شام میں امریکی اتحادی طیاروں کو ہدف تصور کیا جائے گا: روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک شامی طیارے کو مار گرانے کے واقعے کے بعد روس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی طیاروں کو بطور ایک ہدف تصور کریں گے۔
امریکی قیادت میں شام میں لڑنے والے ممالک کے اتحاد کی جانب سے ایک شامی ایس یو۔ 22 طیارے نے امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا جو کہ شدت طسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف رقہ کے علاقے میں لڑ رہے تھے۔
شامی حکومت کے مرکزی اتحادی روس نے مزید کہا ہے کہ وہ ایسی صورتحال میں حادثات سے بچنے کے لیے بنائے گئے نظام میں کے تحت امریکہ سے تمام روابط منقطع کر رہا ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے قبل امریکی حکام نے اس نظام کے تحت روس کو مطلع نہیں کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ شام میں انھیں اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ مواصلاتی روابط قائم رکھنا اہم ہے۔
طیارہ مار گرانے کا واقعہ اتوار کی سہ پہر طبقہ شہر کے قریب پیش آیا جہاں امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تنظیم کے دارالحکومت رقہ میں نبرد آزما ہیں۔

روسی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ دریائے فرات سے مغرب میں اڑنے والے کسی بھی طیارے یا ڈرون کو روسی فورسز ایک ہدف تصور کریں گے۔
تاہم روس نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ طیاروں کو مار گرائے گا۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ شام کی فضائی حدود میں امریکی طیاروں کی پوزیشن بدل رہیں ہیں تاکہ امریکی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ 1999 میں کوسوو کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے کوئی جہاز مار گرایا ہو۔
اگرچہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کوئی شامی کوئی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہو تاہم دونوں جانب سے براہِ راست لڑائی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں امریکہ نے شامی حکومت کی حامی فورسز کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔ اس سے قبل مئی کے مہینے میں امریکہ نے شامی حکومت کی حامی افواج کے ایک قافلے پر بھی بمباری کی تھی۔









