 'یہ ایک شہر کے اندر ایک دوسرے شہر کو تعمیر کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تھا۔'

،تصویر کا ذریعہPIETRO PAOLINI / HELICOIDE PROJECT
دی ہیلی کائیڈ کے ایک جانب رہائشی علاقہ ہے۔ 1959 میں جب چلی کے شاعر یہاں آئے تھے تو انھوں نے کہا تھا 'یہ کسی معمار کے دماغ سے پیدا ہوئی سب سے خوبصورت ساخت میں سے ایک ہے۔' فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس کی تعمیر کے کام کو درمیان میں ہی روکنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFILE URBAN PHOTOGRAPHY
1970 کے دور میں وینزویلا کو 'سعودی وینزویلا' کہا جاتا تھا۔ 1969 میں یہاں دس ٹاورز بنانے کے لیے کام شروع ہوا جس میں سے آٹھ رہائشی عمارتوں اور دو دفاتر کے لیے تعمیر کیے گئے۔
1983 میں جب یہ عمارتیں تیار ہوئیں تو انھیں 'شہر کی شناخت' کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ان عمارتوں کو کاروباری نوجوانوں کے لیے بنایا گیا تھا اور ان کے اندر تمام طرح کی سہولیات کا انتظام کیا گیا تھا، کچھ اس طرح سے کہ عمارت میں آنے کے بعد باہر جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / IAM VENEZUELA ARCHIVE
كراكس ایک وادی کے علاقے میں بسا ہوا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ ملک کی نقل و حمل کی ضرورتیں بڑھتی جائیں گی اور گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے گلیوں میں ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے 1980 کی دہائی میں یہاں میٹرو ٹرین کا کام شروع کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / IAM VENEZUELA ARCHIVE

،تصویر کا ذریعہURBAN ARCHIVE

،تصویر کا ذریعہLUIS CHACÍN / IAM VENEZUELA ARCHIVE







