جاپان کی حکومت نے بادشاہ کی دستبرداری کا قانون منظور کر لیا

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کی حکومت نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بادشاہ آکی ہیتو کو دستبردار ہونے کا حق حاصل ہو گا۔
83 سالہ بادشاہ آکی ہیتو نے گذشتہ برس اشارہ دیا تھا کہ وہ تخت سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی صعیف العمری کے باعث فرائض کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔
دو سو سال سے جاپان میں کوئی بادشاہ دست بردار نہیں ہوا۔
فی الوقت ملک کے قانون میں اب تک اس کی اجازت نہیں تھی لیکن نئی قانون سازی کے بعد بھی صرف مردوں کی جانشینی کا قانون تبدیل نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس وقت تحت کے صرف چار ہی وارث ہیں: آکی ہیتو کے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ ناروہیتو، شہزادہ فامی ہیتو، شہزادہ ہاشی ہیتو (فامی ہیتو کے بیٹے) اور بادشاہ کے چھوٹے بھائی شہزادہ ماشا ہیتو۔
دستبرداری کا یہ قانون اب جاپان کی پارلیمان میں پیش کیا جائے گا جہاں سے امکان ہے کہ یہ اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا جائے گا۔
اس سے پہلے سنہ 1817 میں بادشاہ کوکاکو تحت سے دستبردار ہوئے تھے۔
جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشی ہیدے سوگا نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ’حکومت کو امید ہے کہ قانون سازی کا عمل نہایت آسان ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بادشاہ آکی ہیتو کے دل کی سرجری ہوئی تھی اور ان کا پروسٹیٹ کینسر کا علاج بھی کیا گیا۔ وہ 1989 میں اپنے والد ہیرو ہیتو کی کی وفات کے بعد سے تحت نشین ہیں۔ جاپانی عوام ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters







